نواز شریف: العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیر اعظم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں اپنی سزا کے خلاف نواز شریف کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر اُن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کردی۔

ججز نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو عدالت کی جانب سے دی گئی آٹھ ہفتوں کی ضمانت کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ اس لیے جب تک وہ سرینڈر نہیں کرتے ان کی استثنی کی درخواست منظور نہیں کر سکتی۔ ججز نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ملک کا عدالتی ڈھانچہ شدید متاثر ہوگا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کی طرف سے نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری سے متعلق فیصلے کی مصدقہ نقول حاصل کرنے کے بعد اسے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن بھجوایا جائے گا، جہاں پاکستانی حکام کو اس عدالتی حکم کی تعمیل کروانے کے بارے میں کہا جائے گا۔

ناقابل ضمانت گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد اگر کوئی شخص عدالت کی طرف سے مقرر کردہ تاریخ پر پیش نہیں ہوتا تو اس کے دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اشتہاری قرار دینے سے متعلق کارروائی شروع کر دی جاتی ہے۔

العزیزیہ سٹیل ملز کے فیصلے کے خلاف نواز شریف کی اپیل کی سماعت اب 22 ستمبر کو ہو گی جس میں حکام عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ پیش کریں گے۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی جانب سے دائر کردہ استثنیٰ درخواست کی باقاعدہ شنوائی سے قبل سابق وزیر اعظم کو 15 ستمبر تک عدالت کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم عدالتی ڈیڈ لائن کے اندر نواز شریف واپس نہیں آئے اور ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب ڈاکٹرز سابق وزیر اعظم کا علاج مکمل نہیں ہوتا اور ڈاکٹرز ان کو سفر کی اجازت نہیں دیتے اس وقت تک ان کا وطن واپس آنا ممکن نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سابق وزیر اعظم نے عدالت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ ان کے نمائندے کے ذریعے عدالت اس مقدمے کی کارروائی آگے بڑھا سکتی ہے۔ خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں یہ کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم کو جو آٹھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی، وہ اس میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ دیا گیا تھا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ لندن میں نواز شریف کی صحت سے متعلق تفصیلات معلوم کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت دائر کرنے سے پہلے سابق وزیر اعظم نے وفاقی حکومت نے سے رابطہ قائم کیا تھا اور ان سے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت طلب کی تھی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو دی گئی ضمانت پوری ہونے کے باوجود وہ کئی ماہ سے لندن میں مقیم ہیں اور عدالتی ریکارڈ میں ایسا کوئی بھی ایسی دستاویز موجود نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک میں مقیم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس عدالتی ریکارڈ پر صرف ان کے کنسلٹنٹس کی رائے موجود ہے۔ کسی ہسپتال کی دستاویزات اس ریکارڈ کا حصہ نہیں۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں مزید کہا چونکہ فروری سے برطانیہ میں کورونا وائرس کی صورتحال افسوسناک حد تک بڑھ چکی تھی اور کسی بھی مریض کو ہسپتال میں داخل نہیں کیا جا رہا تھا اس لیے ایسے حالات میں وہ ہسپتال میں نہیں گئے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خود ہی اپنے ہی میڈیکل بورڈ کی سفارشات کو مشکوک بنا دیا ہے۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان کی عدم موجودگی میں انھیں اشتہاری قرار دینے کے باوجود عدالت نے ان کے وکیل کو سنا۔ بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت ایسے حالات ہوں جس کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے ان کے وکیل کو درخواست کی پیروی کی اجازت دی تھی۔

عدالت نے نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ کیا سابق وزیر اعظم وطن واپس آ رہے ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جب تک ان کا علاج مکمل نہیں ہوتا اور ڈاکٹر انھیں سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتے، ان کا پاکستان واپس آنا ممکن نہیں ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ملک واپس لانے سے متعلق دعوی کیا ہے۔

آج کی سماعت سے متعلق عدالت اپنا تفصیلی فیصلہ آج شام جاری کرے گی جبکہ اس کیس میں آئندہ سماعت 22 ستمبر کو ہو گی۔

منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے پوچھا کہ کیا نواز شریف واپس پاکستان آ رہے ہیں یا نہیں؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ وہ نہیں آ رہے ہیں کیونکہ اُن کا علاج چل رہا ہے اور جب تک علاج مکمل نہ ہو جائے وہ واپس نہیں آئیں گے۔ جس کے بعد عدالت نے اس کیس میں اپنا مختصر فیصلہ سنا دیا۔

اس سے قبل بھی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی تھی کہ عدالت العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں اُن کے موکل کی اپیل پر اُن کی عدم موجودگی میں سماعت جاری رکھے کیونکہ نواز شریف کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ بیرون ملک سے اپنا علاج چھوڑ کر پاکستان میں عدالت کے روبرو پیش ہوں۔

چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز کے ریفرنس میں سزا کے خلاف میاں نواز شریف کی طرف سے دائر کردہ اپیل کی سماعت کے دوران حکم دیا تھا کہ پہلے وہ خود کو سرینڈر کریں جس کے بعد اُن کی اپیل پر سماعت ہو گی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے دی جانے والی ضمانت ختم ہو چکی ہے لہذا نواز شریف 10ستمبر تک اپنے آپ کو عدالت کے سامنے پیش کریں۔

گذشتہ سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں مجرم نواز شریف کو اشتہاری بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔

منگل کی سماعت کو عدالت نے نواز شریف کے وکیل کو کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا اپنا دائرہ کار ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ اپنے دائرے میں اس مقدمے کی سماعت کر رہی ہے، اب ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ ایک ہائی کورٹ سے ایک معاملے پر فیصلہ صادر ہوا تو متاثرہ فریق دوسری ہائی کورٹ سے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

گذشتہ سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست کے ساتھ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ ترین میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے جو کہ چار ستممبر کو جاری کی گئی تھی۔

اس سے پہلے عدالت میں سابق وزیر اعظم کی صحت کے بارے میں جو رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی وہ 26 اگست کی تھی۔

خواجہ حارث کے مطابق اس درخواست کے ساتھ ان کے موکل کے علاج کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس اور امریکہ میں ان کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر فیاض شال کی شفارشات بھی لف ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی حالت اس قابل نہیں ہے کہ وہ سفر کر سکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جب ان کا علاج مکمل ہو گا اور ڈاکٹر اُنھیں سفر کرنے کی اجازت دیں گے تو وہ واپس آ جائیں گے۔

اس درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو بیرون ملک اجازت دینے کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے اور اس عدالتی فیصلے میں وفاقی حکومت سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ سمجھے کہ مجرم نواز شریف کی صحت ٹھیک ہے اور وہ جان بوجھ کر وطن واپس نہیں آ رہے تو وفاقی حکومت ان کی ذاتی معالج سے رابطہ کر کے ان کی صحت کے حوالے سے مستند رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔