موٹر وے ریپ کیس: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ریپ کرنے والوں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے حامی

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ ملک میں ریپ اور بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے حامی ہیں اور اس سلسلے میں تازہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قتل کی طرح قانون میں جنسی جرائم کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے اور ریپ کے مرتکب مجرموں کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہیے۔
پاکستان کے وزیر اعظم کا یہ بیان پاکستان میں ریپ کے ایک حالیہ واقعے کے سخت ردعمل اور ملک کے مخلتف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ریپ کا یہ واقعہ لاہور کے قریب پیش آیا تھا جہاں دو افراد نے رات گئے سڑک کنارے اپنی گاڑی میں مدد کے انتظار میں موجود ایک خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ریپ کیا تھا۔
پاکستان کے وزیراعظم نے پیر کو نجی ٹی وی چینل 92 نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو ہلا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ملوث ایک ملزم ماضی میں گینگ ریپ میں ملوث رہ چکا ہے اور اس طرح کے لوگوں سے نمٹنے کے لیے تازہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ قتل کے مقدمات کی طرح ریپ کے جرم کے لیے بھی درجہ بندی کی جانی چاہیے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ریپ کے معاملے میں ’فرسٹ ڈگری‘ کا ارتکاب کرنے والوں کو آپریشن کے ذریعے ناکارہ کر دیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پڑھا ہے کہ ایسا دنیا کے کچھ ممالک میں بطور سزا کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب وہ حکومت میں آئے تھے تو ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے تناظر میں وہ سرِعام پھانسی کے حق میں تھے تاہم انھیں مشورہ دیا گیا کہ ایسا کرنے سے عالمی ردعمل ہو سکتا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا 'میرے خیال میں تو انہیں چوک میں لٹکانا چاہیے۔' عمران خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ اس جرم کے لیے سرعام پھانسی کے حق میں ہیں تاہم انہیں بتایا گیا ہے کہ ایسا کرنا پاکستان کے حق میں فائدہ مند نہیں کیونکہ یورپی یونین کی جانب سے بین الاقوامی تجارت کی اجازت معطل ہو جائے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات کا سامنا کرنے والوں کی نگرانی کا نظام بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس (حالیہ) واقعے میں ایک ملزم پہلے سے مقدمات میں ملوث ہے اس لیے ایسی قانون سازی ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا 'ایسے ملزمان پولیس کے پاس رجسٹرڈ ہونے چاہییں اور ان کی نگرانی کی جانی چاہیے۔'
یاد رہے کہ موٹر وے ریپ کیس کی بڑے پیمانے پر سماجی اور سیاسی حلقوں میں مذمت کی جا رہی ہے اور حزب اختلاف کی جانب سے حکومت اور پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ریپ کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی سزا کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔
تاہم پی ٹی آئی کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایسے مطالبات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے تشدد میں مزید اضافے کا سبب قرار دیا تھا۔
انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وزرا اور پڑھے لکھے طبقات کی جانب سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایسی باتیں کرنا ’ہمارے معاشرے کی متشدد سوچ کا عکاس ہے، جو تشدد کو ہر مسئلے کا حل سمجھتی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے جرائم کے لیے اسلامی سزاؤں کا مطالبہ کرنے والوں کو ان کے طریقہ کار کی پیچیدگیوں کا اندازہ نہیں اور یہ اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھ رہے ہیں۔
ان کے بقول مطالبہ کرنے والوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ’کسی کو بھی پکڑ کر لکٹایا جانا ممکن ہے۔ ‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قانون پہلے ہی منظور
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے یکم جولائی کو متفقہ طور ایک ترمیمی بل منظور کیا تھا جس میں بچوں سے ریپ کے مرتکب مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا سمیت دیگر سخت سزاؤں کی منظوری دی گئی تھی۔
اس بل کو قانون ساز اسمبلی میں پیش کرنے والے وزیر احمد رضا قادری کا کہنا تھا یہ قانون سخت ضرور ہے مگر اس کو ایسے جرم کے خلاف نافذ کیا جا رہا ہے جو انتہائی غیر انسانی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس بل میں دفعہ 377 اے میں ترمیم کی گئی ہے جس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے علاوہ سزائے موت اور عمر قید میں سے کوئی بھی ایک سزا دینے کی تین تجاویز ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اس بل کی منظوری پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس ترمیمی بل کو کابینہ سمیت قانون ساز اسمبلی سے منظور کرنا ایک مشکل فیصلہ تھا مگر قانون ساز اسمبلی کے اراکین نے اس جرم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسے متفقہ طور پر منظور کیا کیونکہ ان کے مطابق ’ہمارے پاس اس سخت قانون سازی کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا۔‘
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم انصار برنی ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی نے اس وقت بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس قانون سازی کی سخت سے سخت مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ قانون سازی انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
’آپ نے ایک ایسے ملک میں یہ قانون سازی کی ہے جہاں امیروں کے لیے الگ قانون، غیریبوں کے لیے الگ قانون اور حکمرانوں کے الگ قانون ہے۔ میرے نزدیک یہ نہ صرف مضحیکہ خیز ہے بلکہ انصاف کے ساتھ مذاق اور اس کا قتل ہے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’اس سے میرا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ایسا عمل کرنے والے شخص کو کوئی سزا نہ دی جائے۔ میرے نزدیک ایسے شخص عبرتناک سزا دیں اس کو عمر قید جیسی سزا دیں یا پھر ایسی سزا دیں جس سے اسے اس جرم پر شرمندگی ہو۔ آپ ایسے ملک میں یہ سزا منظور کر رہیں جہاں لوگ پیسے لیکر جھوٹی گواہی دیتے ہیں ایسی صورت حال میں کوئی بھی شخص اپنے مخالف کے خلاف کیس بچے کو کھڑا کر کے اسے یہ سزا دلوا سکتا ہے۔ ایسا جرم کرنے والے کو عبرتناک سزا دیں مگر سزا کا تماشا نہ بنائیں۔‘













