اوکاڑہ ملٹری فارمز تنازع: مہر عبدالستار چار سال بعد رہا

،تصویر کا ذریعہCourtesy Hasnain Raza
جنرل سیکرٹری انجمن مزارعین پنجاب مہر عبدالستار کو لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژنل بینچ نے آٹھ ستمبر کو ان پر لگائے مختلف مقدمات میں سے آخری مقدمے میں بھی بری کر دیا جس کے بعد 12 ستمبر یعنی ہفتے کے روز انھیں بالآخر چار سال کے بعد رہائی مل گئی۔
مہر عبدالستار کے ساتھ قیدی عبدالغفور کو بھی ان کے ساتھ بری کر دیا گیا ہے۔
مہر عبدالستار کے وکیل ملک ظفر نے بی بی سی کی سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'مہر ستار کے خلاف درج مقدمات کی ٹائم لائن نہیں سمجھ آئی اور نا ہی ان مقدمات کے بارے میں حکام کی جانب سے کوئی ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے۔'
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
مہر عبدالستار پر لگائے گئے الزامات
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہCourtesy Hasnain Raza
مہر عبدالستار کے خلاف گرفتاری اپریل 2016 میں پیش آئی جس کے بعد ان پر ساہیوال کی عدالت میں دہشت گردی کا مقدمہ چلا اور دو سال بعد انھیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی جس کے بعد انھیں ہائی سکیورٹی جیل میں رکھا گیا۔
مہر عبدالستار پر الزام تھا کہ انھوں نے روڈ بلاک کے دوران پولیس اہلکار پر فائرنگ کی تھی۔ سنہ 2001 سے لیکر 2016 تک ان کے خلاف 36 مقدمات درج کیے گئے تھے۔
ان میں سے دو کے سوا باقی تمام مقدمات میں ان کی ضمانت منظور کی جا چکی تھی۔
ان چار سالوں کے دوران ان کے وکلا میں سینئر ایڈوکیٹس جیسے مرحومہ عاصمہ جہانگیر، مرحوم زاہد بخاری، عابد ساقی اور کئی دیگر وکلا شامل تھے۔
اس سے قبل سنہ 2019 میں نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) نے اوکاڑہ ملٹری فارمز پر حتمی نتائج کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک بورڈ آف ریوینیو (بی او آر) کے ذریعے اوکاڑہ مزارعین کو اپنی زمینوں کی ملکیت نہیں مل جاتی تب تک ان کو پاکستان کی فوج کو گندم کا حصہ یعنی بٹائی دینا ہوگی۔
حکم نامے کے مطابق اوکاڑہ مزارعین کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف جو فوجداری مقدمے قائم کیے گئے ہیں وہ واپس لیے جائیں گے۔ یہ یقین دہانی بھی کرائی جائے گی کہ اس طرح کے مقدمات انسدادِ دہشت گردی عدالت کے تحت نہیں چلائے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Farooq Tariq
اوکاڑہ فارم کا تنازع کیا ہے؟
اوکاڑہ ملٹری فارمز 18000 ایکڑ کی زمین ہے جس میں سے 5000 ایکڑ فوج کے ہاتھ میں ہے جبکہ 13000 ایکڑ مزارعین کے پاس ہے۔
ان زمینوں پر زیادہ تر گندم، مکئی اور چاولوں کی کاشت ہوتی ہے۔ فوج کا پہلے مؤقف تھا کہ ریوینیو اتھارٹی کے مطابق زمین ان کی ہے جو برٹش راج کے بعد ان کے حصے میں آئی تھی اس لیے کسانوں کو اگائی ہوئی فصل کا کچھ حصہ بٹائی کے طور پر ان کو دینا ہوگا۔
دوسری جانب اوکاڑہ فارمز پر کاشت کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین ان کے آباؤ اجداد کی ہے۔
برٹش راج کے بعد زمینیں فوج کو چلی گئیں جس کے نتیجے میں کسان فوج کو کئی سالوں تک ان زمینوں پر اگنے والی کاشت کا حصہ دیتے رہے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کسانوں سے کہا گیا کہ یہ زمینیں ٹھیکے پر لے لیں۔ مزارعین نے اس پر اعتراض کیا کیونکہ ان کو لگا کہ ٹھیکہ بھی بڑھا دیا جائے گا اور ایک وقت پر ٹھیکہ کینسل کرکے ان سے ان کی زمینیں خالی کروا لی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہBBC URDU
سال 2000 میں انجمنِ مزارعینِ پنجاب نے مالکی یا موت کا نعرہ یہ کہہ کر بلند کیا کہ ان زمینوں پر مزارعین کا حقِ وراثت ہے اور پاکستان میں ٹھیکے پر کام کرنے والوں یا رہنے والوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
اس کے بعد سے آج تک ہونے والی جھڑپوں میں مزارعین کے مطابق ان کے 13 افراد ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کا کہنا ہے کہ مزارعین کی زیادہ تر قیادت قید میں ہے۔
اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ سنہ 2014 میں پیش آیا تھا جب پاکستانی فوج ٹینکوں سمیت اوکاڑہ ملٹری فارمز میں داخل ہوئی اور طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں چک 15 کے نور محمد کمبوہ مارے گئے اور کئی گرفتاریاں کی گئیں۔











