سابق ایم پی اے مجید خان اچکزئی ٹریفک سارجنٹ قتل کیس میں بری، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی ماڈل کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن اور پشتونخوا میپ کے رہنما مجید خان اچکزئی کو ٹریفک سارجنٹ کی ہلاکت کے مقدمے میں بری کردیا ہے۔
دوست محمد مندوخیل پر مشتمل ماڈل کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن اور صوبائی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سابق چیئرمین مجید خان اچکزئی کو عدم ثبوتوں کی بنا پر بری کردیا ہے۔
یاد رہے سنہ 2017 میں انسپکٹر عطااللہ زرغون روڈ پر واقع جی پی او چوک پر ٹریفک کنٹرول کررہے تھے جب ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر گاڑی نے تیزی کے ساتھ آتے ہوئے ان کو ٹکر ماردی تھی۔
ابتدائی طور پر پولیس نے ٹریفک پولیس انسپکٹر کی ہلاکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا تھا تاہم جب اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میڈیا پر نشر ہوئی تو مجید خان اچکزئی کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔
ماڈل کورٹس کے قیام کے بعد یہ مقدمہ چند عرصہ قبل کوئٹہ کے ماڈل کورٹ منتقل کیا گیا تھا اور اس مقدمے میں مجید خان اچکزئی کی پیروی سینیئر وکیل کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے کی تھی۔
وکیل کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اگرچہ گاڑی مجید خان اچکزئی کی تھی لیکن جس وقت حادثہ پیش آیا، وہ خود گاڑی نہیں چلارہے تھے۔
کامران مرتضٰی نے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ استغاثہ یہ بات ثابت نہیں کر سکی کی گاڑی مجید خان اچکزئی چلا رہے تھے جس کے باعث عدالت نے انھیں بری کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSM viral post
گذشتہ روز سابق ایم پی اے مجید خان اچکزئی کو بری کیے جانے کے بعد سے اس حادثے کی سی سی ٹی سی فوٹیج ایک بار پھر سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
اس مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد سے اب تک #MajeedAchakzai ٹاپ ٹرینڈ ہے اور صارفین کی جانب سے شدید مایوسی اور غم و غصے کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس سے نوٹس لیے جانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
محمد فیصل نامی صارف کا کہنا تھا ’کوئٹہ ماڈل کورٹ کی جانب سے مجید اچکزئی کو ٹریفک سارجنٹ قتل کیس میں عدم ثبوتوں کی بنا پر رہا کرنا ’پاکستانی عدلیہ کی تاریخ پر سیاہ دھبہ ثابت ہو گا‘ اور اس فیصلے کو اعلی عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
جمیل فاروقی پوچھتے نظر آئے کہ ’کوئٹہ کے ٹریفک سارجنٹ عطاءاللّہ کو دن دہاڑے روڈ ایکسیڈنٹ میں اگلے جان پہنچانے والے ایم پی اے مجید اچکزئی کا تمام تر ویڈیو ثبوتوں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کے باوجود باعزت بری قرار دیا جانا انصاف کے قتل عام کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے۔‘
عدیل رضا لکھتے ہیں ’سابق ایم پی اے مجید اچکزئی کے خلاف ثبوت ہونے کے باوجود ان کی رہائی سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ پاکستان میں غریب کو انصاف ملنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
افضال نامی صارف کا کہنا تھا ’مجید اچکزئی کا بری ہونا انصاف کے نظام پہ بہت بڑا سوال ہے۔ اگر ویڈیو ثبوت بھی ناکافی ہے تو پھر پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔‘
پیٹریاٹ نامی صارف وزیرِ اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھتے نظر آئے ’آپ ایک ایسی ریاست کے سربراہ ہیں جہاں پر دن دیہاڑے کیمرے کی آنکھ میں قتل کرنے والے کو رہائی مل جاتی ہے. ریاست مدینہ تو ایسی نہیں ہوتی۔‘
فیصل نامی صارف لکھتے ہیں ’انصاف کا تقاضہ تو یہ ہوتا کہ عدالت اپنے ہاتھ کھڑے کر دیتی کہ مجھ سے طاقتور کے خلاف انصاف نہیں ہوتا یا پھر متاثرہ خاندان کو زبردستی ہی دیت کی رقم دلوا دیتی لیکن ثبوت ہونے کے باوجود یوں مجید اچکزئی کو بری کر دینا عدلیہ کے ماتھے کا ایک اور کلنک ہے جو سیاہی سے لکھا جائے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
عمران لالیکا پوچھتے نظر آئے کہ ’مجید اچکزئی کی سارجنٹ قتل کیس میں بریت پر اتنا ہی کہوں گا کہ جو ریاست و حکومت اپنے ملازم کے قاتل کو سزا نہیں دلوا سکتی وہ اپنے عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کیسے کرے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
ہلاک ہونے والے ٹریفک سارجنٹ کے بچوں کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے فیضان نے لکھا ’انسپکٹر عطااللہ کے بچوں کی یہ فریاد اس قانون، انصاف اور نظام سے چیخ چیخ کر سوال کر رہی کہ آخر مظلوم اور غریب کےلیے انصاف ناممکن کیوں ہے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
پرویز اللہ کہتے ہیں ’یہی وقت ہے اگر سپریم کورٹ نے عدلیہ کی عزت بچانا ہے اور لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بحال رکھنا ہے تو چیف جسٹس کو نوٹس لینا ہوگا ورنہ یہ بد نما داغ عدلیہ کی بچی کچی عزت بھی ختم کر دے گا۔‘
مسکین تنولی لکھتے ہیں ’قانون اندھا ہوتا ہے، آج یقین ہو گیا۔‘







