اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے انڈین شہریوں کو دہشتگرد قرار دینے کی درخواست مسترد، پاکستان کا اظہار افسوس

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کا کہنا ہے کہ ان دو انڈین شہریوں کو دہشگردوں کی فہرست میں شامل کروانے کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی کمیٹی کے سامنے کافی ثبوت پیش کیے گئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے پاکستان کی جانب سے دو انڈین شہریوں کو دہشتگرد قرار دینے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ ’دونوں انڈین شہری پاکستان میں دہشتگردی کے بڑے حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے مطلوب مجرم ہیں جنھیں اس وقت انڈیا کا ریاستی تحفظ حاصل ہے۔‘
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے سکیورٹی کونسل کی کمیٹی کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'اقوامِ متحدہ کی کمیٹی کے کچھ ارکان نے دو انڈین شہریوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کو روک دیا۔'
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان انڈیا کی جانب سے ٹی ٹی پی اور جے یو اے جیسی دہشتگرد تنظیموں کی حمایت کو بے نقاب کرتا رہے گا۔
انڈیا نے اس سلسلے میں سکیورٹی کونسل کے ارکان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
'کمیٹی 1267'
پاکستان کی جانب سے یہ تجویز اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی 'کمیٹی 1267' کے سامنے پیش کی گئی تھی۔
کسی بھی ملک کے شہری کا نام دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اختیار اسی کمیٹی کے پاس ہے۔ اس کمیٹی کے سامنے ثبوت رکھے جاتے ہیں اور کمیٹی کے ارکان اگر سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص دہشتگردی میں ملوث ہے تو اس کے بینک اکاونٹ منجمد اور سفری اور دیگر پابندیاں بھی عائد کر دی جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ دو انڈین شہری کون ہیں؟
پاکستان کی جانب سے جن دو انڈین شہریوں کو دہشتگرد قرار دلوانے کی کوشش کی گئی ان میں سے ایک اپاجی انگارہ ہیں جو کابل میں ایک بینک میں سافٹ ویئر ڈولپر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ’انگارہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے فروری 2017 میں لاہور کے مال روڈ پر حملہ کیا۔ پاکستان کا الزام ہے کہ انگارہ نے اس کام کے لیے طالبان سے مدد مانگی تھی۔‘
پاکستان نے کمیٹی 1267 کے سامنے جو دستاویزات پیش کیے ان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے میں بھی انگارہ نے کردار ادا کیا تھا۔‘
جبکہ دوسرے انڈین شہری گووندا پٹنائک کے بارے میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ ’جولائی 2018 میں پاکستانی سیاستدان سراج رئیسانی پر دہشتگردانہ حملے میں ملوث تھا‘۔
بلوچستان میں ہونے والے اس حملے میں 160 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ انڈیا کے مطابق گووندا پٹنائک افغانستان میں ایک کمپنی کے سربراہ ہیں۔
درخواست کو کس کس ملک نے مسترد کیا؟
پاکستان کی جانب سے کمیٹی کے سامنے یہ تجویز پیش کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ انڈیا کو 'دہشتگردی کی معاونت' کرنے والا ملک قرار دیا جائے۔
فرانس، امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور بیلجیئم نے پاکستان کی اس تجویز کو مسترد کیا ہے۔ ان ممالک کی جانب سے یہ پوچھا گیا کہ ’ان الزامات کے ثبوت کہاں ہیں؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اقوامِ متحدہ میں انڈیا کے سفیر ٹی ایس ترومورتھی نے ٹویٹ کیا 'پاکستان نے دہشتگردی کو مذہبی رنگ دے کر 1267 کمیٹی کے خصوصی عمل کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے جسے سکیورٹی کونسل نے مسترد کر دیا۔ پاکستان کی اس کوشش کو ناکام بنانے پر ہم کونسل کے تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔'
سکیورٹی کونسل کے تین مستقل ارکان امریکہ، فرانس اور برطانیہ اس معاملے پر انڈیا کی حمایت کر رہے ہیں۔ جبکہ کونسل کے عارضی ارکان جرمنی اور بیلجیئم نے بھی انڈیا کی حمایت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین حکام سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے انڈیا کی جانب سے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دلوانے میں کامیابی کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ کمیٹی 1267 نے گزشتہ برس مئی میں مسعود اظہر کو دہشتگرد قرار دے کر ان پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
پاکستان نے اس سال دو مرتبہ انڈین شہریوں کو دہشتگرد قرار دلوانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ دونوں کوششیں ناکام رہی ہیں۔
جنوری میں پاکستان نے دو انڈین شہریوں اجوئے مستری اور وینو مادھو پر مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر انھیں دہشگردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی۔
پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں چین کی مدد حاصل ہے لیکن ان کوششوں میں ناکامی کی وجہ کونسل کے دوسرے اراکین کی مخالفت ہے۔









