آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کی حکومت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حوالگی سے متعلق برطانیہ کو خط مارچ میں ہی لکھ دیا تھا
پاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمشنر محمد نفیس زکریا نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان کو حوالگی سے متعلق برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے داخلہ امور شہزاد اکبر نے سنیچر کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ حکومت پاکستان نے نواز شریف کی حوالگی سے متعلق ضروری قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ عمران خان کے مشیر کے مطابق نواز شریف کی حوالگی سے متعلق خط رواں برس دو مارچ کو لکھا گیا تھا۔
شہزاد اکبر نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ نہیں بتایا کہ مارچ میں لکھے گئے اس خط پر ابھی تک برطانوی حکومت سے کوئی جواب موصول ہوا ہے یا نہیں۔
خیال رہے کہ عمران خان کی کابینہ کے ایک رکن وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے میڈیا کو بتایا کہ نواز شریف کی وطن واپسی ایک مشکل کام ہے، ان کے مطابق ہم ابھی تک سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو پاکستان واپس نہیں لا سکے تو نواز شریف کی واپسی کیسے ممکن ہو سکتی ہے۔
عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر نے حوالگی سے متعلق قانونی پیچیدگیوں کا ذکر کیے بغیر کہا کہ حکومت نے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے ذریعے نواز شریف کو برطانیہ سے پاکستان واپس لانے کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نیب کی ایک احستیاب عدالت نے العزیزیہ ملز ریفرنس میں سات سال کی سزا سنائی تھی۔
نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سزا سنانے والے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو سامنے لائی تھی، جس میں وہ مسلم لیگ نون کے ایک کارکن ناصر بٹ کو پانامہ ریفرنسز میں نواز شریف کو سزا دینے سے متعلق دباؤ کا بتا رہے تھے۔
جج نے سزا سنانے کے بعد سابق وزیر اعظم سے ان کی رہائش گاہ پر جا کر ملاقات کا بھی اعتراف کیا جس کے بعد انھیں مس کنڈکٹ کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ نے ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد ہائی کورٹ اب نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر یکم ستمبر کو سماعت کرے گی۔ نواز شریف کے وکلا کا موقف ہے کہ جج نے دباؤ میں آ کر سزا سنائی تھی، جس کا انھوں نے بعد میں اعتراف بھی کر لیا۔
یہ بھی پڑھیے
شہزاد اکبر نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ نیب نے اب تک نواز شریف کی برطانیہ سے واپسی سے متعلق کیا قانونی کارروائی کی ہے تاہم ان کے مطابق برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے پنجاب حکومت کے میڈیکل بورڈ کے اس فیصلے کو بھی خط کے ساتھ بھیجا ہے جس کے تحت نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد کی گئی ہے۔
شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کوئی زیر التوا مقدمہ نہیں ہے بلکہ اس میں سابق وزیر اعظم کو عدالت کی طرف سے سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ انھوں نے طبی بنیادوں پر جو ضمانت حاصل کی تھی اس کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق قانون کی نظر میں اب نواز شریف کی حیثیت ایک مفرور کی ہے کیونکہ ان کی ضمانت عدالتوں اور حکومت سے بھی ختم ہو چکی ہے۔
نواز شریف کی ضمانت کب اور کیسے مسترد ہوئی؟
حکومت کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 29 اکتوبر 2019 کو آٹھ ہفتوں کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت دی۔ اس فیصلے میں عدالت نے یہ شرط عائد کی تھی کہ اگر آٹھ ہفتوں میں علاج ممکن نہ ہو سکے تو پھر ایسے میں ضمانت میں مزید توسیع کے لیے وہ پنجاب حکومت سے درخواست کر سکتے ہیں۔
اس ضمانت کے بعد نواز شریف کے لیے دوسرا مرحلہ ای سی ایل سے اپنا نام نکلوانا تھا۔ اس کے لیے نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 16 نومبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ کا رخ کیا اور عدالت میں انڈرٹیکنگ دی کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔
لاہور ہائی کورٹ نے 23 دسمبر 2019 کو شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلوا دیا۔ تاہم یہ نام اس وجہ سے چار ہفتوں کے لیے نکلوایا گیا کیونکہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ سے آٹھ ہفتوں کی ضمانت میں سے چار ہفتے گزر چکے تھے۔
عدالتی فیصلوں کے بعد نواز شریف علاج کے لیے لندن چلے گئے۔
ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کے وکلا نے ضمانت میں مزید توسیع کے لیے پنجاب حکومت کو درخواست دی، جس پر پنجاب حکومت نے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا۔ بورڈ نے نواز شریف کے وکلا سے ان کے علاج سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کیں۔
بورڈ نے رواں برس 19، 20 اور 21 فروری کو نواز شریف کی درخواست پر غور کیا۔ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد نواز شریف کی ضمانت میں مزید توسیع سے متعلق درخواست مسترد کردی۔
شہزاد اکبر کے مطابق بورڈ کو نواز شریف کے علاج کا کوئی ریکارڈ یا دستاویزات دی ہی نہیں گئیں کیونکہ لندن میں تو نواز شریف کو ایک ٹیکہ بھی نہیں لگا۔
ان کے مطابق پنجاب حکومت نے میڈیکل بورڈ کا فیصلہ وفاقی وزارت انصاف، نیب اور پولیس کو بھی بھجوایا۔
وزیر اعظم عمران کے مشیر کے مطابق وزارت قانون نے میڈیکل بورڈ کا یہ فیصلہ وزارت خارجہ کو بھیج دیا اور یہ درخواست کی اس فیصلے سے متعلق حکومت برطانیہ کو بھی آگاہ کیا جائے، جس کے بعد حکومت نے ہائی کمشنر کے ذریعے خط اور فیصلہ برطانوی حکومت کو بھجوا دیا۔
جواب کیا ملا؟ اس پر حکومتی وزرا اور ادارے ابھی تک خاموش ہیں۔
سنیچر کو شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ ’مجرم لندن کی سڑکوں پر بڑے مزے سے گھوم پھر رہا ہے۔ انجوائے کر رہا ہے۔ یہ نظام انصاف کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔‘
شہزاد اکبر نے کہا حکومت شہباز شریف سے بھی دریافت کرے گی کہ نواز شریف وطن واپس کیوں نہیں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی حکومت اس حوالے سے سوچ بچار کر رہی کہ شہباز شریف کے ساتھ کیا کریں۔
ایف اے ٹی ایف: ’حزب اختلاف این آر او پلس پلس مانگ رہی ہے‘
شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ ان کی پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں ہے اس وجہ سے اب ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کے لیے حزب اختلاف حکومت سے این آر او پلس پلس کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ان کے مطابق اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن میں نظریاتی اختلاف ہے۔ عمران خان کے مشیر کے مطابق اپوزیشن منی لانڈرنگ کو سنگین جرم نہیں سجھتی۔ حزب اختلاف یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ قانون سازی میں جہاں منی لانڈرنگ کا ذکر ہے تو وہاں سے نیب کا نام نکالا جائے۔
شہزاد اکبر نے شریف خاندان اور آصف زرداری کے خلاف قائم مقدمات کو پاکستان کا گرے لسٹ میں جانے کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق رمضان شوگر ملز، حدیبیہ ریفرنس اور جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان سے منی لانڈرنگ کی گئی۔
شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں دعوی کیا ہے کہ عمران خان اپوزیشن کو این آر او پلس پلس میں سے این بھی نہیں دیں گے جبکہ حکومت ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون پاس کرائے گی اور ہم یہ قانون ہر صورت پاس کرائیں گے۔ انھوں نے اپوزیشن سے کہا کہ آپ اگر اس میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے۔ ان کے مطابق حکومت اس قانون سازی کے ذریعے اقوام عالم میں پاکستان کا مقام بحال کرائے گی۔
نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کیا کہا تھا
شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے جمعے کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ نواز شریف نے ’قانون کا مذاق اڑایا، بیماری کو بہانا بنا کر ملک سے فرار اختیار کی۔۔۔ انھیں واپس آ کر جوابدہ ہونا چاہیے۔‘
ان کے مطابق ’ہم نیب سے مطالبہ کریں گے کہ دفتر خارجہ کے ذریعے انگلینڈ کی حکومت سے کہہ کر انھیں (نواز شریف کو وطن) واپس بھیجا جائے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ انھیں واپس لانا ضروری ہو گیا ہے۔‘
تاہم مسلم لیگ نواز کی جانب سے بارہا اسے سیاسی انتقام قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں ایسی قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ حکومت اور نواز شریف کے درمیان علاج کے عوض بیرون ملک روانگی کے حوالے سے کی گئی مبینہ ڈیل ’ختم ہو گئی ہے۔‘
سابق وزیر اعظم کی واپسی کے لیے کوششوں میں تیزی؟
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے نواز شریف کی واپسی کے لیے کوششیں کی ہوں یا بیانات دیے ہوں۔
مارچ 2020 کے دوران سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ ’علاج کے غرض سے پاکستان سے برطانیہ جانے والے وی آئی پی قیدی میاں محمد نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کا وقت آچکا ہے۔
’اس لیے وفاقی حکومت برطانوی حکومت کو یہ خط لکھنے جا رہی ہے کہ ان کو برطانیہ سے جلا وطن کیا جائے۔‘ تاہم اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی تھی۔
مشیر اطلاعات شبلی فراز نے اپنی جمعے کی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ’حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ان لوگوں کو لایا جائے جو قانون کو طلب ہیں۔۔۔ ہماری کوششیں اور تیز ہوگئی ہیں اور ہم نواز شریف صاحب کو واپس لائیں گے۔‘
’(نواز شریف) تصاویر میں ہشاش بشاش پھر رہے ہیں، کبھی شاپنگ کرتے ہیں کبھی واک پر جاتے ہیں کبھی کافی پینے کے لیے باہر جاتے ہیں۔ جبکہ عوام ان کے دیے تحفوں کی وجہ سے تکلیف میں ہیں۔‘
نواز شریف کی صاحبزادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز سیاستدان ہیں تو میں بھی بہت بڑا شاعر ہوں۔۔۔ نیب نے انھیں سوالات کے جواب کے لیے بلایا تھا لیکن انھوں نے ڈرامہ رچایا اور نیب پر پتھراؤ کیا۔‘
وفاقی وزیر فواد چوہدری نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت میں کہا ہے کہ ’تحریک انصاف کے بیانیے اور احتساب کے عمل کو نواز شریف کی لندن روانگی نے شدید دھچکہ دیا، جعلی رپورٹس کی تیاری میں جن لوگوں کا کردار ہے ان کو نشان عبرت بنانا چاہیے۔‘
فواد چوہدری کی جانب سے ’جعلی رپورٹس‘ کے حوالے سے کیے گئے دعوے کے بارے میں جب معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان سے مؤقف مانگا گیا تو انھوں نے اس حوالے سے بات کرنے اس انکار کر دیا۔
نواز شریف لندن کیوں اور کیسے گئے؟
بدعنوانی کے متعدد مقدمات کے باعث حکومت نے مسلم لیگ نواز کے قائد کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کر رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے تھے۔
نومبر 2019 میں مسلم لیگ نواز کے قائد عدالت سے اجازت ملنے کے بعد علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہوئے۔ انھیں بیرونِ ملک لے جانے کے لیے قطر کے شاہی خاندان کی وی آئی پی فضائی کمپنی قطر امیری فلائٹس کی ایئر ایمبولینس لاہور آئی اور وہاں سے پرواز اور دوحہ میں مختصر قیام کے بعد لندن پہنچی۔
لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک جانے کی مشروط حکومتی اجازت کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔
اس اجازت کے بعد وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک میمورینڈم جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا بلکہ انھیں ایک مرتبہ چار ہفتے کی مدت کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے نواز شریف کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کے لیے سات ارب روپے کے مساوی مالیت کے انڈیمنیٹی بانڈ کا تقاضا کیا گیا تھا تاہم عدالت کی جانب سے دی جانے والی اجازت میں انڈیمنیٹی بانڈ کی شرط ختم کر کے نواز شریف کی واپسی کو ڈاکٹروں کی سفارش سے مشروط کر دیا گیا تھا۔
نواز شریف اس وقت لندن میں مقیم ہیں جبکہ ادھر اسلام آباد کی احتساب عدالت نے حکومتی توشہ خانہ سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کی غیر قانونی طریقے سے خریداری کے مقدمے میں ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
مسلم لیگ نواز کا حالیہ موقف رہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث نواز شریف کے علاج میں تاخیر ہوئی ہے۔
’ڈیل‘ ٹوٹ چکی ہے؟
وفاقی وزرا کے بیانات کے حوالے جواب میں مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس فیصلے کو رد کیا اور ساتھ اس بات کی بھی تردید کی کہ ان کی جماعت کے رہنماؤں نے حکومت سے نواز شریف کے لیے ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’این آر او، این آر او (قومی مفاہمتی آرڈیننس جس کے نتیجے میں 2007 میں بدعنوانی کے مقدمات ختم کیے گئے تھے) کے تماشے بند کریں۔ این آر او پر چلتا وزیراعظم دوسروں کو کیا این آر او دے گا۔ وزیراعظم کے پاس این آر او دینے کا مینڈیٹ کہاں سے آ گیا۔‘
’اب کاغذ لہرانے کا نہیں بلکہ کرپٹ، نالائق اور نااہل ٹولے کے گھر جانے کا وقت ہے۔‘
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بات کرتے ہوئے جب مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما احسن اقبال سے پوچھا گیا کہ آیا حکومت اور نواز شریف کے درمیان مبینہ ڈیل ٹوٹ چکی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیل کیا تھی اور کس نے کی؟‘
’نواز شریف مسلم لیگ نواز کی حکومت میں (بیرون ملک) نہیں گئے۔ تمام انٹیلیجنس ادارے وزیر اعظم کے تابع تھیں۔ تمام ڈاکٹر حکومت کی نگرانی میں کام کر رہے تھے۔ (پنجاب کی) وزیر صحت ان کے علاج کی نگرانی کر رہی تھیں۔‘
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف کسی ڈیل کے تحت گئے تو حکومت اعتراف کرے کہ اس نے کوئی ڈیل کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کی بیماری پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟
کالم نگار سہیل وڑائچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ ن لیگ کی سیاست میں تیزی آنے کی وجہ سے تحریک انصاف نے یہ فیصلہ کیا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے وزرا ڈیل کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ ڈیل ریاستی اداروں اور مسلم لیگ نواز کے بیچ ہوئی جس میں انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اور اسی لیے ان کے بعض حلقوں نے وقتاً فوقتاً نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر اعتراض اٹھایا تھا۔
سہیل وڑائچ نے بتایا کہ مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کے رہنماؤں سے حال ہی میں ملاقاتیں کی ہیں جن سے لگتا ہے کہ انھیں اب یہ احساس ہوا ہے کہ انھیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے متحرک کردار ادا کرنا ہو گا اور اسی میں ان کی بقا ہو سکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے بعد مسلم لیگ نواز نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سمیت کئی امور پر وفاقی حکومت کا ساتھ دیا تھا۔
ان کے خیال میں نواز شریف کی روانگی کے وقت تاثر یہی تھا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور انھیں علاج کے لیے بیرون ملک جانا چاہیے لیکن اب حکومت کی جانب سے انھیں واپس لانے کے لیے بیان بازی کی جا رہی ہے لیکن یہ عملی طور پر کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
’بے نظیر کی مرتبہ بھی اسی طرح کی کوششیں کی گئی تھیں لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس اعلان کے پس منظر میں ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ انھوں نے پاکستان کے سعودی عرب، چین اور مشرق وسطیٰ سے تعلقات کے لیے نواز شریف کو ایک اہم سٹیک ہولڈر قرار دیا۔
تجزیہ نگار عارف نظامی بھی سہیل وڑائچ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ نواز شریف کی وطن واپسی مشکل ہوگی اور ماضی میں بھی حکومت کی جانب سے ایسے اعلانات آتے رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ حکومتی اعلان کی ممکنہ وجہ مسلم لیگ نواز کی جانب سے ملاقاتوں میں تیزی ہوسکتی ہے۔
عارف نظامی کا کہنا تھا کہ حکومتی وزرا یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ وہ ’اجازت دینے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے اور ایسا ہوا بھی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ مبینہ ڈیل اسی صورت ختم ہوئی ہو گی اگر کوئی فریق اپنی یقین دہانی سے پیچھے ہٹا ہو گا۔
’نواز شریف کی ایک تصویر پاکستان میں ہلچل مچا دیتی ہے‘
وفاقی حکومت کے اعلان سے قبل سابق وزیر اعظم کی کئی تصاویر سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر چلائی جاچکی ہیں جن میں انھیں لندن میں دیکھا جاسکتا ہے۔
اس پر مسلم لیگ نواز کی رہنما ہنا پرویز بٹ کہتی ہیں کہ ’نواز شریف کی ایک تصویر پاکستان میں ہلچل مچا دیتی ہے، جب نواز شریف واپس آئیں گے تو پی ٹی آئی والوں کا کیا حال ہوگا؟
’ایک بات تو طے ہے نیازی سمیت پوری پی ٹی آئی جتنا نواز شریف سے خوف کھاتے ہیں، کسی اور سے نہیں۔‘
معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سمجھ نہیں آتی کیسے کوئی صحت پر اتنی غلط بیانی کر سکتا ہے۔
’انھوں نے مال پانی بزنس اولاد علاج لندن میں رکھنا ہے اور حکومت پاکستان میں کرنی ہے۔ بیٹوں پر پاکستان کا قانون نافذ نہیں ہوتا اور بیٹی قوم کی بیٹی اور لیڈر ہے۔
عمران واحد نامی صارف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’نواز شریف ضرور واپس آئیں گے‘ جبکہ شیراز نامی صارف کہتے ہیں کہ ’نواز شریف کا صحت مند ہو کر لندن میں گھومنا اور ہر دوسرے ہفتے کسی تصویر کا وائرل ہونا اداروں کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے۔‘