آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مریم نواز کی پیشی سے قبل نیب کے دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی، حکومت اور نواز لیگ کی ایک دوسرے پر الزام تراشی
پاکستان کے شہر لاہور میں واقع قومی احتساب بیورو (نیب) کے دفتر کے باہر منگل کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز شریف نے الزام لگایا ہے کہ ان کی گاڑی پر پتھراؤ کرنے والے پولیس کی وردی میں تھے اور اگر وہ بلٹ پروف گاڑی میں نہ ہوتیں تو نہ جانے کتنا نقصان پہنچتا۔
مریم نواز کو منگل کو نیب لاہور نے رائیونڈ اراضی کیس کے حوالے سے پیشی کے لیے بلایا تھا تاہم ان کے وہاں پہنچنے سے قبل ن لیگ کے کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تصادم ہوا جس کے دوران پتھر بھی برسائے گئے اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا۔
اگرچہ نیب نے ہنگامہ آرائی کے بعد مریم نواز کی پیشی مؤخر کر دی تھی البتہ وہ تصادم کے بعد بھی کافی دیر نیب کے دفتر کے باہر موجود رہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر انھیں بلایا گیا ہے تو سنا بھی جائے۔
دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے دعویٰ کیا ہے کہ نیب کے دفتر اور پولیس پر نواز لیگ کے کارکنوں کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا اور جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں پتھر لائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ چار پولیس اہلکار واقعے میں زخمی ہوئے ہیں اور بتایا کہ انھیں نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور چیف سیکریٹری پنجاب اور انسپیکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مریم نواز کی پریس کانفرنس
ہنگامہ آرائی کے بعد ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ انھیں پیشی پر ’نقصان پہنچانے کے لیے بلایا گیا۔‘
پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز کا لہجہ انتہائی سخت تھا۔ انھوں نے حکومت کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ وہ بظاہر شدید کوفت کا شکار تھیں اور انھوں نے متعدد بار پریس کانفرنس میں موجود کارکنان کو نعرے بازی سے منع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب وہ نیب کے دفتر پہنچیں تو انھیں معلوم نہیں تھا کہ دوسری جانب لوگوں کا ایک سمندر ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی کار کے شیشے پر پتھر لگنے سے بہت بڑی دراڑ پڑ گئی اور گاڑی کی چھت پر ’پتا نہیں کہاں کہاں سے پتھر آئے۔
انھوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد مسلم لیگ ن کے کئی کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور جماعت ان کی خبر گیری کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ذریعے انھیں واضح طور پر جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے اور انھیں نیب کی جانب سے غیر سرکاری طور پر کہا گیا کہ آپ واپس چلی جائیں اور جب انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو پھر نیب کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا۔
'میں سوا گھنٹہ وہاں کھڑی رہی اور وہ چھپ کر اندر بیٹھے رہے۔ پھر رانا ثنا اللہ نے ان سے کہا کہ آپ لکھ کر دیں، پھر انھوں نے لکھ کر دیا۔'
انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اس لیے خوفزدہ ہے کیونکہ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت بڑھتی نظر آ رہی ہے۔
یاد رہے کہ مریم نواز سنہ 2018 کے انتخابات میں بہت متحرک تھیں اور انھوں نے اس وقت مسلم لیگ ن کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو ہہت تقویت بخشی تھی۔
مریم نواز پہلے بھی مخلتف نیب مقدمات میں عدالتوں کا سامنا کر چکی ہیں جبکہ منی لانڈرنگ کیس میں جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔
حکومت کا مؤقف
پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے الزام لگایا ہے کہ نواز لیگ نے ایک ’سوچی سمجھی سکیم‘ کے تحت مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقعے پر پنجاب بھر سے کارکنان کو اکٹھا کیا۔
منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا اُن کے پاس اُن تمام گاڑیوں کی فوٹیج موجود ہے جن سے پتھراؤ ہوا اور حکومت نے محکمہ ایکسائز سے ان گاڑیوں کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔ اُن کے مطابق پتھراؤ کرنے والی گاڑیوں اور افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے ایک نجی چینل سے گفتگو میں یہ سوال اٹھایا کہ پولیس پتھراؤ کیوں کرے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ پولیس آنسو گیس چلا سکتی ہے اور لاٹھی چارج کر سکتی ہے اور دعویٰ کیا کہ یہ پتھراؤ نون لیگ کی جانب سے پیشی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کیا گیا۔
نیب ذرائع کے مطابق مشتعل کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔
نیب کے دفتر کے باہر ہوا کیا؟
مریم نواز شریف نے منگل کی صبح 11 بجے نیب کے سامنے پیش ہونا تھا۔
قومی احتساب بیورو لاہور کے سامنے مریم نواز شریف کی پیشی سے قبل مسلم لیگ ن کے کارکن بڑی تعداد میں جمع تھے۔
کارکنوں نے مریم نواز کی ریلی کا جگہ جگہ استقبال کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا اور نیب لاہور کے دفتر کے راستے میں استقبالیہ کیمپ بھی لگائے گیا تھا۔
ٹھوکر نیاز بیگ پر نیب دفتر کے باہر مسلم لیگ ن کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سمیت کارکنوں کی ایک بڑی تعداد مریم نواز کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھی۔ اس موقع پر پولیس نے بھی رکاوٹیں لگا کر کارکنوں کا راستہ روک رکھا تھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق مریم نواز اپنی رہائش گاہ جاتی امرا سے ایک ریلی کی قیادت کرتے ہوئے نیب کے دفتر کے لیے روانہ ہوئیں۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ پرتشدد تصادم میں پہل کس جانب سے کی گئی تاہم نیب کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نیب لاہور کے دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی اور تصادم کی صورتحال کے باعث مریم نواز کو واپس جانے کا کہا گیا ہے۔
مسلم لیگ نواز لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے نجی ٹی وی چینل سما ٹی وی کو بتایا کہ مریم نواز کی گاڑی جب نیب دفتر کی طرف مڑی تو پولیس نے ان کی گاڑی پر شیلنگ کی اور پتھراؤ کیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ ویڈیوز بھی دکھائی جائیں جن میں مریم نواز کی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔
مقامی چینلز پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ نواز لیگ کے کارکن نیب کے دفتر کے باہر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور پولیس مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو کارکنوں کی جانب پتھر پھینکتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تصادم کے بعد مریم نواز کافی دیر نیب کے دفتر کے باہر موجود رہیں۔ اس وقت میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں نقصان پہنچانے کے لیے گھر سے بلایا گیا۔ ’میں باہر کھڑی ہوں، واپس نہیں جاؤں گی۔ بلایا ہے تو جواب بھی سنا جائے۔‘
موقع پر موجود صحافیوں کے مطابق جس وقت مریم نواز نیب کے دفتر کے باہر موجود تھیں اس وقت دروازے بند کر دیے گئے اور کسی کو اندر باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔
اس کے کچھ دیر بعد وہ گھر روانہ ہو گئیں اور چند گھنٹوں بعد انھوں نے ماڈل ٹاؤن سے براہ راست پریس کانفرنس کی۔
نیب کا مسلم لیگ ن کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان
نیب حکام نے لاہور میں پولیس اور نواز لیگ کے کارکنان کے درمیان ہنگامہ آرائی کے بعد الزام لگایا کہ قانونی کارروائی میں مسلم لیگ ن کے عہدے داران اور شرپسند عناصر نے مداخلت کی اور اس ہنگامہ آرائی میں ان کے ملازمین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اس واقعے کی ایف آئی آر مسلم لیگ نواز کے کارکنان کے خلاف درج کروائیں گے۔
سیاسی ردعمل
مریم نواز کی پیشی کے موقع پر پولیس اور مسلم لیگ ن کے کارکنان کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم کے بعد پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس معاملے پر ردعمل آنا شروع ہوگیا۔
حزب اختلاف کے رہنما اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور وہ ان سے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نیب میں پیشی کے موقع پر کارکنان رہنماؤں کے ساتھ ہوتے ہیں اور نیب کا یہ کہنا کہ مریم کو تنہا بلایا تھا عذرِ لنگ ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اپنے پیغام میں واقعے کی مذمت کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان نیب کو استعمال کر رہے ہیں۔