پنجاب میں نصابی کتب پر پابندی: کیا صرف حقائق کی غلطیاں ہی پابندی کی وجہ بنی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو لاہور
بانیِ پاکستان محمد علی جناح سنہ 1876 میں پیدا ہوئے تھے تاہم پاکستان کے صوبہ پنجاب کے نجی سکولوں کے لیے موجود نصاب کی ایک کتاب میں ان کا سنہ پیدائش 1976 لکھا گیا ہے۔
اسی طرح ایک کتاب میں لکھا گیا کہ پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال اکتوبر کے مہینے میں پیدا ہوئے اس بات سے قطع نظر کہ درحقیقت وہ نو نومبر کو پیدا ہوئے تھے۔ اسی کتاب میں یہ بھی لکھا گیا کہ انھوں نے ایم اے انگریزی کی ڈگری گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی۔
صوبہ پنجاب میں نصاب اور نصابی کتب کے منتظم ادارے ’پنجاب کریکیولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ‘ (پی سی ٹی بی) کے مطابق علامہ اقبال نے ڈگری انگریزی میں نہیں فلسفے میں حاصل کی تھی۔
نجی سکولوں میں پڑھائی جانے والی ایسی ہی سو نصابی کتابوں پر حال ہی میں پی سی ٹی بی نے پابندی عائد کی ہے۔ پی سی ٹی بی کا کہنا ہے کہ ان کتابوں میں ’حقائق کے منافی، غلط، غیر اسلامی، پاکستان مخالف اور گمراہ کُن معلومات شائع کی گئی ہیں۔‘
پنجاب میں کتابوں پر پابندی کی خبر سامنے آنے کے بعد جہاں اس اقدام کو سابق فوجی آمر جنرل ضیا کے دور کی یاد قرار دیا جا رہا ہے وہیں یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ ان کتابوں میں ایسا کیا ہے جو پابندی کی وجہ بنا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پی سی ٹی بی کے مینیجنگ ڈائریکٹر رائے منظور حسین ناصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان میں زیادہ تر کتابوں پر پابندی کی وجہ معلومات کا اپ ڈیٹ نہ کیا اور غلط معلومات کی فراہمی بنی۔
انھوں نے ایسی چند کتابوں کے حوالے دیے جن پر ان کے ادارے نے پابندی عائد کی ہے۔
منظور ناصر کے مطابق ایک کتاب میں لکھا گیا تھا کہ تحریکِ پاکستان کے ایک رہنما سر سید احمد خان نے سنہ 1938 میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کی تھی۔ پی سی ٹی بی کے ایم ڈی کے مطابق ’وہ اس سے 40 سال پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہPCTB
منظور حسین ناصر کے مطابق ایک دوسری کتاب میں پاکستان کے پانچ صوبے لکھے گئے تھے جبکہ یہ چار ہیں۔ اس کے علاوہ ایک کتاب میں پاکستان کے 36 اضلاع کو 35 لکھا گیا اور کئی کتابوں میں لکھا گیا تھا کہ پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ 1988 میں ہوئی تھی۔
پی سی ٹی بی نے جن سو کتابوں پر پابندی عائد کی ہے وہ مجموعی طور پر 31 ناشرین کی طرف سے چھاپی گئی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 13 کتابیں آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی ہیں جبکہ کیمبرج یونیورسٹی پریس کی بھی دو کتابیں بھی شامل ہیں۔
منظور حسین ناصر کے مطابق ان دو برطانوی چھاپہ خانوں کی چند کتابوں میں ’نقشے پر آزاد (پاکستان کے زیر انتظام) کشمیر، گلگت بلتستان اور مقبوضہ (انڈیا کے زیر انتظام) کشمیر سارے کا سارا انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا اور یہاں تک کہ اسے متنازع علاقہ بھی نہیں لکھا گیا۔‘
کتابوں پر پابندی کیوں لگائی گئی؟
ایم ڈی پی سی ٹی بی کے مطابق ان سو کتابوں پر سنہ 2015 کے قانون پنجاب کیورکیولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ ایکٹ کے تحت پابندی لگائی گئی ہے جس میں واضح طور پر پانچ چیزوں کی ممانعت ہے۔
قانون کے مطابق ’بورڈ ایسی کسی کتاب کی اشاعت اور فروخت وغیرہ کی منظوری نہیں دے سکتا جو امتحانات یا جانچ کے عمل کے لیے نقصان دہ ہو، اسلامی احکامات کو بدنام کرتی ہو، پاکستان یا اس کے کسی حصے کی سالمیت، دفاع اور سکیورٹی، پبلک آرڈر یا اخلاقیات کے منافی ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہPCTB
ان کا کہنا تھا کہ تمام تر کتابیں جن پر پابندی عائد کی گئی ہے یہ وہ کتابیں ہیں جن میں حقائق کو غلط لکھا گیا ہے یا مسخ کیا گیا ہے۔ ’ہم نے کسی بھی ایسے موضوع کو نہیں چھیڑا جس پر کسی کو بھی ہم سے بحث کرنے کا موقع مل سکے۔ یہ تمام حقائق کی غلطیاں ہیں۔‘
خیال رہے کہ حال ہی میں پابندی کا اعلان کرتے ہوئے منظور حسیں ناصر نے کہا تھا کہ چند کتابوں میں حساب کے تصورات کو سمجھانے کے لیے خنزیر کی تصاویر کی مدد لی گئی تھی جبکہ کچھ کتابوں میں قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کے اقوال کے بجائے مہاتما گاندھی کے اقوال استعمال کیے گئے تھے۔
’کیا آپ نے فلم جودھا اکبر دیکھی ہے؟‘
نجی سکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کے والدین کی ایک نمائندہ تنظیم ’پیرینٹس ایکشن کمیٹی‘ کے صدر کاشف اسماعیل بھی کتابوں پر پابندی کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’صرف وہ کتابیں جن پر اب پابندی عائد کی گئی ہے ان ہی میں غلطیاں نہیں ہیں بلکہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی اپنی شائع کی جانے والی کتابوں اور ایسی کتابیں جنھیں حکام نے این او سی دیا ہے، ان میں بھی غلطیاں موجود ہیں۔‘
ایسی چند کتابوں کی تصاویر انھوں نے بی بی سی کو فراہم کی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب جو کہ ایک نجی سکول میں ساتویں جماعت کو پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتاب تھی اس میں انڈین اداکارہ ایشوریا رائے کی تصویر کے ساتھ بتایا گیا تھا کہ سنہ 2008 میں مغل بادشاہ اکبر اور ان کی اہلیہ جودھا بائی پر فلم بنائی گئی تھی جس میں ایشوریا رائے اور ان کے شوہر اداکار ابھیشک بچن نے کام کیا تھا۔
اس تصویر کے ساتھ بچوں سے سوال پوچھے گئے تھے کہ کیا آپ نے جودھا اکبر فلم دیکھی ہے؟ کیا آپ اس کے کسی گانے کے بارے میں جانتے ہیں؟ ایشوریہ رائے کی تصویر کو دیکھیں کیا آپ کو لگتا ہے کہ جودھا ایسی دکھائی دیتی ہوں گی؟
کاشف اسماعیل کے مطابق یہ اور اس طرح کی مزید کتابیں بھی ان نجی سکولوں میں اب بھی پڑھائی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKashif Ismael
اب ہی کیوں؟
نجی سکولوں کی ایک نمائندہ تنظیم آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ والدین اور نمائندہ تنظیمیں طویل عرصے سے حکومت کی توجہ نصابی کتب میں غلطیوں کے مسئلے کی طرف دلواتے رہے ہیں تاہم اس پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے۔
’قومی اور اسلامی نظریات کے خلاف اگر کوئی بات ہو گی تو ہم بھی اس کی مخالفت کریں گے لیکن یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ یہی کتابیں استعمال کرنے کی اجازت دی کس نے اور کیسے۔ ان کے خلاف بھی کارروائی ہونے چاہیے۔‘
کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ کتابوں کی جانچ پڑتال اس وقت کیوں نہیں کی جا سکتی جب وہ پہلی بار مارکیٹ میں آتی ہیں یا شائع کی جاتی ہیں۔ ’حکومتی اداروں کا نظام مؤثر نہیں نظر آتا اور ان کی پالیسی میں یکسانیت نہیں ہے۔‘
’ہم نے ایسے موضوعات کو نہیں اٹھایا جو متنازع ہوں‘
نصابی کتب پر پابندی کی خبریں سامنے آنے کے بعد ایک موقف یہ بھی سامنے آیا کہ اس کے ذریعے ان موضوعات کی تعلیم کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جنھیں ایک طبقہ متنازع سمجھتا ہے۔
پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن کی جانب سے بھی اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ پی سی ٹی بی نے ملک میں نجی سکولوں میں پڑھائی جانے والی دس ہزار کتب کا جو ’تنقیدی جائزہ‘ لینا شروع کیا ہے اس پر ادارے کو شدید تشویش ہے۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف آزادیِ اظہارِ رائے بلکہ سوچ اور مذہب کی آزادی پر بھی سخت پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
تاہم ایم ڈی پی سی ٹی بی رائے منظور حسین کے مطابق انھوں نے تاحال ایسی کتابوں کی جانچ پڑتال نہیں کی جن میں موضوعات پر بحث ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے صرف حقائق کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔
’تولیدی نظام پڑھانا چاہیے یا نہیں، اس کو ہم نے تاحال نہیں چھیڑا۔ ہم نے کسی ایسے موضوع کا نہیں چھیڑا جو متنازع ہو یا جس پر بحث بنتی ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مزید کتابوں کا جائزہ جاری ہے جس میں ہزاروں کتابیں شامل ہیں اور آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گی۔

،تصویر کا ذریعہPCTB
منظور حسین ناصر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قانون چھ سال قبل سے موجود تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا تھا۔
’ہمارے پاس شکایات آ رہی تھیں کتابوں کے حوالے سے تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ تمام کتابوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ ہم نے اب تک 500 کی جانچ پڑتال کی ہے جس میں سے سو پر پابندی لگائی گئی ہے۔‘
کیا پابندی کے بعد یہ کتابیں ختم ہو جائیں گی؟
زیادہ تر کتابیں ایسی ہیں جن میں بظاہر چھپائی کی غلطیاں ہیں خصوصاً تاریخ اور معاشرتی علوم کی کتابوں میں سن اور تاریخیں۔ عین ممکن ہے کہ قائدِاعظم کا سنِ پیدائش چھپائی کی غلطی کی وجہ سے 1876 کے بجائے 1976 ہو گیا ہو۔
اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے رائے منظور حسین ناصر کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق جن کتابوں پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ سات روز کے اندر ان غلطیوں کی اصلاح کر کے دوبارہ بورڈ کو جمع کروا سکتے ہیں جن کا جائزہ لینے کے بعد ان کو این او سی جاری کر دیا جائے گا۔
’تاہم اگر وہ مقررہ وقت کے اندر اصلاح نہیں کرتے تو قانون کے مطابق ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائیں گی۔‘
رائے منظور حسین ناصر کے مطابق اگر سکولوں میں پڑھائے جانے سے قبل پبلشنگ کمپنیاں بورڈ کو ان کتابوں کے مسودے جانچ پڑتال کے لیے جمع کروا دیتے اور باقاعدہ قانونی طریقے سے اجازت لے لیتے تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔
’تاریخ کے نام پر۔۔۔اپنی خواہشات پڑھاتے ہیں‘
یاد رہے کہ پاکستان میں نصاب کی کتابوں میں پڑھائی جانے والے تاریخ طویل عرصے سے متنازع رہی ہے جس کی نشاندہی کرتے ہوئے کئی کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرپرسن اور معلم ڈاکٹر مہدی حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی نصاب کی کتابوں میں تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی بار تاریخ کے حوالے سے ان غلطیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے تاہم انھیں درست کرنے کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔
’یہ تو طے ہے کہ پاکستان میں نہ تو تاریخ لکھی جاتی ہے اور نہ پڑھائی جاتی ہے۔ تاریخ کے نام پر مذہب پڑھاتے ہیں، عقیدہ پڑھاتے ہیں، اپنی خواہشات پڑھاتے ہیں۔‘
ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے متعلقہ حکومتی ادارے سے حال ہی میں پابندی عائد کی جانے والی کتابوں کی تفصیل طلب کی ہے تا کہ معلوم کیا جا سکے کہ کس کتاب پر کس وجہ سے پابندی لگائی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تفصیلات مل جانے کے بعد اور ان کا جائزہ لے کر ہی وہ کوئی رائے قائم کر سکیں گے کہ پابندی کا فیصلہ کتنا درست اور کتنا غلط تھا۔












