تحریک لبیک یا رسول اللہ کے اشرف جلالی مقدس ہستیوں کی توہین کے مقدمے میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

اشرف جلالی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناشرف جلالی کے خلاف مذہبی شخصیات کی توہین کے الزام میں 18 جون کو مقدمہ درج کیا گیا تھا (فائل فوٹو)

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ایک مقامی عدالت نے تحریک لبیک کے اپنے ہی دھڑے کے سربراہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ سمن آباد میں مقدس ہستیوں کی توہین کے الزام میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 کے تحت گذشتہ ماہ کی 18 تاریخ کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقامی پولیس کے مطابق مقدمے کے اندراج کے بعد ایف آئی ار کو سیل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزم ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کو پیر کو تفتیش کے سلسلے میں حراست میں لیا تھا۔

ڈاکٹر اشرف جلالی کی ایک ویڈیو گذشتہ ماہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ پیغمبرِ اسلام کی وفات کے بعد اٹھنے والے ایک مسئلے پر گفتگو کرتے پائے گئے۔ ان کی جانب اِس مذہبی مسئلے کی تشریح کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں پر ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا اور بہت سی مذہبی شخصیات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مذہبی طبقوں کی جانب سے کہا گیا تھے کہ اشرف جلالی کی ویڈیو نے ان کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں اور مقدس شخصیات کی توہین کی ہے۔

منگل کو پولیس نے انھیں سخت سکیورٹی میں ماڈل ٹاؤن کچہری میں پیش کیا۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے اس مقدمے کے حوالے سے تفتیش مکمل کر لی گئی ہے اور اب ملزم تفتیش کے سلسلے میں پولیس کو مطلوب نہیں ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش کے دوران ملزم کے قبضے سے مبینہ طور پر مذہبی شخصیات کی توہین سے متعلق ویڈیو بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے اور اُنھوں نے پولیس کے ان تمام دعووں کی تردید کی ہے۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزم کو چار اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کریں۔

خادم رضوی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناشرف جلالی نے خادم رضوی سے علیحدہ ہو کر تحریک لبیک کا اپنا گروہ بنایا تھا (فائل فوٹو)

تحریک لبیک کے رہنما خادم حسین رضوی اور ڈاکٹر آصف جلالی کے درمیان اختلافات پارٹی قیادت حاصل کرنے کی بنیاد پر ہوئے تھے جس کے بعد ڈاکٹر آصف علی جلالی نے اپنا 'تحریک لبیک یا رسول اللہ' نام سے الگ گروپ بنا لیا تھا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت میں لاہور میں ایک ہفتے سے جاری مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک یارسول اللہ کے ایک دھڑے کا دھرنا حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہوگیا ہے۔

سنہ 2017 کے اختتام پر تحریک لبیک کے دونوں دھڑوں نے ’ختم نبوت‘ کے معاملے پر الگ الگ دھرنا دیا تھا۔ اشرف جلالی کی سربراہی میں تحریک لبیک کے دھڑے نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سات روزہ دھرنا دیا تھا اور اس وقت کے پاکستام مسلم لیگ نواز کے صوبائی اور وفاقی وزرا کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اس دھرنے کا خاتمہ کیا تھا۔

جبکہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں تحریک لبیک کے دوسرے دھڑے نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر دھرنا دیا تھا۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس دھرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ہونے والے کیس کا فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیا تھا اور بعدازاں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس یہ فیصلہ دینے کی وجہ سے بنایا گیا تھا۔