عامر لیاقت کا استعفے کا عندیہ اور سوشل میڈیا پر بحث: ’خان صاحب کا ساتھ چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘

،تصویر کا ذریعہPTI
کراچی سے پی ٹی آئی کے ایم این اے اور ٹیلی وژن کی نامور شخصیت عامر لیاقت حسین اور ان سے جڑے تنازعات کوئی نئی بات نہیں۔ یا تو وہ اپنے پروگراموں میں کی گئی باتوں کی وجہ سے خبروں میں ہوا کرتے تھے یا اپنے متنازع بیانات کے ساتھ شہ سرخیوں میں جگہ بناتے ہیں۔
اب ایک بار پھر ان کی ایک ٹویٹ نے لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔
عامر لیاقت نے ٹوئٹر پر اپنے ایک تازہ پیغام میں کہا کہ ’میں اعتراف کرتا ہوں میں کراچی کا ایک بے بس ایم این اے ہوں۔۔۔ اپنے شہر کے لوگوں کو بجلی فراہم کروانے سے قاصر ہوں۔۔۔ مجھ سے کراچی اور بالخصوص اپنے حلقے کے لوگوں کا تڑپنا سسکنا۔۔۔نہیں دیکھا جاتا۔۔۔ وزیراعظم سے وقت مانگا ہے مل کر انہیں استعفی پیش کردوں گا۔‘
یاد رہے کہ حال ہی میں کراچی کے شہری بجلی کی ترسیل سے متعلق پریشانی پر اکثر ٹوئٹر پر بھی کے الیکٹرک کے خلاف شکایتیں کرتے نظر آئے ہیں۔
اس پر ان کے مداح فوراً مشوروں کے ساتھ اس تھریڈ میں کود پڑے تاہم تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ کوئی انہیں فیصلے سے پہلے اچھی طرح سوچنے کا مشورہ دے رہا تھا تو کوئی اسے محض ’ڈرامے بازی‘ قرار دے رہا تھا۔
ایم علی نامی ایک صارف نے کہا کہ ’سر پلیز جو بھی فیصلہ کریں گے سوچ سمجھ کر کریے گا ہم ہر فیصلے میں آپ کے ساتھ ہیں مگر کچھ بھی ہو جائے خان صاحب کا ساتھ نہیں چھوڑنا، ہم نے مافیا سے آخر تک لڑنا ہے۔‘
عامر لیاقت نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’خان صاحب کا ساتھ چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
وقاص امجد کا کہنا تھا کہ ’استعفیٰ دینے سے کیا ہوگا؟؟؟ سسٹم میں رہ کر ہی سسٹم بدلنا ہوگا۔۔‘
جاوید فضلانی نے لکھا کہ ’یہ کرسی بڑی ظالم ہے عامر صاحب ۔۔۔۔۔چلیے دیکھتے ہیں۔ آپ میں کتنا دم ہے فیصلہ کرنے کا۔‘
اویس حیدر نے لکھا کہ ’ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔! آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے، اور کیا کرنا چاہیے، ہم جانتے ہیں کہ آپ بے بس ہیں اور کیوں ہیں یہ بھی جانتے ہیں۔ کے الیکٹرک کے معاملے میں صرف آپ ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت بھی بے بس ہے۔ اس مافیا کو لگام دیجیے خان صاحب سے مل کر، استعفیٰ نہیں۔۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری طرف ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے اس ٹویٹ کو محض ’ڈرامے بازی‘ قرار دیا اور عامر لیاقت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
خلیل حسن نامی صارف نے انہیں ماضی کی یاد دلاتے ہوئے مشورہ بھی دیا کہ ’یہ درست طریقہ نہیں ہے۔ آپ اپنی ذات کی خاطر پارٹی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔آپ کو شاید علم نہ ہو کہ آپ کو ٹکٹ دینے کے بارے میں پارٹی میں آپ کی شدید مخالفت تھی۔ کراچی کے کچھ ممبران نے لڑلڑ کر آپ کی نامزدگی کروائی۔ پی ٹی آئی اور عمران خان کے بغیر آپ کوئی الیکشن اب جیت نہیں سکتے۔‘
جب 2018 میں عامر لیاقت حسین نے عمران خان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ 'میرا آخری مقام پی ٹی آئی تھا۔'
ان کو ٹکٹ دینے کے فیصلے پر اُس وقت سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کئی کارکنان نے اعلانیہ اس فیصلے کے خلاف نہ صرف اظہارِ رائے کیا بلکہ کچھ نے تو پارٹی کے ساتھ اپنے تعلق کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
عامر لیاقت کا سیاسی سفر
عامر لیاقت حسین نے 2002 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے نشست پر کامیابی حاصل کی اور انہیں پرویز مشرف کے دور حکومت میں مذہبی امور کا وزیر مملکت بنایا گیا۔ جہاد اور خودکش حملوں کے حوالے سے ان کے متنازع بیانات پر کچھ مذہبی حلقے ان سے ناراض ہوئے۔ 2005 میں جامعہ بنوریہ کے ایک استاد کی ہلاکت پر جب وہ تعزیت کے لیے پہنچے تھے تو انہیں طلبہ نے یرغمال بنا لیا تھا۔
جولائی 2007 میں عامر لیاقت حسین نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا یہ استعفیٰ اس وقت سامنے آیا جب انھوں نے انڈین مصنف سلمان رشدی کو ٹی وی پروگرام میں ’واجب القتل‘ قرار دیا تھا۔ اگلے سال یعنی 2008 کو ایم کیو ایم نے عامر لیاقت کو پارٹی سے نکالنے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
عامر لیاقت حسین نے ایک بڑے عرصے تک سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور 2016 میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی متنازع تقریر سے چند روز قبل وہ دوبارہ سرگرم ہوئے۔ جب رینجرز نے ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو حراست میں لیا تو عامر لیاقت کو بھی اسی روز گرفتار کیا گیا تھا اور رہائی کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی پہلی پریس کانفرنس میں وہ بھی موجود تھے لیکن بعد میں دوبارہ غیر متحرک ہوگئے۔
عامر لیاقت حسین کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبریں 2017 میں سامنے آئی تھیں۔ ان کی اپنی ٹویٹس کے باوجود اعلان سامنے نہیں آیا تھا مگر بالاخر وہ پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔
پارٹی میں شمولیت کے وقت بھی عامر لیاقت کو پی ٹی آئی کے کچھ حامیوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اب جب انھوں نے استعفی دینے کی بات کی تو ایک صارف نے اپنے رائے کچھ یوں بیان کی:
عاصیمہ جاوید نے لکھا کہ ’اچھا ہوگا اگر آپ پی ٹی آئی کی جان چھوڑ دیں۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ وزارت۔ یہ کراچی کے لوگوں کی ہمدردی کے لیے نہیں بلکہ وزارت کے لیے دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس دفعہ ہمت کر ہی لیں آپ استعفی دینے کی۔۔ جو کرنی نہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
مصباح نعیم نے عامر لیاقت کے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’جو مشکلات سے ڈر کے بھاگ جائے وہ مرد مومن ہی نہیں۔ آپ خود ہی کچھ کرنا نہیں چاہتے۔ آپ صرف ٹی وی شو میں اچھل اچھل کر باتیں ہی کر سکتے۔ ہیں آپ جیسے لوگ عوام کی کیا خدمت کریں گے۔‘
محمد جمیل نے بھی اُن کے بیان پر خوب تنقید کی اور کہا کہ ’بھائی یہ سب ڈرامے بازی ہے۔ یہ لوگ پرانے اداکار ہیں۔ الطاف کے ٹائم گھنٹوں ٹی وی پر ایسے ڈرامے ہوتے تھے۔ پہلے صدارت چھوڑنے کا اعلان پھر واپسی کا اعلان۔‘












