ضلع کرم میں پرتشدد جھڑپیں: ’معاملہ زمین کی ملکیت کا ہے، فرقہ وارانہ نہیں‘

پاڑہ چنار

،تصویر کا ذریعہKP POLICE

،تصویر کا کیپشنتنازع زمین کا جس پر رنگ فرقہ واریت کا چھڑ گیا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے ضلع کرم میں دو قبائل کے درمیان زمین کے تنازعے پر پرتشدد چھڑپوں میں اب تک 9 افراد ہلاک اور 24 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دونوں قبائل کے درمیان جھڑپیں تین روز سے جاری ہیں اور منگل کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

چھڑپوں کی اطلاعات کے بعد یہ خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ یہ فرقہ ورانہ تشدد کے واقعات ہیں لیکن مقامی انتظامیہ اور لوگوں کے مطابق بنیادی طور پر یہ دو قبائل کے درمیان زمین کی ملکیت کا تنازعہ ہے۔

ضلع کرم کے رکن صوبائی اسمبلی محمد ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ تنازعہ زمین کی ملکیت کا ہے۔ پاڑہ چمکنی قبائل اور بالیش خیل قبائل زمین کے دعویدار ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ بالیش خیل قبیلے کا تعلق اہل تشیع سے ہے اور ان کے ساتھ کچھ اہل سنت کے لوگ بھی ہیں جبکہ پاڑہ چمکنی اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن حالیہ تنازعہ فرقے کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ بنیادی طور پر یہ زمین کی ملکیت کا تنازعہ ہے جس پر دونوں قبیلے آمنے سامنے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مقامی ذرائع نے بتایا کہ چند روز پہلے ایک قبیلے کی جانب سے متنازعہ زمینوں پر خیمے نصب کیے گئے تھے جس کے بعد دوسری جانب سے بھی خیمے نصب کر کے مورچہ بندی کر دی گئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ مقامی نمائندوں نے جنگ بندی کی کوششیں کیں اور کسی حد تک کامیابی ہو گئی تھی لیکن اس کے بعد دونوں جانب سے پھر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ میں پہل کس جانب سے ہوئی تھی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ماضی میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں اور حالیہ کشیدگی بظاہر زمین کی ملکیت کا تنازعہ ہے لیکن اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو یہ مسئلہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس بارے میں بحث جاری ہے اور بعض ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں اس جھڑپ کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور جن میں بظاہر دونوں جانب سے بظاہر فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

کرم ایجنسی

،تصویر کا ذریعہKP POLICE

،تصویر کا کیپشناس علاقہ میں ماضی میں فرقہ وارانہ کشیدگی رہی ہے

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ کے عہدیدار جن میں سول انتظامیہ کے ساتھ سکیورٹی حکام شامل ہیں منگل کو دونوں قبائل کے رہنماؤں سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جس مقام پر جھڑپیں ہو رہی ہیں وہاں دونوں قبائل اپنے اپنے علاقوں میں مورچوں میں موجود ہیں اور خیمے بھی موجود ہیں۔ قبائلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک خیمے ہٹا نہیں دیے جاتے تب تک مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس وقت سکیورٹی حکام اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگر کشیدگی کم نہیں ہوتی اور دونوں فریق اپنے موقف پر قائم رہتے ہوں تو ایسی صورت میں حکومت کو امن قائم رکھنے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی اور اس کے لیے علاقے میں فضائی کارروائی کے لیے ہیلی کاپٹرز بھی پہنچ گئے ہیں۔

مقامی پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ تین روز سے جاری جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے جانی نقصان ہوا ہے جس میں ایک اطلاع یہ ہے کہ بالش خیل قبیلے کے 5 اور پاڑہ چمکنی قبیلے کے چار افراد اس میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دونوں جانب سے 24 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور بعض اوقات بھاری اسلحہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ اپر کرم اور لوئر کرم کا سرحدی علاقہ ہے۔

تنازعہ کتنا پرانا ہے؟

کرم ایجنسی

،تصویر کا ذریعہKP POLICE

،تصویر کا کیپشندونوں قبائل نے باقاعدہ مورچہ بندی کر رکھی ہے

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تنازعہ بظاہر 10 سے پندرہ سال پہلے شروع ہوا جب اس علاقے میں کچھ لوگوں نے تعمیرات شروع کر دی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں اب تک متعدد مرتبہ جھڑپیں ہو چکی ہیں اور اس میں بڑی تعداد میں جانی نقصانات بھی ہوئے ہیں لیکن اب تک اسے حل نہیں کیا جا سکا۔

جس زمین پر تنازعہ ہے یہ ہزاروں ایکڑوں پر محیط رقبہ ہے جس میں پہاڑ اور ایسی زمین شامل ہے جہاں معدنیات پائی جاتی ہیں۔ دونوں قبیلیوں کے افراد کا دعوی ہے کہ یہ زمین ان کی ملکیت ہے۔

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سجاد طوری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تنازعے پر پہلے بھی جھڑپیں ہو چکی ہیں لیکن یہ حل طلب تنازعہ ہے اور حکومت نے اب تک حل نہیں کیا جس وجہ سے اس میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بالیش خیل قبیلے کے لوگ چند روز پہلے زمین پر کام کے لیے آئے تو دوسری جانب سے پاڑہ چمکنی کے لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی اور انھیں کام سے روکا جس پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اس زمین کا ریکارڈ سرکاری کاغذات میں موجود ہے اور یہ حل ہو سکتا ہے لیکن اس طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔