کرم ایجنسی میں کالعدم تنظیموں کا خوف

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاڑا چنار
پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑا چنار میں گذشتہ چند سالوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے تاہم علاقے کے باشندوں کو اب فرقہ ورانہ تشدد سے زیادہ کالعدم تنظیموں سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔
کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ واقعات کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے جو مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً ستر برس کے عرصے پر محیط رہی ہے۔ تاہم حالیہ کچھ عرصہ میں اس تشدد میں کافی حد تک کمی دیکھی جارہی ہے۔
ایجنسی بھر میں آخری مرتبہ 2007 اور 2008 میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے جو وقفوں وقفوں سے تقریباً چار سال تک جاری رہے تھے۔ لیکن 2012 کے بعد سے علاقے میں مسلک کی بنیاد پر کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔
تاہم مقامی لوگوں کو اب فرقے کی بنیاد پر ہونے والے تشدد سے زیادہ کالعدم اور شدت پسند تنظیموں سے خطرہ محسوس ہورہا ہے۔ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران اگر ایک طرف فرقہ واریت کے نام پر تشدد میں کمی آئی ہے تو دوسری طرف بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں جس سے علاقے میں خوف کی کفیت بھی پائی جاتی ہے۔ بیشتر واقعات کا مرکز پاڑا چنار شہر رہا ہے جہاں طوری اور بنگش قبائل آباد ہیں۔ ان میں زیادہ تر قبائل اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

جنوری کے ماہ میں پاڑا چنار شہر کے سبزی مارکیٹ میں ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 24 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔
اس سے پہلے بھی ایجنسی بھر میں وقفوں وقفوں سے بم دھماکوں اور دیگر تشدد کے واقعات کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ لیکن علاقے میں زیادہ تشویش اور خوف کالعدم تنظیموں کے حالیہ دھمکیوں کے ضمن میں پائی جاتی ہے۔ چند دن پہلے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کی جانب سے ایک پمفلٹ پھینکا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان کے بعد اب وہ پاکستان میں اپنی کارروائیاں کرے گی۔ پشتو زبان میں تحریرشدہ یہ پمفلٹ کرم ایجنسی کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس طرح کا ایک پمفلٹ گزشتہ سال بھی سرحدی مقامات سے ملا تھا جس میں کاروائیاں کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
یاد رہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف سے دنیا بھر میں شعیہ فرقے کے افراد اور ان کے مقامات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
کرم ایجنسی میں فری لانس کالم نگار اور پی ایچ ڈی کے سکالر عامر عباس طوری کا کہنا ہے کہ پہلے علاقے کا سب سے بڑا مسلہ فرقہ وارانہ واقعات ہوا کرتے تھے لیکن فریقین کے نقصانات اور شاید شعور کی بیداری کی وجہ سے اب یہ معاملہ ختم ہوکر رہ گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اب کالعدم اور شدت پسند تنظیمیں پاڑا چنار شہر اور آس پاس کے علاقوں کےلیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا ر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آئے روز کوئی نہ کوئی دھمکی ملتی ہے جس سے علاقے کے باشندے سخت خوف کی کفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اگرچہ کرم ایجنسی میں اب سکیورٹی فورسز کی عمل داری نہ صرف مکمل طورپر بحال ہوچکی ہے بلکہ زیادہ تر حساس علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات بھی نظر آتے ہیں۔

چپری چیک پوسٹ جہاں سے کرم ایجنسی کی حدود کا آغاز ہوتا ہے وہاں سے لے کر پاڑا چنار شہر تک تقریباً 65 کلومیٹر کے اس فاصلے پر ہرفرلانگ اور دو فرلانگ پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جہاں ٹل سکواٹس اور کرم ملیشا کے اہلکار ہمہ وقت ہر قسم کے خطرے کےلیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاڑا چنار شہر ، آس پاس کے مقامات اور افغان سرحد تک جانے والے راستوں پر بھی سکیورٹی فورسز کی بھاری موجودگی نظر آتی ہے۔
ادھر دوسری طرف کرم ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ اکرم اللہ خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایجنسی بھر میں ایسا کوئی علاقہ موجود نہیں جہاں شدت پسند قابض ہوں یا وہاں ان کی موجودگی پائی جاتی ہو۔
انھوں نے کہا کہ ایجنسی میں امن و امان کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں بہت حد تک بہتر ہے تاہم کبھی نہ کبھی دھماکے کا ہونا یا ہدف بناکر قتل کے واقعے کا رونما ہونا اس دہشت گردی کی جنگ کا حصہ ہے جس سے ملک کے بیشتر علاقے متاثر ہے۔









