دس سال کے دوران کرم ایجنسی میں کیا تبدیلی آئی؟

کرم ایجنسی
،تصویر کا کیپشنکئی سالوں تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہنے والی ٹل پاڑہ چنار شاہراہ اب ایک شاندار سڑک کی شکل اختیار کر چکی ہے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کا شمار کسی زمانے میں پرامن علاقوں میں ہوتا تھا۔ یہاں فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات ہوتے رہے لیکن دیگر قبائلی ایجنسیوں کی طرح یہاں شدت پسندی کا عنصر اتنا گہرا نہیں تھا۔

اس دور میں جب ملک بھر اور بالخصوص فاٹا اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کی آگ تیزی سے پھیلتی جا رہی تھی، شدت پسندوں نے کرّم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار پر یلغار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

جہاں بالائی کرم میں شدت پسند اپنا اثر و رسوخ زیادہ عرصے تک قائم کرنے میں ناکام رہے وہیں وسطی کرم کا علاقہ بھی ایک مختصر مدت کے لیے شدت پسندوں کے کنٹرول میں ضرور رہا۔ تاہم وہاں بھی اس طرح کی صورتحال نہیں رہی جو فاٹا کے دیگر علاقوں میں دیکھنے میں آئی۔

دس سال قبل مجھے اس وقت پاڑہ چنار اور صدا سب ڈویژن جانے کا اتفاق ہوا تھا جب ان علاقوں میں شیعہ سنی فسادات عروج پر تھے تاہم گذشتہ دس سالوں کے دوران کرم ایجنسی کے حالات میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔

کرم ایجنسی
،تصویر کا کیپشنپاڑہ چنار شہر میں بعض ایسی چیزیں بھی نطر آئی جنھیں دیکھ کر گمان نہیں ہوتا کہ یہ کوئی قبائلی علاقہ ہے

اس زمانے میں شیعہ یا سنی آبادی پاڑہ چنار شہر یا صدا جاتے ہوئے صرف اس علاقے سے گزر سکتی تھی جہاں اس فرقے کا اثر ہوتا تھا وہ بھی ایسی صورت میں کہ اس کی مکمل جانچ پڑتال ہوتی تھی اور شناختی کارڈ تک چیک کیا جاتا تھا۔

لیکن اب ٹل پاڑہ چنار شاہراہ پر سفر کرتے ہوئے ایسی کوئی صورتحال دور دور تک نظر نہیں آتی۔

کئی سالوں تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہنے والی ٹل پاڑہ چنار شاہراہ اب ایک شاندار سڑک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماضی کی اس غیرمحفوظ شاہراہ پر اب دن رات سکیورٹی فورسز کی بھاری موجودگی نظر آتی ہے۔

چیک پوسٹیں اتنی زیادہ ہیں کہ گننا مشکل ہے اور مخالف فرقے کے افراد کے اغوا اور انھیں یرغمال بنانے جیسے واقعات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔

کرم ایجنسی
،تصویر کا کیپشنپاڑہ چنار کے صحافیوں نے بھی اگر شکایت کی تو صرف انٹرنیٹ کی

چند سال پہلے علاقے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی یہ شاہراہ تقریباً چار سال تک بند رہی تھی جس کی وجہ سے فریقین کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا اور بظاہر یہی وہ نقصان ہے جس کی وجہ سے لوگ اب زیادہ باشعور دکھائی دیے۔

اس بندش کی وجہ سے مقامی افراد کو کئی قسم کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ 'جس کسی کو سڑک کی طویل بندش یاد ہے وہ پھر کبھی اس شاہراہ پر ایسا کام ہرگز نہیں ہونے دے گا جس سے دوبارہ سڑک کی بندش کا خطرہ ہو۔'

کرم ایجنسی کا شمار ملک کے ان قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے جہاں تعلیم کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہاں خواتین کی شرح تعلیم بھی فاٹا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس کا ایک ثبوت پاڑہ چنار شہر ہے جہاں سرکاری تعلیمی اداروں کے علاوہ اس وقت 40 سے زیادہ نجی تعلیمی ادارے بھی قائم ہیں جو کسی قبائلی علاقے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

صدا اور پاڑہ چنار میں مختصر مدت کے لیے رہ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان علاقوں کے بازار اور تجارتی مراکز پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک آباد ہوچکے ہیں اور وہاں گہماگہمی دکھائی دیتی ہے۔

کرم ایجنسی
،تصویر کا کیپشنپاڑہ چنار شہر میں انٹرنیٹ سروس برائے نام حد تک موجود ہے

پاڑہ چنار شہر میں بعض ایسی چیزیں بھی نطر آئی جنھیں دیکھ کر گمان نہیں ہوتا کہ یہ کوئی قبائلی علاقہ ہے۔ شہر میں پیزا فروخت کرنے والی دکانیں کھل گئی ہیں جہاں اچھی کوالٹی کا پیزہ اور دیگر بیکری کا سامان فروخت ہوتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض دیگر ایسی سہولیات بھی ہیں جو شاید فاٹا کے دیگر علاقوں میں تو دستیاب ہیں لیکن یہاں وہ خال خال دکھائی دیتی ہیں یا ان کا معیار اچھا نہیں ہے۔

موجود دور میں انٹرنیٹ ایک سہولت سے زیادہ ضرورت بن چکا ہے لیکن پاڑہ چنار شہر میں یہ سروس برائے نام موجود ہے۔ اور تو اور یہاں موبائل فون پر بھی تھری جی کی سہولت بھی نہیں پائی جاتی۔

پاڑہ چنار کے صحافیوں نے بھی اگر شکایت کی تو صرف انٹرنیٹ کی۔ سینیئر صحافی علی افضل افضال کا کہنا تھا کہ جب کوئی بڑی خبر ہوتی ہے تو دفتر والے جلدی بھیجنے کی بات کرتے ہیں اور یہاں انٹرنیٹ کام نہیں کر رہا ہو تو ایسے میں پاگلوں کی طرح ادھر ادھر بھاگنا پڑتا ہے۔