جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ’قتل کی دھمکی‘ کا از خود نوٹس: ایف آئی اے کے سربراہ کو سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا حکم

جسٹس فائز عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس نے اس ویڈیو سے متعلق 25 جون کو از خود نوٹس لیا تھا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے عدالت عظمی کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کو ایک ویڈیو میں قتل کی دھمکی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سربراہ کو آئندہ سماعت پر سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اس ویڈیو میں جسٹس قاضی فائز عیسی کو قتل کی دھمکی دینے والے شخص افتخار الدین مرزا کو بھی ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس نے اس ویڈیو سے متعلق 25 جون کو از خود نوٹس لیا تھا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعے کے روزاس از خود نوٹس کی سماعت شروع کی تو بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس ویڈیو سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست دی تھی لیکن چونکہ یہ معاملہ انٹرنیٹ کا ہے اس لیے اس کی تحقیقات کے لیے پولیس نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو بھجوا دیا ہے جو الیکٹرانک کرائم کے قوانین کی روشنی میں کارروائی کرر ہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس پہلے بھی ججز کے معاملات ہیں۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعے کے روزاس از خود نوٹس کی سماعت شروع کی تو بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے

واضح رہے کہ ایف آئی اے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو کے بارے میں بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ مذکورہ جج نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ایک مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے بعدان کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں سابق جج ارشد ملک کا کہنا تھا کہ ان پر نواز شریف کو سزا دینے کے لیے دباؤ ہے۔

اس مقدمے میں مذکورہ جج کو ابھی تک صرف اپنے عہدے سے ہٹایا گیا ہے جبکہ مبینہ طور پر اس ویڈیو کو بنانے کے الزام میں کچھ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو میں ملک کے ایک ادارے کو دھمکی دی گئی جبکہ اس ادارے میں کام کرنے والے ایک جج کا نام تضحیک سے لیا گیا۔

اس از خود نوٹس کی سماعت کے بعد ویڈیو میں جسٹس قاضی فائز عیسی کو دھمکی دینے والے شخص افتخار الدین مرزا کو عدالت سے باہر جاتے ہوئے پولیس نے حراست میں لے لیا جس کے بعد ان کے وکیل نے اس بارے میں چیف جسٹس کو آگاہ کیا۔

عدالت نے پولیس اہلکاروں کو طلب کرکے ان سے افتخار الدین مرزا کی گرفتاری کی وجہ پوچھی، لیکن پولیس کوئی جواب نہ دے سکی۔ جس کے بعد چیف جسٹس نے پولیس سے افتخار الدین مرزا کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے انھیں بات کا پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر دو جولائی کو عدالت میں پیش ہوں۔