جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ’قتل کی دھمکی‘: پولیس نے معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر لیا، سپریم کورٹ کا وائرل ویڈیو پر ازخود نوٹس

جسٹس فائز عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

،تصویر کا کیپشناپنی درخواست میں سرینہ عیسیٰ نے کہا ہے کہ ’بہت سے طاقتور لوگ‘ ان کے خاوند سے خوش نہیں ہیں اور اس طرح کی قتل کی دھمکیاں اُن حالات کا تسلسل ہیں جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کا ازخود نوٹس لے لیا ہے جس کے بارے میں عدالت کا کہنا ہے کہ اس میں عدلیہ اور اس کے ججز کے حوالے سے توہین آمیز گفتگو کی گئی ہے۔ ادھر اسلام آباد پولیس نے یہ معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس معاملے کی سماعت جمعے کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بینچ نمبر ون کرے گا۔

یہ وہی ویڈیو ہے جس کی باقاعدہ شکایت بدھ کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسی نے اسلام آباد پولیس کو کی تھی اور کہا تھا کہ اس ویڈیو میں ان کے شوہر کو ’قتل کی دھمکیاں‘ دی گئی ہے۔

تاہم جمعرات کو اسلام آباد پولیس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں کے معاملے کو سائبر کرائم سے متعلقہ قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ دھمکی انٹرنیٹ پر موجود ایک ویڈیو کے ذریعے دی گئی ہے اس لیے یہ معاملہ پولیس سے متعلق نہیں بلکہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کا ہے۔

پولیس نے سرینہ عیسیٰ کی درخواست بمعہ شواہد (جو کہ ایک ویڈیو کی صورت میں ہیں) سائبر کرائم ونگ کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

درخواست میں کیا کہا گیا تھا؟

سرینہ عیسی کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک جج کو قتل کی دھمکیاں دینا دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔

اپنی درخواست میں انھوں نے حال ہی میں انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا حوالہ دیا ہے جس میں ایک خطیب نے کہا تھا کہ ’جو شخص بھی ملک میں بدعنوانی یا غبن میں ملوث پایا جائے، چاہے وہ نواز شریف ہو، آصف زرداری ہو، یا جسٹس فائز عیسیٰ ہو، انھیں سیدھا فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر دیا جائے۔‘

جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے پولیس کو دی گئی اپنی درخواست کے ساتھ یہ ویڈیو بھی منسلک کی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق اس درخواست پر قانونی رائے لینے کے لیے اسے پولیس کی لیگل برانچ کو بھجوایا گیا تھا۔

ویڈیو میں مزید کیا کہا گیا؟

یہ ویڈیو کلپ ایک خطیب کی ہے جو اپنی ویڈیو میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چین میں حکومت غبن اور بدعنوانی میں ملوث افراد کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دے دیتی ہے۔

اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ ’مثالی صورتحال‘ یہ ہے کہ چین کا فارمولا اپناتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری یا کسی بھی شخص کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر دینا چاہیے۔

اس ویڈیو میں ’پاکستان کی مسلح افواج کے ذمہ داران‘ کو بھی مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ ’اگر انھوں نے ملک کو بچانا ہے تو وہ اس عدلیہ کا بندوبست کریں۔‘

اس ویڈیو کلپ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایسے افراد کو پھانسی لگانے کی ضرورت ہے اور انھیں راولپنڈی کے فوارہ چوک میں لایا جائے اور لوگوں کو بلایا جائے کہ ایسے افراد کو وہاں پر گولی ماری جائے گی۔‘

سرینہ عیسیٰ نے اس درخواست میں دھمکیاں دینے والے کا نام آغا افتخار الدین مرزا بتایا گیا ہے، تاہم انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ نہیں جانتیں کہ یہ اس شخص کا اصل نام ہے یا نہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ

’بہت سے طاقتور لوگ میرے خاوند سے خوش نہیں‘

اس درخواست میں سرینہ عیسیٰ نے کہا ہے کہ ’بہت سے طاقتور لوگ‘ ان کے خاوند سے خوش نہیں ہیں اور اس طرح کی قتل کی دھمکیاں اُن حالات کا تسلسل ہیں جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔

اس درخواست میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے شوہر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف عبدالوحید ڈوگر نامی شخص کی جانب سے درخواست جمع کروائی گئی، تاہم ان کے شوہر (جسٹس فائز عیسیٰ) کی جانب سے عبدالوحید ڈوگر کے بارے میں استفسار پر حکومت کی طرف سے اُنھیں کچھ نہیں بتایا گیا کہ وہ کون ہیں اور کس کے لیے کام کرتے ہیں۔

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وحید ڈوگر کو تلاش کرنے کے لیے مرزا شہزاد اکبر سے رابطہ کیا جائے جن کا دفتر وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ہے۔

یاد رہے کہ شہزاد اکبر وزیرِ اعظم ہاؤس میں قائم ’اثاثہ جات ریکوری یونٹ‘ کے سربراہ ہیں۔

قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وحید ڈوگر کو ’چند انتہائی طاقتور لوگ‘ استعمال کر رہے ہیں اور اس بارے میں فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ سے بھی رابطہ کیا جائے جو اس بارے میں معلومات رکھتے ہوں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک جج کو قتل کی دھمکی دینا ’دہشتگردی کی سب سے بدترین قسم ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ بہت سے بااختیار لوگ ان کے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے پولیس سے اس حوالے سے مقدمہ درج کرنے اور انھیں تفتیش کی کارروائی سے آگاہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرینس کا پس منظر

یاد رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر صدارتی ریفرینس کو 19 جون کو اپنے فیصلے میں کالعدم قرار دے دیا تھا۔

فل بینچ کی جانب سے جو ریفرنس مسترد کیا گیا اس میں جسٹس فائز عیسیٰ پر اپنے خاندان کے برطانیہ میں موجود اثاثے چھپانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انھیں ضابطہ کار کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے اس ریفرنس پر جسٹس فائز عیسیٰ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا جسے جسٹس عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں چیلینج کر دیا تھا۔

جسٹس عیسیٰ کی جانب سے اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرینس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

کالعدم قرار دیے گئے اس ریفرینس میں شکایت کنندہ عبدالوحید ڈوگر ہی ہیں جن کا ذکر سرینہ عیسیٰ نے اپنی درخواست میں کیا ہے۔