چند گھنٹے کا ’پولیس افسر‘:تعریفیں، مبارکبادیں اور پھر گرفتاری

پولیس

،تصویر کا ذریعہSocial media

،تصویر کا کیپشنپنوعاقل تھانے کے ایس ایچ او مشتاق جتوئی نے اپنے پیج پر سپاہی شاہ رخ کلہوڑو کی فخریہ انداز میں تصاویر رکھیں، جس نے پھلوں کے ہار پہن رکھے ہیں
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’سندھ پولیس کا سپاہی سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے اسی محکمے کا افسر یعنی اے ایس پی بن گیا۔‘ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر تعریفوں اور شاباشیوں کا سمندر امنڈ آیا، لیکن شام کو ایس ایچ او اور اس کا مذکورہ گن مین سپاہی معطل ہو گئے۔

اس کہانی کا آغاز فیس بک سے ہی ہوا، جب پنو عاقل تھانے کے ایس ایچ او مشتاق جتوئی نے اپنے پیج پر سپاہی شاہ رخ کلہوڑو کی فخریہ انداز میں تصاویر رکھیں، جس نے پھولوں کے ہار پہن رکھے ہیں، ایس ایچ او نے تحریر کیا کہ ’سندھ کا ٹیلنٹ پولیس کانسٹیبل شاہ رخ کلہوڑو اے ایس پی تعینات۔‘

سکھر میں سندھی نیوز چینل کے ٹی این کے صحافی جان محمد مہر نے اس خبر کو پہلے اپنے چینل پر چلایا، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ایس ایچ او مشتاق جتوئی سے بات ہوئی تو انھوں نے تصدیق کہ ان کا گن مین اب افسر بن گیا ہے اس کو اجازت دے دی گئی ہے، وہ گاؤں چلا گیا ہے، اس سے قبل انھوں نے اس کو استقبالیہ بھی دیا اور دیگر سپاہیوں نے بھی مبارک باد دی اور اپنے ساتھی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔

صحافی جان محمد مہر کے مطابق ’میں نے ایس ایس پی سکھر سے بات کی انھوں نے بھی بتایا کہ ایس ایچ او نے انھیں آگاہ کیا ہے، اس کے بعد میں نے کمیشن کی ویب سائٹ پر جا کر دیکھا تو 78 نمبر پر دیہی سندھ سے کامیاب امیدوار شاہ رخ کا نام لکھا تھا لیکن ذات تحریر نہ تھی، یہ دیکھنے کے بعد انھوں نے نیوز چلائی۔‘

چینلز کے نیوز بلیٹن اور فیس بک پر یہ خبر اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد شاہ رخ شیخ نامی نوجوان سامنے آیا جس نے فیس بک پر تحریر کیا کہ ’میرا نام شاہ رخ ہے اور میں شیخ ہوں، میرا تعلق پنو عاقل سے ہے، خدا کے کرم سے مجھے پی ایس پی ایلوکیٹ کیا گیا ہے، میں نے 2019 میں سی ایس ایس پاس کیا تھا اور میں 2018 میں لمز لاہور سے گریجویٹ ہوں۔‘

شاہ رخ نے واضح کیا کہ میڈیا میں ایک جعلی خبر گشت کر رہی ہے کہ ’میں پولیس کانسٹیبل ہوں اور میرا نام شاہ رخ کلہوڑو ہے جو سراسر غلط ہے۔‘

فیس بک پر اس وضاحت کے ساتھ شاہ رخ شیخ نے ایس ایس پی سکھر عرفان سموں سے رابطہ کیا، ایس ایس پی نے فوری طور پر ایس ایچ او پنو عاقل کو معطل اور مذکورہ پولیس کانسٹیبل کو کوارٹر گارڈ کر دیا ہے۔

شاہ رخ

،تصویر کا ذریعہSocail media

ایس ایس پی سکھر عرفان سموں نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کانسٹیبل شاہ رخ کلہوڑو سندھ ریزرو پولیس خیرپور میں سپاہی ہے، کورونا ڈیوٹی میں اس کا سکھر ضلع میں تبادلہ کیا گیا ہے اور پنوعاقل میں تعیناتی کی گئی، اس کا تعلق گھوٹکی سے ہے۔

پولیس کانسٹیبل شاہ رخ کلہوڑو کا ویڈیو بیان بھی فیس بک پر ہی سامنے آیا جس میں اس نے کہا ہے کہ سندھ دیہی سے سی ایس ایس کے لیے کوشش کی تھی حالیہ نتیجہ دیکھ کر وہ خوش اور جذباتی ہو گیا تھا۔

شاہ رخ

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

،تصویر کا کیپشنیہ خبر اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد شاہ رخ شیخ نامی نوجوان سامنے آیا جس نے فیس بک پر تحریر کیا کہ 'میرا نام شاہ رخ ہے اور میں شیخ ہوں

’بہت عرصہ ہوگیا تھا مجھے اپنا رول نمبر بھی یاد نہیں تھا نام دیکھا، میں معذرت خواہ ہوں میرا مقصد ہرگز نہیں تھا کہ لوگوں کو گمراہ کروں۔‘

ایس ایس پی عرفان سموں کے مطابق سی ایس ایس کا نتیجہ تو ایک سال پہلے آیا تھا اس وقت محکموں کی ایلوکیشن کی گئی ہے ایک سال میں کئی ٹیسٹ دینے ہوتے ہیں اگر اس سپاہی نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہوتا تو اسی سال ہی معلوم ہو جاتا، اس نے دراصل غلط بیانی کی ہے جس کی تحقیقات کے لیے اے ایس پی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ہے۔