پاکستان اور انڈیا کے مابین تجارت میں کمی: خیرپور کا چھوہارا جو ’دلی میں ہاتھوں ہاتھ بکتا تھا‘ اب گودام میں پڑا ہے

- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’ہر سال ہم انڈیا میں چھوہارے بھجتے تھے۔ خیرپور اور سکھر میں خوشحالی تھی۔ مگر اب تو ہر طرف مایوسی ہی مایوسی ہے۔‘
یہ کہنا ہے کھجور کی پیداوار کے لیے مشہور پاکستان میں صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور کے تاجر کنور لال کا جو بادشاہ ٹریڈر کے نام سے چھوہارے کا کاروبار کرتے ہیں۔
کنور لال کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال جب سے پاکستان نے چھوہارے کی انڈیا برآمد پر پابندی لگائی ہے اور انڈیا نے ٹیکس اور ڈیوٹی میں اضافہ کیا ہے، ان کا کاروبار ’نصف سے کم‘ رہ گیا ہے۔
خیر پور کے کاشت کار اور سندھ آباد گار فاؤنڈیشن کے سیکریٹری عتیق الرحمن میمن کا کہنا ہے کہ پابندی کی وجہ سے گذشتہ سال کاشتکاروں کو اچھے نرخ نہ مل سکے۔
’جب چھوہارا انڈیا جاتا تھا تو اس وقت کاشت کار کو اچھے معیار کے چھوہارے کے پانچ ہزار روپے فی من نرخ مل جاتے تھے۔ لیکن گذشتہ سال یہ دو ہزار روپے فی من تک گِر گئے۔
’اب جولائی میں دوبارہ کھجور کا موسم شروع ہوچکا ہے۔ کاشت کاروں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا؟‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

خیر پور کھجور و اناج ہول سیل ایسوسی ایشن کے صدر محمد بشیر آرائین کے مطابق ’چھوہارے کی ایکسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت خیر پور اور سکھر میں دو اور سوا دو من کی کم از کم تین لاکھ بوریاں گودام میں پڑی ہیں جن کا کاہگ ہی دستیاب نہیں۔ یہ خراب ہو رہی ہیں۔‘
’لگتا ہے کہ یہ اونے پونے داموں کراچی کی بھینس مارکیٹ میں ہی بھیجنا پڑ جائیں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چھوہارے کی برآمد سے کوئی دو سو کاروباری ادارے منسلک تھے۔ مگر اب یہ کم ہو کر صرف بیس کے قریب رہ گئے ہیں۔
اسی طرح انڈیا میں کاروبار اور بالخصوص درمیانی سطح کا کاروباری طبقہ بھی مشکلات کا شکار ہے۔
درشن لال انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں مشہور زمانہ کاروباری مرکز چاندنی چوک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سے آیا ہوا چھوہارا ہماری دکان سے ہاتھوں ہاتھ بکتا تھا۔ ہم دیگر اشیا کا بھی کاروبار کرتے ہیں۔ مگر چھوہارا سب سے زیادہ فروخت ہوتا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے لاک ڈاون کے باعث ویسے ہی کاروبار محدود ہوچکا ہے۔ چھوہارا مارکیٹ کی طلب کے مطابق دستیاب نہیں۔ اس کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے۔‘
کھجور چھوہارا کب بنتی ہے؟
عبدالقیوم میمن جی این ایس نامی کمپنی چلاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ خیر پور اور سکھر میں کھجور سے چھوہارا بنانے کا کام صدیوں سے روایتی طور پر ہورہا ہے۔

’میری معلومات کی حد تک خیرپور کی کھجور سے دنیا کا بہترین اور سب سے زیادہ چھوہارا حاصل ہوتا ہے۔ اس چھوہارے کی پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں مذہبی اور ثقافتی حیثیت ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان دونوں اسے اپنی شادی، بیاہ اور خوشی کے موقع پر استعمال کرتے ہیں
کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں نکاح اور نماز جنازہ کے بعد چھوہارے تقسیم ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہندوؤں کی عبادت کے دوران مندروں میں پرشاد کے طور پر چھوہارا تقسیم ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں انڈیا چھوہارے کا سب سے بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے۔ ’خیرپور اور سکھر میں ہمارے اندازوں کے مطابق اوسطاً سالانہ چھ لاکھ ٹن کھجور حاصل ہوتی ہے۔ اس کھجور کا چار لاکھ ٹن یعنی 80 فیصد چھوہارا بنتا ہے۔ جس کا 80 فیصد انڈیا کو برآمد ہوتا تھا۔‘
عبدالقیوم میمن کے مطابق کھجور کو چھوہارا بنانے کا طریقہ صدیوں سے رائج ہے۔

عموماً اگر کسی کو جون، جولائی کے دوران خیر پور میں سفر کرنے کا موقع ملے تو وہ دیکھ سکتے ہیں کہ مرد و خواتین سڑک کے کنارے کھجوروں کے باغات میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔
عبدالقیوم کے مطابق کھجور کی تین اقسام چھوہارا بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، ڈھکی، اصیل اور خود روی۔
ان کا کہنا تھا کھجور کو تین حالتوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلی حالت کو ڈوکا کہتے ہیں۔ اس حالت میں کھجور کا رنگ پیلا ہوتا ہے۔ مگر ابھی پھل کچا ہوتا ہے۔
دوسری حالت کو ڈنگ کہتے ہیں۔ جب پھل تھوڑا پک جائے تو کھجور کی اس حالت کو ڈنگ کہتے ہیں۔ جب کھجور مکمل طور پر پک جائے تو اسے پنڈ کہتے ہیں۔

چھوہارا بنانے کے لیے کھجور کو اس کی پہلی حالت میں یعنی جب یہ کچی ہو اور رنگ پیلا تب استعال کیا جاتا ہے۔
اسے توڑ کر باغات میں رکھا جاتا ہے۔ ایک بڑی کڑاہی میں پانی ڈال کر نیچے آگ جلا دی جاتی ہے۔ پانی جب اچھے سے ابل جائے تو پھر کھجور کو پانی میں 25 منٹ تک پکایا جاتا ہے۔
پکانے کے بعد اسے دو سے تین دن تک دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔ پھر اسے سرنگ میں سوکھنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔
اب چھوہارا تیار ہے۔ اسے پیک کر کے بازاروں میں بھیجا جاسکتا ہے۔
چھوہارے منافع بخش کاروبار ہے؟
پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن کے مطابق سال 2015 میں چھوہارے کی کل برآمد چھ کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔ اس میں سے چھ کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی برآمد انڈیا کو کی گئی تھی۔

لیکن 2016، 2017 اور 2018 میں ہر سال یہ تجارت نو کروڑ ڈالر سے تجاوز کرتی رہی جس میں سے انڈیا کا حصہ سب سے بڑا رہا۔
پھر 2019 آیا۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ پاکستان نے انڈیا کو چھوہارے کی برآمد پر پابندی لگائی اور انڈیا نے ڈیوٹی میں اضافہ کردیا۔
یہ تجارت محض پانچ کروڑ ڈالر رہ گئی جس میں سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی تجارت انڈیا کے ساتھ ہوئی اور زیادہ حصہ متحدہ عرب امارات کا رہا۔
کنور لال کے مطابق انڈیا میں حکام نے جب نئے ٹیکس عائد کیے تو تاجر ڈر گئے اور چھوہارا منگوانا چھوڑ دیا۔
لیکن پاکستان کے مقامی تاجر محمد بشیر آرائین کے مطابق انڈیا میں اب بھی چھوہارے کی طلب موجود ہے۔ تاجروں نے بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات اور نیپال کے ذریعے متبادل راستے اختیار کر لیے لیکن مقدار ویسی نہ رہی۔
سکھر چیمبر آف کامرس کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن گورداس بیدوانی کا کہنا تھا کہ تاجروں کو پہلے تو انڈیا سے تجارت بند ہونے سے نقصاں ہوا، اس کے بعد جب تاجروں نے بیپال کے راستے چھوہارا انڈیا بھیجنا چاہا تو یہ سکیم چل نہ سکی۔

’پہلے کورونا کے باعث نیپال کے بارڈر پر مال پھنسا رہا۔ اب جب کچھ کنٹیینرز نیپال پہنچے ہیں تو وہاں پر لاک ڈاون ہے، کاروبار نہیں ہورہا ہے۔ وہاں ہمارے تاجروں کے محتاط اندازے کے مطابق کم سے کم پچاس کروڑ روپے پھنسے ہوئے ہیں۔‘
’درمیاں سرحدی کشیدگی کی وجہ سے نیپال سے بھی انڈیا جانے کے راستے محدود ہوچکے ہیں۔ وہاں سے بھی بہت کم چھوہارا انڈیا جارہا ہے۔‘
ان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں دبئی کے راستے چھوہارا انڈیا بھیجنا مہنگا پڑتا ہے اور راستہ طویل ہے۔
دیہی خواتین اس کاروبار سے وابستہ
عتیق الرحمن میمن کے مطابق خیرپور کی معیشت کا پچاس فیصد اور سکھر کی کا تیس فیصد کا دار و مدار کھجور اور چھوہارے پر مشتمل ہے۔ خیرپور میں تقریباً پچاس فیکڑیاں جبکہ سکھر میں سو سے زائد ایسی فیکڑیاں کام کررہی ہیں جو کھجور اور چھوہارے کی پراسسننگ اور پیکنگ کرتی ہیں۔
ہر فیکڑی میں کم ازکم پچاس لوگ کام کرتے ہیں۔ موسم میں یہ تعداد کم از کم ایک ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ خواتین گریڈنگ کا کام کرتی ہیں جبکہ پیکنگ کے کام میں خواتین اور مرد دونوں شامل ہوتے ہیں۔
درآمد کرنے والی کمپنیاں اکثر خواتین کی خدمات حاصل کرتی ہیں۔
’اس صعنت میں خواتین کو روزگار ملنے کی شرح مردوں سے زیادہ ہے۔ کام بند ہونے سے خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔‘

اور تو اور شادی بیاہ کی تقریبات لاک ڈاؤن کے دوران نہ ہونے کی وجہ سے بھی چھوہارے کی مانگ میں کمی واقع ہوئی ہے۔
انڈیا کی صنعت بھی متاثر
انڈیا میں چھوہارا کئی ایک کے روزگار کا ذریعہ تھا۔ درمیانے طبقے کے کئی لوگ اس کاروبار سے منسلک ہیں۔
انڈیا کے شہر ممبئی کی اے پی ایم سی مارکیٹ میں چھوہارے کے کاروبار سے منسلک رام داس کا کہنا ہے کہ جب سے انڈیا میں دو سو فیصد ٹیکس عائد ہوا پاکستان نے چھوہارے کی برآمد محدود یا بند کر دی۔ اس طرح انڈیا کے شہری سستے خشک میوہ جات یا ڈرائی فروٹ سے محروم ہوگئے۔
رام داس کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ہر شہر کی ہر ایک چھوٹی بڑی مارکیٹ میں چھوہارا موجود ہوتا ہے اور فروخت ہوتا ہے۔ ’سب متاثر ہوئے ہیں۔ صرف دلی کی چاندنی چوک مارکیٹ اور ممبئی کی اے پی ایم سی مارکیٹ میں متاثر ہونے والے دیہاڑی دار مزدورں کی تعداد سینکٹروں میں ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ جب لاہور میں واہگہ بارڈر کے راستے چھوہارا انڈیا آتا تھا تو اس وقت سیزن کے اندر روزانہ دو سے تین سو ٹرک امرتسر سے چھوہارا لے کر انڈیا کے مختلف علاقوں میں جاتے تھے۔
’ایک ٹرک کے ساتھ اگر صرف ایک ڈرائیور، اس کا مددگار اور دو مزدور ہی تصور کر لیں تو اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوگا کہ مجموعی طو ر پر کتنے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔‘
تجارت متاثر ہونے سے قبل قیمتیں کم تھیں مگر قیمتیں بڑھنے سے لوگوں کا کافی نقصان ہوا۔
رام داس اور ان جیسے کئی تاجر چاہتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالات بہتر ہوجائیں تاکہ غریب لوگوں کا روزگار بحال ہوسکے اور قیمتوں میں بھی کمی واقع ہوسکے۔
سکھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی کے صدر رضوان الحق کا کہنا تھا کہ چھوہارا پر پابندی اور اس کے نقصانات کو ہر سطح پر محسوس کیا جارہا ہے۔ اس وقت تاجر اپنے طور پر دبئی اور دیگر راستوں سے اپنا مال انڈیا پہنچا رہے ہیں۔ ’مگر ظاہر ہے یہ کوئی دیر پا حل نہیں۔‘
چیمبر آف کامرس، تاجر اور حکومت مل کر چھوہارے کی نئی مارکیٹ تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ کورونا کی صورتحال کے باعث کچھ رکاوٹیں آئی ہیں مگر انھیں امید ہے کہ اس صورتحال کے بعد راستے تلاش کر لیے جائیں گے۔
’اگر لاہور کا واہگہ بارڈر کھل جائے تو تاجروں کو فائدہ ہوگا۔ کاروبار بڑھے گا تو معیشت بڑھے گی مگر ایسا کب اور کیسے ممکن ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔‘
۔










