سوشل میڈیا پر پولیس کی ’بے چینی‘ کا باعث بننے والی تصویر پوسٹ کرنے پر 14 سالہ بچے پر مقدمہ

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروزنامچے میں کہا گیا ہے کہ اس بچے نے ’سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس وجہ سے محکمہ پولیس کے افسران اور جوانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے‘۔
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس نے ایک بچے کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر پولیس کے لیے قابل اعتراض تصویر شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

والدین کا دعویٰ ہے کہ بچے کو ساری رات حوالات میں رکھا گیا، وکلا اور والدین کو بچے سے نہیں ملنے دیا گیا اور منگل کی صبح بچے کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے بچے کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

بچے کے خلاف ایف آئی درج نہیں کی گئی بلکہ ایک روزنامچے میں کہا گیا ہے کہ اس بچے نے ’سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس کی وجہ سے محکمہ پولیس کے افسران اور جوانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے‘۔

وکیل نے بتایا کہ اس 14 سالہ بچے کے خلاف استغاثہ کی جانب سے زیر دفعہ 107 اور 151 درج کیا گیا۔ عدالت نے 151 خارج کرتے ہوئے دفعہ 107 کے تحت ضمانت منظور کر لی ہے۔

بچے کے والد عرفان لغاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بیٹا آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے جسے ’صحافت کا جنون کی حد تک شوق ہے اور وہ فارغ وقت میں مقامی اخبار کے دفتر بھی جاتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ ’پیر کو وہ اپنی والدہ کے ساتھ سامان لینے گیا ہوا تھا اور واپسی پر اس نے اپنے گھر کے قریب ایک پولیس کی خالی چوکی کے قریب گدھا دیکھا اور والدہ سے کہا کہ وہ واپس آ کر اس کی تصویر لے گا‘ جس پر والدہ نے اسے کہا کہ ’تم تصویر لے لو میں یہاں تمھارا انتظار کرتی ہوں‘ اور ’اس بچے نے تصویر لے کر سوشل میڈیا پر کیپشن کے ساتھ پوسٹ کر دی‘۔

عرفان لغاری نے بتایا کہ رات کے وقت سفید کپڑوں میں کچھ افراد ان کے ہاں آئے اور بچے کے بارے میں پوچھا۔گھر والے سمجھے کہ شاید کوئی صحافی ہیں لیکن جب انھوں نے معلوم کیا تو بتایا گیا کہ وہ سی آئی ڈی سے آئے ہیں۔

ایک شخص لیپ ٹاپ استعمال کر رہا ہے

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشنوالد کے مطابق بچے نے پولیس کی چوکی کے قریب ایک تصویر لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی

عرفان لغاری کے مطابق انھوں نے بچے کو بلایا اور ان افراد نے بچے کے موبائل کو دیکھا اور بچے کو ساتھ لے گئے۔

عرفان لغاری نے بتایا کہ وہ بھی ساتھ گئے جہاں بچے کو حوالات میں بند کر دیا اور انھیں دفتر میں بٹھائے رکھا۔

والد کے مطابق انھوں نے بڑی منت کی اور کہا کہ آئندہ بچہ ایسا نہیں کرے گا اور اگر کچھ غلط ہوا ہے تو وہ معافی مانگتے ہیں لیکن پولیس اہلکاروں نے ایک بھی نہیں سنی۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ بچے کی گرفتاری کے احکامات ضلعی پولیس افسر نے دیے تھے۔

اس دوران وکلا اور ان کے ساتھی پہنچ گئے لیکن انھیں بچے سے نہیں ملنے دیا گیا۔ عرفان لغاری نے بتایا کہ انھوں نے اور بچے کی والدہ نے ساری رات تھانے کے گیٹ پر گزاری اور یہ ’خوف رہا کہ کہیں بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیں‘۔

بچے کے والد نے بتایا کہ ’صبح معصوم بچے کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا جس پر عدالت نے پولیس اہلکاروں کی سرزنش کی ہے‘۔

پولیس کا موقف

اس بارے میں ضلعی پولیس افسر کیپٹن ریٹائرڈ واحد محمود سے بار ہا رابطہ کیا گیا لیکن ان کا موبائل فون بند آ رہا تھا جبکہ ان کے دفتر سے بتایا گیا کہ ’صاحب ابھی شاید مصروف ہیں فون نہیں اٹھا رہے۔‘

سٹی تھانے کے انسپکٹر صغیر گیلانی سے رابطہ کیا گیا تو بار بار وہ یہی کہتے رہے کہ وہ مصروف ہیں، بعد میں بات کرتے ہیں لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔

پولیس تھانے میں درج روزنامچے کے مطابق بچے نے سوشل میڈیا پر کچھ ایسی تصویر پوسٹ کی ہے ’جس سے پولیس افسران اور جوانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے‘۔ روزنامچے میں لکھا گیا ہے کہ ’اندیشہ نقص امن کی وجہ سے بچے کو درج دفعات کے تحت چالان عدالت کیا جاتا ہے‘۔

اس بارے میں خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ثنا اللہ عباسی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے ایک مختصر پیغام میں کہا کہ مذکورہ انسپیکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ اس واقعے کی انکوائری کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔