توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننواز شریف آج کل لندن میں مقیم ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے حکومتی توشہ خانہ سے تحفے میں ملنے والی گاڑیوں کی غیر قانونی طریقے سے خریداری کے مقدمے میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

نواز شریف اس وقت لندن میں مقیم ہیں اور عدالت نے وزارتِ خارجہ کو حکم دیا ہے کہ وہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کروائے۔

جمعرات کو اس ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نواز شریف ان دنوں لندن میں مقیم ہیں اور ان کے گھر کا پتا بھی معلوم کرلیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں اور یہ وہی فلیٹس ہیں جن کے ریفرنس میں مجرم نواز شریف کو سزا سنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ہی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے مقدمے میں 11 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سزا کو معطل کر دیا تھا۔

سماعت کے دوران نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ برطانیہ کے اخبارات میں اشتہار دے کر بھی عدالتی حکم کی تعمیل کروائی جاسکتی ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے

عدالت نے نیب کے وکیل کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو عدالتی احکامات پر عٹمل درآمد کروانے کا حکم دیا۔

احتساب عدالت کے جج نے اس ریفرنس کے شریک ملزم اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ایک دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کی۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل ان دنوں کراچی میں ہیں اور وہ کورونا وائرس کی وجہ سے اسلام آباد نہیں آ سکتے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ ملزم کے عدالت میں پیش ہونے کی صورت میں کمرہ عدالت میں لوگوں کا رش بڑھ جائے گا جوکہ موجودہ حالات میں ٹھیک نہیں ہے۔

مقدمے کے ایک اور شریک ملزم اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی جس پر عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کر دیا۔

اس کے بعد ریفرنس کی سماعت30 جون تک ملتوی کر دی گئی۔

نواز شریف، آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ پاکستان کے سب سے اہم عہدوں ہر فائز رہنے والی یہ سیاسی شخصیات مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں معمولی رقم ادا کرنے کے بعد توشہ خانہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے پراسیکیوٹر کی طرف سے احتساب عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کو بطور صدر لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی اور متحدہ عرب امارات کے سربراہ کی طرف سے گاڑیاں تحفے میں ملیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سابق صدر نے یہ گاڑیں توشہ خانے میں جمع کروانے کی بجائے ذاتی طور پر استعمال کیں۔

نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے گاڑیوں کی صرف 15 فیصد قیمت ادائیگی کے بعد یہ گاڑیاں ذاتی استعمال کے لیے حاصل کیں۔ نیب کے پراسیکیوٹر کے مطابق ان گاڑیوں کے لیے رقم کی ادائیگی بھی جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی تھی۔

توشہ خانہ میں تعینات ایک اہلکار کے مطابق اگر کسی سربراہ مملکت یا چیف ایگزیکیٹو کو کسی دوسرے ملک کے صدر یا چیف ایگزیکیٹو کی طرف سے 10 لاکھ روپے تک مالیت کا تحفہ ملتا ہے تو وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتا ہے لیکن اور اس تحفے کی قیمیت 10 لاکھ سے زیادہ ہو تو اسے توشہ خانے میں جمع کروانا ہوتا ہے۔