سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس: کورونا کی روک تھام اور ریلیف میں حکومت شفاف دکھائی نہیں دے رہی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے چیف جسٹس نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر کسی صوبے اور محکمے نے عدالت کو شفافیت پر مبنی رپورٹ نہیں دی۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے پیر کو کہا کہ کورونا کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہیں نظر آ رہی اور نہ ہی کوئی طریقہ کار وضح کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی پیسے لیے گئے لیکن یہ پیسہ نہ جانے کیسے خرچ ہوئے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے دوران سماعت یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ملک میں مریض ہی صرف پانچ ہزار ہیں تو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کھربوں روپے کیسے خرچ ہوئے ہیں۔ ’تمام حکومتیں ریلیف کی مد میں رقم خرچ کر رہی ہیں لیکن اس میں شفافیت نظر نہیں آ رہی۔‘
یہ بھی پڑھیے
بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وفاق نے اربوں روپے صوبوں کو دیے ہیں۔ صوبے اس رقم کا کیا کر رہے ہیں، اس کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔
اُنھوں نے کہا کہ مانیٹرنگ سے صوبائی خود مختاری پر کوئی حرف نہیں آتا اور مانیٹرنگ بھی ایک طرز کا آڈٹ پوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ بیت المال کی طرف سے بھی اس ضمن میں کوئی جواب جمع نہیں کروایا گیا کہ اُنھوں نے ان حالات میں مستحقین کی امداد کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ زکوۃ کا پیسہ لوگوں کے ’ٹی اے ڈی اے‘ اور باہر دورے کروانے کے لیے نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین بیت المال بھی زکوۃ کے پیسے سے تنخواہ لے رہے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس محکمے کے افسران کو تنخواہیں حکومت کو خود دینی چاہیے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مزارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’(ان) کی حالت دیکھ لیں، سب گرنے والے ہیں۔‘ ’سمجھ میں نہیں آتا کہ اوقاف اور بیت المال کا پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟‘ چیف جسٹس نے کہا کہ سیہون شریف بازار کی بھی مرمت ہوئی ہوتی تو اس چھت نہ گرتی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ رپورٹ کے مطابق وفاق نے زکوٰۃ کی مد میں نو ارب روپے سے زیادہ جمع کیے لیکن یہ رقم مستحقین تک کیسے جاتی ہے، اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل سے اس بارے میں شرعی رائے طلب کی ہے کہ کیا زکوۃ اور صدقے کے پیسوں سے لوگوں کو تنخواہیں ادا کی جاسکتی ہیں اور کیا اس رقم سے ادارے کے انتظامی امور چلائے جاسکتے ہیں۔
عدالت کے استفسار پر سکیریٹری صحت تنویر قریشی نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت 16 قرنطینہ مراکز قائم ہیں اور وہاں پر تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جس پر چیف جسٹس نے سکیریٹری صحت سے استفسار کیا کہ آیا اُنھوں نے خود ان سینٹرز کا دورہ کیا ہے، جس کا سکیریٹری صحت نے نفی میں جواب دیا۔
اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے انھیں پیر کو ہی تمام قرنطینہ سینٹرز کا دورہ کرنے کا حکم دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حاجی کیمپ میں بنائے گئے سرکاری قرنطینہ سینٹرز میں حالات ’غیر انسانی‘ ہیں۔
عدالت نے سماعت کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا کہ اسلام آباد میں بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کو قرنطینہ میں رکھنے کے لیے ہوٹلوں کا انتخاب کیسے کیا گیا۔
بینچ میں موجود جسٹس سجاد علی شاہ نے سکیریٹری صحت سے کہا کہ حکومت مزید قرنطینہ سینٹرز بنانے کے بجائے سکولوں کی عمارتوں کو قرنطینہ سینٹرز میں تبدیل کر دے، جس پر اٹارٹی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی یہ تجویز حکومت کو پہنچا دی جائے گی۔
سماعت کے دوران وفاق اور صوبائی حکومتوں کو حکم دیا گیا کہ وہ میڈیکل عملہ اور ڈاکٹرز کا مکمل خیال رکھیں اور اگر ممکن ہو تو میڈیکل عملے کو اضافی مراعات دی جائیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے سینٹری ورکرز کے کردار کو بھی سراہا۔ سپریم کورٹ نے کورونا پر از خود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔










