کورونا وائرس: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت مشرقِ وسطی میں مقیم کتنے پاکستانیوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں ایک طرف دنیا کے تقریباً ہر ملک کی معیشت متاثر ہو رہی ہے وہیں بیروزگاری میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال سے ملک کا غریب طبقہ تو متاثر ہے ہی، لیکن سب سے زیادہ پریشانی ایسے پاکستانیوں کے لیے ہے جو نوکری کے غرض سے بیرون ملک مقیم تھے اور اب انھیں فارغ کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے سعودی عرب، دبئی اور مشرق وسطی کے دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے ان کے مسائل اور خدشات کے حوالے سے بات چیت کی۔
توحید (فرضی نام) سعودی عرب کے شہر دمام کے رہائشی ہیں۔ وہ الیکٹریشن کا کام کرتے ہیں اور گذشتہ چار سال سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔
توحید نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جس کمپنی میں کام کرتے ہیں وہ کورونا وائرس کی وجہ سے بند ہے لیکن وہ ملک میں اس لیے رکے ہوئے ہیں کیونکہ فیکٹری کے مالک نے ابھی تک ان کے واجبات ادا نہیں کیے۔ یہ رقم لاکھوں روپے ہے اور اس کے بغیر ان کا گزارا نہیں ہوگا۔
توحید کے مطابق وہ ایسے درجنوں پاکستانیوں کو جانتے ہیں جن کی نوکریاں ختم ہو گئی ہیں اور وہ وطن واپس آنے کے خواہاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اندازے کے مطابق بیرون ملک مقیم 11 ہزار سے زیادہ پاکستانی اپنی نوکریوں سے فارغ ہو گئے ہیں۔
سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے مطابق سعودی عرب کے علاوہ مشرق وسطی کے کئی ممالک مثلاً بحرین، قطر، عمان اور کویت میں بھی ہزاروں پاکستانیوں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے تاہم ان لوگوں کی تعداد کے حوالے سے متعلقہ سفارت خانوں سے اعدادوشمار طلب کیے گئے ہیں۔
یورپی ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کے بارے میں وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ ان ممالک سے پاکستان واپس آنے والے کسی ایسے شخص کی درخواست نہیں موصول ہوئی جس کی نوکری کورونا کی وجہ سے ختم ہوئی ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے؟
سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے ایک اہلکار کے مطابق مشرق وسطی میں بے روزگار ہونے والے افراد میں سے زیادہ تر دیہاڑی دار ہیں جو ساتھ ساتھ تعمیراتی شعبے میں کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی افراد ٹرانسپورٹ اور فوڈ ڈلیوری کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
سعودی عرب میں رہنے والوں کا دعوی ہے کہ وہاں مقیم فیکٹریوں میں کام کرنے اور دیہاڑی لگانے والے کئی پاکستانیوں کی نوکریاں ختم کر دی گئی ہیں۔
وزارت کے حکام کہتے ہیں کہ سعودی عرب سے واپس آنے میں دلچسپی رکھنے والے 873 افراد نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے تاہم ان کے مطابق ان سب کی نوکریاں ختم نہیں ہوئیں۔
حکام کے مطابق یہ تعداد ان افراد کے علاوہ ہیں جو عمرے کے ویزے پر سعودی عرب گئے ہیں اور ان کا ڈیٹا وزارت مذہبی امور کے پاس ہے۔
تاہم سعودی عرب میں گذشتہ 25 سال سے کاروبار کرنے والے ملک طارق کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کی طرف سے ایسے فیکٹری مالکان کو تین ماہ کی تنخواہ کی مد میں ادائیگی کر دی گئی ہے جہاں پر 10 سے کم افراد کام کرتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ وہاں پر کام کرنے والے پاکستانیوں کے اقامے کی مدت میں ایک ماہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور اُنھیں اس کی فیس بھی ادا نہیں کرنا پڑی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب امارات میں کیا صورتحال ہے؟
بیرون ممالک میں کام کرنے والے اور نوکری سے فارغ ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد مشرق وسطی کے ممالک میں مقیم ہے۔
وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ جن افراد کی کورونا وائرس کی وجہ سے نوکریاں ختم کی گئی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ تعداد متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ہے اور وزارت کے اہلکاروں کے مطابق اس وقت متحدہ عرب امارت میں 5500 سے زیادہ ایسے افراد ہیں جو پاکستانی سفارت خانے میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ان میں سے زیادہ تر مزدور ہیں اور تعمیراتی شعبے سے وابسطہ تھے۔ ایک اندازے کے مطابق نو لاکھ سے زیادہ پاکستانی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔
دبئی کے رہائشی تنویر بٹ کے مطابق نوکریوں سے فارغ کیے جانے کے بعد سینکٹروں پاکستانی اس علاقے میں بےیار و مدد گار رہ رہے ہیں اور اُنھوں نے وطن واپس جانے کے لیے قونصل خانے سے رابطہ کیا لیکن ان کی دادرسی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
دو سال قبل روزگار کے سلسلے میں دبئی جانے والے تنویر بتاتے ہیں کہ ان کے کئی جاننے والوں کے پاس اب پیسے ختم ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ شدید پرشانی میں مبتلا ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ہے جس کی وجہ سے راشن لینے کے لیے باہر نکلنا بھی ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔
تنویر بٹ کے مطابق ان کے علاقے میں کئی ایسے پاکستانی بھی ہیں جو طویل عرصے سے یہاں رہ رہے ہیں اور حکومت کی طرف سے اُنھیں کچھ راشن مل جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا گزر بسر ہو رہا ہے۔
تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے انسانی وسائل کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک مراسلے کے مطابق وزارت غیر ملکیوں کی بھرتی سے متعلق گائیڈ لائنز میں ترمیم کر رہی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت ان ممالک کے ساتھ افرادی قوت کے معاہدے پر نطرثانی کرے گی جنہوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے اپنے شہریوں کو وطن واپس آنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جو ممالک اس معاملے میں عدم تعاون کر رہے ہیں وزارت ان پر سخت پابندیاں عائد کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومتِ پاکستان کا موقف
وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق اس وقت دنیا بھر سے 39 ہزار کے قریب پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں جن میں سے اکثریت متحدہ عرب امارات میں رہتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کو وطن والس لانے کا عمل 14 اپریل سے شروع ہوگا۔
سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے مطابق ہزاروں پاکستانیوں نے کورونا کی وجہ سے پاکستان واپس آنے کے لیے اپنے ممالک میں سفارت خانوں سے رابطے کیے لیکن پاکستان میں قرنطینہ سینٹزز قائم نہ ہونے کی وجہ سے ان افراد کو وطن واپس لانے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا تھا۔
اُنھوں نے بتایا کہ کہ چاروں صوبائی حکومتوں نے بھی ایسی کسی بھی پرواز کو اترنے کرنے کی اجازت نہیں دی جس میں بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانی سوار ہوں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تارکین وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں غیر معمولی اضافہ
متحدہ عرب امارات میں تیل کی کمپنی میں کام کرنے والے محمد آصف نے صحافی تنویر ملک کے کو بتایا کہ مارچ میں سمندر پار پاکستانیوں نے معمول سے زیادہ رقم ملک واپس بھجوائی۔
ان کے مطابق اضافی رقم بھیجنے کی وجہ وہ غیر یقینی صورتحال ہے جو کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال تو بینک کھلے ہوئے ہیں اور متحدہ عرب امارات سے رقم بھیجنے کی اجازت ہے لیکن مستقبل میں صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے مشکلات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے زیادہ رقوم رشتہ داروں کے علاوہ خیراتی مقاصد کے لیے بھی بھیجی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض لوگوں کو نوکریوں سے فارغ کیے جانے پر ان کو تین ماہ کی تنخواہ یا بقایاجات بھی دیے گئے ہیں جو انھوں نے پاکستان بھجوائے ہیں۔
موجودہ مالی سال میں جولائی تا مارچ کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 16991.6 ملین ڈالر پاکستان بھیجے جو جولائی تا مارچ مالی سال 2018-2019 میں بھیجی گئی رقم کے مقابلے میں960.7 ملین ڈالر یا چھ فیصد زیادہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم پاکستان کے لیے زر مبادلہ میں یہ اضافہ زیادہ اچھی خبر نہیں ہے۔ امریکہ، یورپ اور خلیجی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے بیرون ملک پاکستانی بھی بہت متاثر ہو رہے ہیں۔
ماہر معاشی امور قیصر بنگالی کے مطابق ترسیلات زر میں اضافے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں:
- لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنے رشتے داروں کو زیادہ پیسے بھیجیے ہیں
- خیراتی مقاصد کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں نے زیادہ رقوم بھیجی ہوں گی تاکہ ملک میں روزگار کی کمی کی وجہ سے غریب طبقوں کی مالی مدد کی جا سکے
تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ اضافہ اپریل کے مہینے میں بھی برقرار رہے گا تو قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ابھی اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے صورت حال اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کسی بھی معاشی اعشاریے کے بارے میں پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔












