کورونا وائرس: سعودی عرب سے ایران تک مساجد بند تو پاکستان میں کیوں نہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو لاہور
کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات اور اس کے تیزی سے پھیلاؤ کو نظر میں رکھتے ہوئے سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک نے سرحدوں کی بندش اور اجتماعات پر پابندی کے ساتھ ساتھ مساجد میں نماز کی ادائیگی بھی روک دی ہے۔
سعودی عرب میں ملک کے مرکزی مذہبی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے کے مطابق مکہ اور مدینہ کی دو مقدس مساجد کے علاوہ ملک کی کسی مسجد میں نماز ادا نہیں کی جائے گی۔
کویت نے بھی کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں ان میں ملک بھر میں مساجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی شامل ہے۔ کویت میں لوگوں کو مسجد آنے کی بجائے گھروں میں نماز کی ادائیگی کی تلقین کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد جمعرات کو 350 سے زیادہ ہو چکی تھی اور سندھ میں حکومت نے جزوی طور پر صوبے کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے تھے۔
صوبہ پنجاب میں بھی حکومت نے کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کے ساتھ ساتھ اجتماعات اور چار افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی کے علاوہ صوبے بھر میں مزارات اور درگاہوں کو بند کر دیا ہے۔
تاہم پاکستان میں مساجد میں نماز کی ادائیگی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ پاکستان علما کونسل نے حال ہی میں ایک مشترکہ فتوٰی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’نمازِ جمعہ کے خطبے کو مختصر کیا جائے گا اور تمام مذہبی اجتماعات کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔‘

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

’پاکستان میں ابھی ایسے حالات نہیں ہیں‘
فتوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’بیمار اور بزرگ افراد گھر پر نماز ادا کریں تو بہتر ہے۔‘ تاہم پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں ایسے حالات نہیں ہیں کہ جہاں ہمیں مسجدیں بند کرنی پڑیں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت اور حکومت کی جانب سے جو احتیاطیں بتائی گئی ہیں، وہ ساری مساجد کے اندر نافذالعمل ہو رہی ہیں اور ہوں گی۔ آپ دیکھیں گے کہ اس جمعے کو 90 سے 99 فیصد مساجد میں حکومتی ہدایات پر علمدرآمد کیا جائے گا۔‘
پاکستان علما کونسل کے جاری کردہ فتوے میں یہ کہا گیا ہے کہ مساجد میں نماز فرش پر ادا کی جائے اور ادائیگی سے قبل فرش کو صابن یا سرف سے دھو لینا بہتر ہوگا۔ صفوں کے درمیان فاصلہ رکھا جائے اور مصافحے کے بجائے زبان سے سلام کرنا بہتر ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ نمازی سنتیں گھر پر ادا کر کے مسجد آئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’توکل احتیاط کے خلاف نہیں‘
علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ مساجد میں تمام احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں، صفوں میں فاصلہ بھی رکھا جا رہا ہے اور مساجد کی کمیٹیاں اور مقامی افراد ان انتظامات کی خصوصی نگرانی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ’کوئی کورونا کا مریض مسجد سے نہیں نکلے گا۔‘
مگر علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ احتیاط ضرور کرنی چاہیے کیونکہ ’توکل احتیاط کے خلاف نہیں ہے۔ اس لیے احتیاط بھی کریں گے اور حکومت اور علما کا آپس میں رابطہ بھی ہے۔‘
تاہم انھیں امید ہے کہ ایسا وقت ہی نہیں آئے گا کہ انھیں انتہائی اقدامات کی ضرورت پڑے، اور اس سے قبل ہی پاکستان وبا پر قابو پا لے گا۔
مساجد کو فی الوقت کھلا رکھنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو احتیاطی تدابیر باقی مقامات پر کی جا رہی ہیں وہ مسجدوں میں بھی اختیار کی جا رہی ہیں۔ ’یہ (کورونا) ایسی چیز ہے کہ کسی کے پاس علاج ہی نہیں ہے، تو پھر جس کے پاس ہے اس کی طرف رجوع رہنا چاہیے یا اس سے بھی ختم کر دیں؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مجبوری کے وقت احکامات میں رعایت‘
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی کے مؤقف کی تائید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت تو اجتماعات کو محدود کرنا ہے۔ فی الحال ایسا نہیں ہے کہ مساجد کو بند کر دیا جائے۔ پاکستان میں صورتحال ابھی اتنی گمبھیر نہیں ہے۔‘
تاہم اگر سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کی مثال کو دیکھتے ہوئے پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے لوگ گھروں میں نماز کی ادائیگی کریں تو اس کے جواب میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ اس پر علما سے مشاورت کی ضرورت ہے کہ کیا ایسا کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
’اگر طبی ماہرین اس قسم کی رائے دے دیں تو یقیناً علما کرام کے ساتھ مشاورت کے نتیجے میں کوئی لائحہ عمل بنانا پڑے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں ایک اصطلاح ہے جس کو ’اخترار‘ کہتے ہیں یعنی مجبوری کے تحت یا کوئی ایمرجنسی آ جائے تو اسلامی احکامات میں رعایت آ جاتی ہے۔
کویت میں اذان میں تبدیلی کر کے لوگوں کو مساجد کے بجائے گھروں میں نماز ادا کرنے کی ہدایت دینے کی مثال کے حوالے سے ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ احادیث میں اس قسم کی روایت موجود ہے۔
’اگر اس قسم کی صورتحال آئی تو احادیث میں روایت ہے کہ بارش کی صورت میں اذان میں یہ کہا گیا کہ آپ گھروں میں نماز پڑھیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آنے والے وقت میں اگر ایسی صورتحال آئی تو علما رہنمائی کریں گے اور طبی ماہرین کی رائے کے ساتھ لائحہ عمل بنایا جائے گا۔









