کورونا وائرس: پاکستان میں 23 مارچ کو ہونے والی فوجی پریڈ منسوخ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بي بي سي اسلام اباد
پاکستان میں ہر سال تئیس مارچ کو منعقد کی جانے والی فوجی پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے۔
فوجی پریڈ کی منسوخی کا فیصلہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اجلاس ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 23 مارچ کو فوجی پریڈ کی منسوخی کی تصدیق کی۔
قومی سلامتی کونسل ملک میں اہم ترین فیصلہ ساز کمیٹی ہے۔ اس کا اجلاس وزیر اعظم طلب کرتے ہیں جبکہ کمیٹی میں وزیر اعظم کی سربراہی میں دفاع، خارجہ، داخلہ اور وزارت خزانہ کے وفاقی وزرا سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان شرکت کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مسلح افواج کی جوائنٹ ہیڈکوارٹرز نے دو ہزار پندرہ میں سات برس بعد فوجی پریڈ کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔
فوجی پریڈ کی پہلی باضابطہ ریہرسل رواں ہفتے شروع کی گئی تھی جس دوران پاکستان کی فضائی فوج کا ایف سولہ طیارہ حادثے کا شکارہوا اور پائلٹ ہلاک ہوا تھا۔
تاہم پریڈ کی تیاری پہلے سے جاری تھی۔ اس فوجی پریڈ میں دو ہزار سے زائد فوجی اہلکار شرکت کر رہے تھے جبکہ سیکیورٹی پر چھے ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
پریڈ کے مقام یعنی پریڈ گراؤنڈ شکرپڑیاں میں کرونا وائرس کے خطرے کی بدولت سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پریڈ میں شریک اورحفاظت پر تعینات فوجی جوانوں اور افسران کو گھر جانے یا اہلخانہ سے ملنے کی اجازت نہیں تھی اور پورا پریڈ وینیو مکمل طور پر بند کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی فوج نے ملک کے فوجی ہسپتالوں میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے عملے کی تربیت اور وارڈز کی تیاری پہلے ہی مکمل کردی تھی اور اس وقت فوج کی تمام یونٹس میں ایمرجنسی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فوجی اہلکاروں کےاکٹھے رہنے کی وجہ سے فوجی چھاؤنیوں کو قرنطینہ کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے تاکہ فوجی اہلکاروں کی نقل و حرکت محدود کی جا سکے۔ جبکہ یہ بھی امکان ہے کہ فوجی اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی جائیں۔ ۔
دوسری جانب پریڈ گراؤنڈ میں دس سے پندرہ ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔







