شاہ محمود قریشی: ’افغان صدر اشرف غنی قیدیوں کے تبادلے پر فراخدلی سے غور کریں‘

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو فریقین میں اعتماد کی بحالی کی جانب ایک کوشش کے طور پر دیکھتا ہے اور افغان صدر کو بھی اس معاملے پر کھلے دل سے غور کرنا چاہیے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماضی میں بھی قیدیوں کے تبادلے ہوتے رہے ہیں اور ’اگر یہ تبادلہ ماحول کو سازگار بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے تو میرے خیال میں صدر اشرف غنی کو فراخدلی سے اس پر غور کرنا چاہیے۔‘

دوحہ میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے میں پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اتوار کو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ نہیں کیا اور افغان حکومت ہی اس بارے میں فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’امن کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، مذاکرات میں بھی مشکلات تھیں۔ مگر امید ہے کہ فریق معاہدے پر پختگی سے قائم رہیں گے۔‘

انھوں نے کہا اس تمام امن عمل کے دوران امریکہ ’صدر اشرف غنی کو گاہے بگاہے اعتماد میں لیتا رہا ہے اور ان سے مشاورت جاری رکھی گئی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ دوحہ میں اس وقت ایک چھ رکنی افغان وفد موجود ہے جو قیدیوں کی رہائی سے متعلق بات چیت کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’قیدیوں کا تبادلہ یکطرفہ تو نہیں ہو گا بلکہ دونوں جانب سے قیدی رہا کیے جائیں گے۔‘

خیال رہے کہ طالبان نے کہا ہے کہ وہ بین الافغان مذاکرات میں اس وقت تک نہیں بیٹھیں گے جب تک 5000 قیدی رہا نہیں کیے جاتے، جبکہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق دس مارچ کو بین الافغان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے 5000 طالبان قیدی اور ایک ہزار دیگر قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔

تاہم افغانستان کی حکومت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں کہ قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ افغان حکومت مذاکرات کے دوران کرے گی۔

وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے اور اس کے بعد پاکستان کی توقعات اور خدشات پر تفصیلی بات کی۔

کیا دنیا کو طالبان پر بھروسہ کرنا چاہیے؟

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طالبان یہ کہتے ہیں کہ ’وہ اب تبدیل ہو چکے ہیں۔ انھوں (طالبان) نے ان سالوں میں سیکھا ہے کہ اب نئی حقیقتیں ہیں، دنیا بدلی ہے، افغانستان بدلا ہے اور یہ کہ دنیا انھیں دیکھ رہی ہے اور میرے خیال میں طالبان اتنے ہوشیار ہیں کہ وہ اس بدلتی صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں۔‘

وزیر خارجہ کے مطابق دنیا کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے تشدد میں مسلسل کمی کی ضرورت ہو گی تاکہ مومینٹم درست سمت میں رہے۔

’میں تمام فریقین کو کہوں گا کہ وہ تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور بڑے مقاصد کو نظر میں رکھیں۔‘

افغان امن عمل میں سپائلرز کون ہیں؟

وزیرخارجہ نے گذشتہ روز بیان دیا تھا کہ افغانستان کے اندر اور باہر بعض عناصر افغان امن معاہدے اور ملک میں قیام امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ اور عالمی برادری کو ایسے ’سپائلرز‘ پر نظر رکھنا ہو گی۔‘

بی بی سی کے اس سوال پر کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے، پاکستانی وزیر خارجہ نے کسی ملک یا فریق کا نام لیے بغیر کہا کہ ’میرا اشارہ ان کی طرف ہے جو افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے، اور وہ بھی جو جنگ کی معیشت پر یقین رکھتے ہیں۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسے عناصر موجود ہیں جو اس معاہدے سے خائف تھے، ’درحقیقت یہ دیرپا امن کے لیے پہلا اور درست سمت میں ایک قدم ہے۔ کچھ لوگ جو نہیں چاہتے کہ پیش رفت ہو،ان کے اپنے اندرونی معاملات ہیں۔‘

خیال رہے کہ پاکستان انڈیا پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے، تاہم آج وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر افغانستان اس بات پر قائل اور متفق ہوتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دہشت گرد فرد یا تنظیم کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، تو پاکستان کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔

’پاکستان نہیں چاہتا کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہو اور نہ ہی ہم چاہیں گے کہ ہماری سرزمین کسی اور کے خلاف استعمال ہو۔‘

کیا پاکستان کی سہولت کاری جاری رہے گی؟

پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے اس معاہدے میں ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستان اب بین الافغان بات چیت میں اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں یہ کردار دوبارہ ادا کرنے کے لیے تیار ہے، اور کیا پاکستان طالبان کو رویے میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے، وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کی زیرِ قیادت اور حمایت یافتہ امن عمل کی پاکستان پہلے بھی حمایت کرتا تھا اور آئندہ بھی کرتا رہے گا، تاہم اب آگے پاکستان نے نہیں بلکہ افغانستان نے بڑھنا ہے۔‘

’ان کا ملک اور مستقبل ہے۔ یہ فیصلہ افغان (شہریوں اور قیادت) نے کرنا ہے کہ انھیں کیسا افغانستان چاہیے۔‘

اس سوال پر کہ کسی فریق کے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی صورت میں پاکستان کا موقف کیا ہو گا، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس سطح پر ہونے والا معاہدہ سوچ سمجھ کر اور طویل نشستوں اور مذاکرات کے بعد کیا جاتا ہے اور اس سے پیچھے ہٹنے کا مطلب عوام کی توقعات پر پانی پھیرنا ہے۔

’لوگ بھی تو دیکھ رہے ہیں۔‘

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ اس امید کا اظہار کر رہے تھے کہ فریقین معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ طالبان نے معاہدے کی بعض شرائط سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغان فورسز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

انھوں نے کہا پاکستان کا افغانستان کے معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دیرپا امن کے لیے افغانستان میں سوچ کو لچکدار رکھنا ہو گا اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔

'پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان امن عمل میں سب فریق ساتھ چلیں گے اور کوششیں انکلوسِو ہوں گی۔‘

فوجی انخلا کے بعد کیا خانہ جنگی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے؟

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خانہ جنگی کی صورتحال سے بچنے کے لیے ہی یہ مذاکرات کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کی خواہش ہو گی کہ ہم اپنے ملک کو محفوظ رکھیں، ہم نے اس کے لیے بڑی جانی اور مالی قربانی دی ہے، ہم افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ بھی لگا رہے ہیں تاکہ ’کراس بارڈر موومنٹ‘ کے الزامات نہ لگیں۔‘

’پاکستان امید کرتا ہے کہ اس جذبہ خیرسگالی کو مثبت انداز میں دیکھا جائے گا۔‘

پاکستان کے وزیر خارجہ نے یہ واضح کیا کہ ’ماضی سے سیکھتے ہوئے‘ پاکستان افغانستان میں کسی ’پاور گیم‘ کا حصہ کبھی نہیں بنے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ’ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے درست فیصلے کیے ہیں جو افغانستان اور خطے کے لیے بہتر ہیں۔‘

پاکستان اور افغانستان میں امریکہ کی ثالثی ناقابلِ قبول ہے

انھوں نے امریکہ کے ثالثی کے کردار سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے برملا کہا ہے کہ ہم اپنی سرزمین افغانستان یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اگر افغان حکومت کو تشویش ہے تو بیٹھ کر، سفارتی ذرائع کے ذریعے بات چیت کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔‘

’انڈیا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جا سکتی‘

انٹرویو کے دوران دیگر امور پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے اس بات کی نفی کی کہ انڈیا یا پاکستان کسی معاملے پر بات چیت کی کوشش کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ ماحول میں انڈیا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جا سکتی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ 'اس ماحول میں جہاں کشمیر میں سات ماہ سے لاک ڈاؤن برقرار ہے، بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں، امتیازی قوانین رائج کیے جا رہے ہیں، ایسے ماحول میں کیا مذاکرات ہوں گے۔‘

کیا آسیہ بی بی کو پاکستان میں تحفظ ملے گا؟

آسیہ بی بی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ جب پاکستان آنا چاہیں آ سکتی ہیں۔ ان سمیت تمام پاکستانیوں کی حفاظت کی ذمہ داری حکومتِ پاکستان کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کا قانون ملک کے قیام سے پہلے کا ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکا جائے۔

پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کے الزامات

انھوں نے حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ حقانی نیٹ ورک نے القاعدہ سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں سے لاتعلقی کا واضح اعلان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین امریکہ یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔

انھوں نے ایک بار پھر ان الزامات کی تردید کی جن میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔