’نواز شریف مریم کی عدم موجودگی میں علاج پر تیار نہیں‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی حالت بدستور تشویشناک اور غیرمستحکم ہے تاہم ان کی بیٹی مریم نواز کے ان کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے علاج کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی منگل کو ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ نواز شریف کی ’کورونری انٹروینشن‘ ہونی ہے تاہم سابق وزیراعظم نے مریم کی عدم موجودگی کی وجہ سے پہلے اسے چھ فروری تک کے لیے ملتوی کروایا تھا اور اب اسے مزید ملتوی کر دیا گیا ہے کیونکہ مریم نواز کو لندن آنے کی اجازت نہیں مل سکی ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

مریم نواز نے ہائیکورٹ میں اپنا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست دی تھی جس کے بعد پاکستان کی وفاقی کابینہ نے مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس فیصلے کو مریم نواز کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے تاہم مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'لاہور ہائیکورٹ میں اس حوالے سے سماعت جاری تھی تاہم چار فروری کو بنچ تحلیل کر دیا گیا اور اب ہمارے وکلا نیا بینچ قائم کرنے کی درخواست دائر کریں گے تاکہ ہماری اپیل پر سماعت دوبارہ شروع ہو'۔

لاہور سے نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ شریف خاندان صرف یہ چاہتا ہے کہ مریم نواز کو بھی ملک سے باہر بھیج دیں تاکہ انھیں ریلیف مل سکے۔ 

’ہمیں مریم نواز کی طرف سے کوئی خط موصول نہیں ہوا ہے۔ وہ سزا یافتہ ہیں، قانون بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ مریم نواز کو یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھی شریف خاندان والوں کی طرف سے مفرور ہو جائیں۔ نواز شریف کے پاس ان کے بیٹے ہیں، بھائی ہیں تو ان کو چاہیے کہ اپنا علاج جاری رکھیں۔‘

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف گذشتہ سال نومبر میں عدالتی حکم پر آٹھ ہفتے کے لیے علاج کی غرض سے بیرونِ ملک علاج جانے کی اجازت ملنے کے بعد سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کا طبی معائنہ ہو رہا ہے۔

نواز شریف کے بیرون ملک قیام کی مدت میں اضافے کی غرض سے ان کی جماعت نے حکومتِ پنجاب سے رجوع بھی کیا ہے اور پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ اس کا فیصلہ صوبائی حکومت کی طرف سے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی روشنی میں ہی کیا جائے گا۔

نامہ نگار کے مطابق میاں شہباز شریف نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ لندن میں معالجین نے میاں نواز شریف کے دل کی شریانوں اور خون کے بہاؤ میں رکاوٹوں کے علاوہ ان کے دل کے بڑے حصے اور اس کے کام کرنے کے عمل کے شدید متاثر ہونے کے بارے میں انکشاف کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پیچیدہ نوعیت کی متعدد جان لیوا بیماریوں کے لاحق ہونے کی بنا پر میاں نوازشریف کی صحت کی صورتحال نازک ہے۔

قائد حزب اختلاف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ عارضہ قلب کی تکلیف کی بنا پر سابق وزیر اعظم کو پہلے بھی دومرتبہ اوپن ہارٹ سرجری سمیت متعدد قسم کے علاج کے عمل سے گزرنا پڑا۔

شہباز شریف نے کہا کہ میاں نواز شریف کے عارضہ قلب کی موجودہ صورتحال کی تشخیص اور علاج کی حکمت عملی لندن کے رائل برومپٹن ہسپتال میں مرتب ہوئی۔

میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے علاج کے عمل میں دو مرتبہ صرف اس لیے تبدیلی کی گئی کہ میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے والد کے پاس لندن آنا چاہتی ہیں لیکن اُنھیں پاکستان سے آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

اُنھوں نے کہا کہ مریم نوازشریف کے میاں صاحب کے پاس نہ ہونے کی بنا پر ماہر امراض قلب کو دو بار 'کارڈیک کیتھیٹرائزیشن' کا طے شدہ عمل تبدیل کرنا پڑا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کی صحت کی تشویشناک حالت کے پیش نظر مریم نوازکو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے والد کے پاس آنے کی اجازت دی جائے کیونکہ جتنا وقت گزر رہا ہے اتنی ہی طبی عمل کے لیے گنجائش کم ہو رہی ہے۔

میاں شہباز شریف کے اس بیان میں یہ واضح نہیں ہے کہ اُنھوں نے مریم نواز کو لندن آنے کی اجازت دینے کی اپیل حکومت سے کی ہے یا پھر عدالت سے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ میاں نواز شریف اپنی شریک حیات کلثوم نواز کو کھو دینے کے غم نے ان کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ زندگی کے اس مشکل ترین وقت میں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز ان کے لیے ڈھارس اور قوت کا باعث بن سکتی ہیں۔

دوسری طرف پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے معالج کی طرف سے جو رپورٹ صوبائی حکومت کو بھجوائی گئی ہے اسے میڈیکل بورڈ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ میڈیکل بورڈ اگلے ایک دو روز میں سابق وزیر اعظم کی رپورٹ کا معائنہ کرنے کے بعد اسے صوبائی حکومت کو بھجوا دے گا اور صوبائی حکومت اس میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہے۔

راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ اگر میڈیکل بورڈ نے میاں نواز شریف کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا تو پھر حکومت ان کے بیرون ملک قیام میں توسیع نہیں کرے گی۔

چند روز قبل میاں نواز شریف کے ذاتی معالج کی طرف سے جو پہلی رپورٹ بھجوائی گئی تھی اس پر صوبائی حکومت نے یہ کہہ کر عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ رپورٹ مکمل ہی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو علاج کی غرض سے آٹھ ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر علاج کی غرض سے سابق وزیر اعظم کا بیرون ملک قیام بڑھانے کی ضروت ہو تو پھر درخواست گزار پنجاب حکومت کو درخواست دیکر اس قیام میں اضافے کی استدعا کرسکتا ہے۔

مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے بارے میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وفاقی حکومت اس حوالے سے فیصلہ کرنے میں بااختیار ہے۔