آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پمز ہسپتال میں نواز شریف کا ’صدارتی کمرہ‘
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت پمز ہسپتال کے 'صدارتی کمرے' میں زیر علاج ہیں۔ گو کہ اب کوئی وہ سرکاری عہدرے رکھنے کے اہل نہیں ہیں لیکن ہسپتال کی منتقلی کے بعد انھیں خصوصی پروٹوکول مل رہا ہے۔
نواز شریف اڈیالہ جیل میں قید کاٹ رہے ہیں اور دل کے مریض تو وہ جیل آنے سے پہلے ہی سے ہیں۔ ایسے میں اپنے ذاتی معالج کے مشورے کے بعد وہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم نہ صحیح لیکن ایک لیڈر تو ہیں اسی لیے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں اُن کی آمد پر خصوصی انتظامات کیے گئے۔ خوب صفائی ستھرائی ہوئی اور سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی۔
ہسپتال کے ذرائع کے مطابق نواز شریف کے ہسپتال میں قیام کے لیے اُس کمرے کو منتخب کیا گیا تھا جو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بچے کی پیدائش کے لیے خصوصی طور پر بنوایا گیا تھا۔ اگرچہ بے نظیر بھٹو ڈیلیوری کے لیے اس کمرے میں نہیں آئیں لیکن اُن کے شوہر اور سابق صدر آصف علی زرداری نے دورانِ اسیری اسی کمرے میں کئی مرتبہ قیام کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب آصف زرداری بدعنوانی کے مقدمات میں جیل میں قید تھے اور ناسازی طبع کے باعث انھیں پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تو اسی کمرے کو زرادری کے لیے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ آصف زاردی کو جیل اور سب جیل سے رہائی کے بعد جو عہدہ ملا وہ صدرِ پاکستان کا تھا۔
آصف زرادی کے بعد نواز شریف کو بھی سیدھے اڈیالہ جیل سے اسی کمرے میں منتقل ہونا تھا۔ تمام انتظامات بھی مکمل تھے لیکن سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر انھیں اس کمرے میں منتقل ہونے سے روک دیا گیا۔
پمز کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف کو کارڈیولوجی کے پرائیوٹ وارڈ میں ’صدرِ پاکستان کے لیے مخصوص کمرہ‘ دیا گیا ہے۔
یہ ہسپتال کا کمرہ عام پرائیوٹ رومز کی طرح نہیں ہے بلکہ اسے ہسپتال میں 'صدارتی سویٹ' کہا جا سکتا ہے۔ اس بڑے کمرے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ساتھ کئی دوسرے کمرے ہیں جہاں ممکنہ طور سکیورٹی عملہ قیام کرے گا۔
ہسپتال کے جس حصے میں نواز شریف موجود ہیں وہاں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور پولیس کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار بھی موجود ہیں۔
سابق وزیراعظم کی آمد سے قبل بم ڈسپوزل سکوڈ اور ایجنسیوں کے اہلکاروں نے بھی خوب اچھی طرح جانچ پڑتال کی ہے۔
کسی کو بھی نواز شریف سے ملنے کی اجازت نہیں ہے اور صرف وہی افراد ہسپتال کے 'صدارتی سویٹ' میں آ سکتے ہیں جنھیں خصوصی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔