#CoronaVirus: کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ، نوجوان پولیس پہرے میں پنجاب سے زبردستی سندھ منتقل

پاکستان کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان آنے والے افراد کی ائئر پورٹ پر سکریننگ کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

حال ہی میں چین سے پاکستان کے صوبہ سندھ واپس آنے والے ایک بیمار طالب علم کے گھر والوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مقامی حکام کی جانب سے توجہ نہ ملنے کے باعث جب وہ علاج کی غرض سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے تو انھیں زبردستی پولیس تحویل میں واپس سندھ لایا گیا۔

اس طالب علم میں ابھی تک کسی بیماری کی تشخیص نہیں ہوئی البتہ شاہ زیب راہو جو کے ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں۔

محکمہ صحت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ادارے عالمی صحت کے رہنما اصولوں کے تحت خون کے نمونے لیے گئے جو اسلام آباد روانہ کردئیے گئے ہیں۔

شاہ زیب راہوجو چار روز قبل چین سے واپس آئے ہیں۔ زکام اور کھانسی کے علاوہ انھیں ناک سے خون آنے کی شکایت ہے۔

محکمہ صحت کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آغا خان ہسپتال سے ٹیسٹ کٹ حاصل کی گئی ہے جس سے بدھ کو شاہ زیب کے ٹیسٹ کیے جائیں گے اس کے بعد حتمی رائے دی جائے گی۔

شاہ زیب راہوجو چین کے شہر چونگ کنگ کی ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی میں پیٹرولیم انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جہاں سے 30 جنوری کو دیگر 11 پاکستانی طالب علموں کے ساتھ وطن کے لیے روانہ ہوئے۔ چین اور پھر دوحا میں ان کی سکریننگ کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

شاہ زیب کے بھائی ارشاد راہوجو نے بی بی سی کو بتایا کہ قطر میں 15 گھنٹے کے بعد کراچی کے لیے پرواز تھی جس دوران شہزیب کو گلے میں خراش اور کھانسی ہوئی اور اس نے دوائی لی جس کے بعد طبیعت بہتر ہو گئی اور دو جنوری کی شب وہ کراچی پہنچے اور ٹیکسی سے خیرپور میں اپنے گاؤں آ گئے۔ دوسرے روز انھیں ہلکی کھانسی تھی اور تیسرے روز ناک سے خون آ گیا۔

شاہ زیب کا تعلق خیرپور کی تحصیل پیر جوگوٹھ سے ہے جہاں دیہی صحت مرکز ہے اور صحت کی سہولیات محدود ہیں۔ ارشاد کے مطابق انھیں ہسپتال نے ایمبولینس دی اور وہ خیرپور آ گئے جہاں ایمبولینس میں ہی انھیں کراچی کے لیے ریفر کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اس ہسپتال میں سہولیات اور ڈاکٹروں کی عدم دستیابی تھی جس پر انھوں نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔

ارشاد کے مطابق جس ایمبولینس میں وہ روانہ ہوئے وہ خستہ حال تھی، انھوں نے 40 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تو ڈی ایچ او نے کہا کہ واپس آئیں نئی ایمبولینس دیتے ہیں اور جب ڈسٹرکٹ ہسپتال واپس پہنچے تو انھوں نے کہا کہ صوبائی وزیر کا حکم ہے کہ انھیں یہاں ہی رکھا جائے اور یہاں ہی علاج ہو گا۔

ارشاد کے مطابق ’ہسپتال میں شام ہو گئی لیکن کوئی ڈاکٹر نہیں آیا۔ ہم منت سماجت کرتے رہے، شاید ڈر رہے تھے اس لیے کوئی نہیں آیا۔ بالآخر رات کے آٹھ بج گئے، میں نے ڈاکٹروں کو کہا کہ کوئی رہنمائی کریں تو انھوں نے کہا کہ ہمارے سہارے پر نہ لگیں یہاں کوئی سہولت نہیں آپ کا جہاں دل چاہے وہاں لے جائیں۔ ہم نے کہا کہ ہمارا تو بچہ ہے ہم تو اسلام آباد تک جائیں گے۔‘

کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشاہ زیب 30 جنوری کو دیگر 11 پاکستانی طالب علموں کے ساتھ پاکستان کے لیے روانہ ہوئے اور چین اور پھر دوحا میں ان کی سکریننگ کی گئی (فائل فوٹو)

ارشاد راہوجو کے مطابق انھوں نے ہپستال انتظامیہ کو کہا کہ وہ ریفر لیٹر دیں تاکہ اسلام آباد کے ڈاکٹر ریسپانس دیں لیکن ’انھوں نے تحریری طور پر ریفر کرنے سے انکار کر دیا‘ اور رات کو نو، دس بجے ہوں گے جب وہ ہسپتال سے نکل گئے اور اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل انھوں نے دستانے اور ماسک پہن لیے تھے۔

’ڈی ایچ او کا ٹیلیفون آیا کہ کہاں جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کے آسرے پر نہیں رہیں گے اس لیے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد ڈائریکٹر جنرل صحت نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ میں نے ساری صورتحال بیان کی تو انھوں نے کہا کہ واپس آئیں تمام علاج ہوگا۔ میں نے بتایا کہ ہم تقریباً رحیم یار خِان پہنچ چکے ہیں، اب واپس نہیں آئیں گے۔‘

ارشاد راہوجو کے مطابق محکمہ صحت کے حکام کی ناکامی کے بعد ضلعی انتظامیہ خیرپور نے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ ان کے مطابق رات کو اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر ان کے گھر پہنچے اور ٹیلیفون نمبر لے کر بات کی۔

’میں نے انھیں بتایا کہ ہم ملتان پہنچنے والے ہیں، ہماری آپ مدد کریں۔ انھوں نے کہا کہ آپ جائیں ہم مدد کریں گے۔‘

’ہم جیسے ہی ملتان ٹول پلازہ پر پہنچے تو موٹر وے پولیس کی آٹھ کے قریب گاڑیوں نے ہمارا گھیراؤ کر لیا اور گاڑی سے اترنے نہیں دیا، شناختی کارڈ بھی لے لیے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ڈی آئی جی کا حکم ہے کہ آپ کو واپس سندھ بھیجیں۔‘

ارشاد کے مطابق ’ہم نے ان سے بحث مباحثہ کیا لیکن وہ نہ مانے۔ انھوں نے ہماری ویڈیوز بنائیں، ہم نے بھی ان کی ویڈیوز بنائیں اور ہمیں واپسی کے لیے مجبور کیا گیا۔‘

ارشاد راہوجو کے مطابق جب وہ ’سندھ کی حدود میں پہنچنے تو صبح کے پانچ بجے تھے۔ سندھ پولیس کی دو موبائل گاڑیاں اور ایمبولینس سی پیک روڈ پر منتظر تھیں جس کے بعد تین چار گاڑیاں آگے اور تین چار گاڑیاں پیچھے زبردستی خیرپور لے کر آ گئیں۔‘

ایڈیشنل آئی جی سکھر ڈاکٹر جمیل احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اعلیٰ حکام کی ہدایات پر ان کو واپس لایا گیا ہے۔

شاہ زیب کو اس وقت گمبٹ انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز میں آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے جبکہ ان کے بھائی اور والد کو دوسرے کمرے تک محدود کیا گیا ہے۔

ارشاد نے بتایا کہ ہسپتال کے پاس جو سہولیات ہیں اس کے تحت شاہزیب کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں لیکن ’کرونا وائرس کے ٹیسٹ کٹ ان کے پاس نہیں ہے۔‘ ان کے مطابق ’منگل کی دوپہر کو چار بجے شاہ زیب کے ناک سے دوبارہ خون آیا، کراچی سے بھی ٹیم آئی تھی اس نے دور سے ہی شیشوں سے معائنہ کیا۔‘

دوسری جانب محکمہ صحت کے ترجمان نے ڈی جی صحت کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ مریض کو ہسپتال سے ڈسچارج نہیں کیا گیا تھا اور معاملے کی حساس نوعیت کے باعث انھیں انتظامی احکام پر واپس لایا گیا ہے۔

دریں اثنا محکمہ اطلاعات کے صوبائی وزیر ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج معالجے کے لیے تمام انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ’پیر کو 300 چینی شہری کراچی پہچنے ہیں جن کی مکمل سکریننگ کی گئی۔ حکومت سندھ نے بھی اپنے ڈاکٹر اور ایمبولینس ایئرپورٹ بھیجی تھیں۔

’ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ بنائے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد سے وائرس کی تشخیص کی کٹس بھی وصول ہو چکی ہیں۔‘