جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کیس: ’جج کے خلاف تحقیق کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی روکنے سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے کہا ہے کہ وہ عدالت کو اس بات پر مطمئن کریں کہ کسی بھی جج کے خلاف تحقیقات کرنے کا اختیار کس ادارے کے پاس ہے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس بارے میں بھی بینچ کو مطمئن کریں کہ کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس دائر ہونے سے پہلے حکومت کس قانون کے تحت اس معاملے کو عوام میں لے کر جاسکتی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10رکنی بینچ نے پیر کے روز ان درخواستوں کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل انور منصور نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے چند روز قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے دورے کے بارے میں تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔
اُنھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے انکم ٹیکس کے حکام کو خط لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ کہ وہ سنہ 1989 سے کراچی میں اپنے مالیاتی گوشوارے جمع کروارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اٹارنی جنرل کے مطابق اس خط میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے مطابق اُنھوں نے سنہ 2008میں مالیاتی گوشوارے جمع کروانے چھوڑ دیے تھے کیونکہ ان کی آمدن پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُنھوں نے کہا کہ مزکورہ جج کی اہلیہ کے مطابق جو وکیل ان کے انکم ٹیکس ریٹرز جمع کرواتا تھا اس نے انھیں بتایا کہ چونکہ قانون تبدیل کردیا گیا ہے اس لیے مالیاتی گوشوارے جمع کروانا ضروری ہے۔
انور منصور کے بقول جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے ایف بی آر کے دورے کے دوران یہ اعتراض اٹھایا کہ ان کو اطلاع دیے بغیر ان کا مالیاتی گوشوارے جمع کروانے کا ایڈریس کراچی سے اسلام آباد کیوں منتقل کیا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے سنہ2008 سے سنہ2011 تک مالیاتی گوشوارے مینوئل طریقے سے فل کیے جبکہ سنہ2012 سے سنہ2014 تک اُنھوں نے اپنے ٹیکس ریٹرنز آن لائن جمع کروائے تھے۔
عدالت کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انکم ٹیکس حکام نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا ایڈرس دوبارہ کراچی کا لکھ دیا ہے اور اُنھیں اس بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل صوبہ خیبر پختون خوا بار کونسل کے وکیل طارق ہوتی نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کو اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھنا ہوگا کیونکہ اگر اُنھوں نے ایسا نہ کیا تو اداروں میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ صدر کو سیاسی معاملات سے خود کو الگ رکھنا ہوگا۔ بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ وزارت قانون کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس براہ راست وزیر اعظم کو بھجوا سکتی ہے جس پر صوبہ خیبر پختون خوا بار کونسل کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزارت قانون ایسا نہیں کرسکتی اور وہ یہ معاملہ صدر مملکت کو براہ راست بھجوا سکتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرتے وقت بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر مملکت نے اپنا ’مائینڈ‘ استمال نہیں کیا اور صرف وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل کرتے ہوئے یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیا۔
بینچ کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی جج کسی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہو تو کیا یہ معاملہ ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گا جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے۔
راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے وکیل آصف توفیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ گزشتہ برس مئی میں حکومت نے ایک میڈیا کانفرنس میں ان ججز کے خلاف ریفرنس کے بارے میں آگاہ کیا تھا اور ان ججز کے خلاف ریفرنس کو ’انصاف کا شکنجہ‘ کا نام دیا گیا تھا۔
درخواست گزاروں کی طرف سے ایک ہی قسم کے دلائل دینے کے بعد عدالت بار بار یہ کہتی رہی کہ دلائل کو مت دہرائیں جس پر درخواست گزار کے وکیل آصف توفیق نے اس دس رکنی بینچ میں شامل ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں روسٹم پر آکر دلائل دینے کو نہیں بلکہ روسٹم چھوڑنے کی تعریف کی جاتی ہے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ یہ معاملہ گزشتہ برس اکتوبر سے سن رہی ہے۔ اُنھوں نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت ان کو بھی سنے گی۔
ایک موقع پر دلائل کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو مسٹر فائز عیسی کہہ کر مخاطب کیا تو بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اُنھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’پلیز جسٹس کا لفظ استعمال کریں۔‘
اٹارنی جنرل نے دلائل دینے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت مانگ لی جس پر عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی۔








