تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی کے بھائی سمیت لبیک کے 86 کارکنوں کو سزائیں

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مظاہرے کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ثابت ہونے پر مذہی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک کے 86 کارکنوں کو مجموعی طور پر ساڑھے چار ہزار سال سے زیادہ عرصے کی سزا اور ایک کروڑ 70 لاکھ روپے سے زیادہ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

عدم ادائیگی کی صورت میں مجرمان کو چھ چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جن مجرمان کو سزا سنائی گئی ہے اس میں تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے بھائی امیر حسین رضوی بھی شامل ہیں۔

اس جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کو توہین مذہب کے مقدمے میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ کے حکم پر رہائی پانے اور اس جماعت کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتار ہونے والے ان افراد نے آسیہ بی بی کے معاملے میں عدالت کے فیصلے کے خلاف نہ صرف احتجاجی مظاہرہ کر کے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا بلکہ اس مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے ججز اور حساس اداروں کے سربراہوں کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی تھی۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے تھانہ پنڈی گھیپ پر حملہ بھی کردیا تھا۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شوکت رسول نے اس مقدمے کے حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد جمعرات کو رات گئے اس مقدمے کا فیصلہ سنایا۔

اس بارے میں

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمعاہدے کے بعد جب لوگ منتشر ہوگئے اور تمام شاہراہیں کھول دی گئیں تو اس کے بعد حکومت کی طرف سے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا

فیصلے کے مطابق چار مجرمان کو جن میں امیر حسین، قاری مشتاق، محمد علی اور گلزار احمد شامل ہیں، مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر ستاون ستاون برس قید کی سزا سنائی گئی۔ ان مجرمان سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا جس کی وجہ سے اُنھیں مزید دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ 82 مجرمان کو مجموعی طور پر پچپن پچپن سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہر مجرم کو دو لاکھ 85 ہزار روپے فی کس جرمانہ اور تمام منقولہ وغیر منقولہ جائیداد ضابطگی کا حکم دیا گیا ہے۔

اس مقدمے میں تمام ملزمان نے ضمانتیں کروا رکھی تھیں اور انھیں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت کی طرف سے اس مقدمے کے فیصلے کے بعد انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے اور مجرمان کو سکیورٹی کے سخت حصار میں اٹک جیل منتقل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ملزمان پر 24 نومبر 2018 کو اٹک کی تحصیل پنڈی گھیپ پولیس نے انسداد دہشتگردی ایکٹ سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال نومبر میں فیض آباد پر دھرنے کے بعد جماعت کی قیادت خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت درجنوں افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے

پولیس نے اس مقدمے میں خادم حسین رضوی کے بھائی امیر حسین رضوی اور ان کے بھتیجے محمد علی سمیت 80 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت ایک سال سے زیادہ عرصے تک انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی تھی۔

تحریک لبیک کی مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

واضح رہے کہ تحریک لیبک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے خلاف بھی انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت لاہور میں مقدمہ درج ہے اور وہ بھی ان دنوں ضمانت پر ہیں۔