آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
غربت قیدیوں کی قانونی جنگ کی راہ میں بھی رکاوٹ
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں اگر آپ بااثر شخصیت ہیں یا امیر ہیں تو آپ اچھے سے اچھا وکیل اپنے مقدمات کی پیروی کے لیے رکھ سکتے ہیں لیکن اگر آپ غریب ہیں اور وسائل اور اختیار نہیں رکھتے تو آپ کے لیے مشکلات ہی مشکلات ہیں۔
پاکستان کی جیلوں میں بڑی تعداد میں غریب قیدی اچھے وکیل کی خدمات لینے کی استطاعت نہیں رکھتے اور انھیں جیلوں میں لاوارث قیدی کہا جاتا ہے۔
ایسے قیدیوں کی تعداد کے بارے میں واضح اعداد و شمار تو موجود نہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان کے مقدمات کی پیروی کرنے والوں کی تعداد ایک انگلی پر گنی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیے
پشاور میں کچھ عرصہ قبل تک صرف دو ایسے وکیل تھے جو ایک سو کے لگ بھگ قیدیوں کے مقدمات کی پیروی فیس کے بغیر کر رہے تھے۔
ان میں سے ایک وکیل خورشید خان ایڈووکیٹ چند ماہ پہلے انتقال کر گئے اور اب بس ایک وکیل شبیر گگیانی ہیں جو اب بھی ’پروبونو‘ یا بغیر کسی فیس کے ایسے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’پرو بونو‘ کیا ہے؟
پروبونو لاطینی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اپنی پیشہ ورانہ خدمات کسی کے لیے بغیر کسی رقم کے فراہم کرے۔ قانون کی زبان میں جو وکیل کسی کے مقدمے کی پیروی بغیر کوئی فیس یا مراعات کے کرتا ہے انھیں پرو بونو پبلیکو کہتے ہیں۔
اس بارے میں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پروبونو کیسز کی مختلف نوعیت ہے اور پاکستان میں ان کی بہت گنجائش ہے اور یہ ہزاروں کی تعداد میں ہونے چاہییں لیکن یہاں وکلا بغیر فیس کے مقدمات کی طرف بھرپور توجہ نہیں دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے مقدمات لینے میں وکیل خوف محسوس کرتے ہیں اور اس میں انھیں حکومت اور شدت پسندوں دونوں جانب سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
لطیف آفریدی نے کہا کہ اس کے لیے حکومت کو اقدامات کرنا ہوں گے اور وزارت قانون میں پرو بونو کیسز کا ایک ڈیسک ہونا چاہیے اور عدلیہ کے ساتھ رابطے کر کے ایسے لاوارث افراد کے مقدمات عدالتوں میں بہتر انداز میں پیش کیے جا سکیں گے۔
ان کے مطابق انھوں نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کو خط لکھا ہے کہ وہ انھیں اس بارے میں بتائیں کہ اس وقت جیلوں میں کتنے ایسی قیدی ہیں جو اچھے وکیل رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
مسئلہ کیا ہے؟
صوبہ خیبر پختونخوا کی چند ایک جیلوں سے رہا ہونے والے قیدیوں کے رشتہ داروں یا ان جیلوں میں موجود قیدیوں سے رابطے کرنے سے معلوم ہوا کہ کیونکہ اکثر ایسے لاوارث قیدیوں کے رشتہ دار کم ہوتے ہیں یا ہوں بھی تو ان سے رابطے میں نہیں ہوتے اس لیے عدالتوں میں ان کے مقدمات کی پیروی بہتر انداز میں نہیں ہو پاتی۔
عدالت کی جانب سے ایسے قیدیوں کو سرکاری وکیل کی سہولت تو فراہم کر دی جاتی ہے لیکن جیلوں سے رہا ہونے والے قیدیوں کے بقول سرکاری وکیل ایسے مقدمات میں دلچسپی کم لیتے ہیں۔
غیر سرکاری ادارے کیا کہتے ہیں؟
قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی بڑی تعداد غریب ہے۔
تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 2002 کی ایک تحقیق کے مطابق خیبر پختونخوا کی جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں میں 71 فیصد تعلیم یافتہ نہیں تھے اور 59 فیصد ایسے تھے جن کی ماہانہ آمدنی 4000 روپے سے کم تھی اور وہ اپنے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے قابل نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ جن قیدیوں کے مقدمات زیر سماعت ہیں ان کی تعداد بھی کہیں زیادہ ہے اور وہ اپنے لیے اچھے وکیل رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
جسٹس پراجیکٹ اس وقت چار ایسے قیدیوں کے مقدمات کی پیروی کر رہی ہے جنھیں کم عمر ہونے کے باوجود سزا سنائی گئی یا ان کے ذہنی توازن درست نہیں ہے۔
قیدیوں کے مشاہدات
ایسے ہی چند قیدیوں کے بارے میں بی بی سی کو ان کے یا ان کے رشتہ داروں کے توسط سے معلوم ہوا۔ ان میں ایک سجاد احمد گذشتہ سال سنٹرل جیل ہری پور سے رہا ہو کر آئے ہیں۔
سجاد احمد کا کہنا تھا کہ انھوں نے قتل کے ایک مقدمے میں بڑا عرصہ مختلف جیلوں میں گزارا اور اس دوران انھوں نے وہاں موجود قیدیوں کے حالات کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔
سجاد احمد نے بتایا کہ وہ میڈیکل کالج کے طالبعلم تھے جب قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار ہو گئے تھے اور اس دوران انھوں نے جیل میں گریجویشن اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں اور اب رہائی کے بعد وہ قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ جیل میں بیشتر قیدی اپنے مقدمات کی پیروی کے لیے اچھا وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور ان کی تعداد کی بات کریں تو اگر کسی جیل میں 2500 قیدی ہیں تو اس میں 1000 ایسے ہوں گے جن کے اپنے وکیل نہیں ہوتے۔
یہ تعداد انھوں نے ایک اندازے سے بتائی ہے لیکن جیلوں سے فون کرنے والے قیدیوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں قیدی لاوارث ہیں۔
سجاد نے ایک قیدی کا ذکر کیا جسے قتل کے ایک مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی اور بقول ان کے مذکورہ قیدی لگ بھگ 25 سال سے جیل میں ہے اور جس وقت اسے گرفتار کیا گیا تھا اس وقت وہ کم عمر تھا اور ان کے مقدمے کا دفاع بہتر طریقے سے نہیں کیا گیا اور عمر کا سرٹیفیکیٹ پیش ہی نہیں کیا گیا۔
انھوں نے بتایا مذکورہ قیدی کا مقدمہ 1995 میں شروع ہوا اور 1997 میں انھیں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کی مختلف جیلوں سے موصول ہونے والی قیدیوں کی ٹیلیفون کالز سے معلوم ہوا کہ بڑی تعداد میں قیدی لاوارث قیدی ہیں اور وہ اس انتظار میں ہیں کہ کوئی اچھا قابل وکیل انھیں مل جائے جو ان کے مقدمے کی پیروی بہتر طریقے سے کر سکے۔
ان قیدیوں کے مطابق سرکاری وکیل ان کے مقدمات کی پیروی اس طرح نہیں کرتے جس طرح ایک قابل وکیل کو کرنا چاہیے اس لیے ان کے مقدمات کی سماعت کے دوران ان کا موقف عدالت میں بہتر انداز میں پیش نہیں کیا جاتا۔
ایک قیدی نے بتایا کہ وہ قتل کے ایک مقدمے میں عرصہ دس سال سے گرفتار ہیں۔ ان کے بھائی شروع کے دنوں میں تو آتے اور مقدمے کے لیے وکلا سے رابطے کرتے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جمع پونجی ختم ہو گئی، بھائی بیمار ہو گئے اور پھر آہستہ آہستہ انھوں نے ملاقات کے لیے آنا بھی چھوڑ دیا اور اب وہ ناامید ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اب ایک سرکاری وکیل ان کے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں لیکن وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں اس لیے انھیں اب ایسے وکیل کی ضرورت ہے جو ان کے مقدمے کی پیروی بغیر کسی فیس کے کر سکیں۔
مفت مقدمات کی پیروی کون کرتا ہے؟
ایسی اطلاعات ہیں کہ مذکورہ قیدی کے مقدمے کی پیروی خورشید خان ایڈووکیٹ وفاقی شریعت کورٹ میں کر رہے تھے جہاں ان کے مقدمے کی سنوائی اس سال اکتوبر کے آخری ہفتے میں مقرر تھی لیکن اس سے پہلے خورشید خان ایڈووکیٹ فوت ہو گئے تھے۔
ان کے بعد اس مقدمے کی سماعت کے لیے ایسے وکیل کی تلاش جاری ہے جو بغیر فیس کے مقدمے کی پیروی کرسکے۔
سجاد احمد نے بتایا کہ خورشید خان ایڈووکیٹ خود کہتے تھے اور اپنا فون نمبر انھوں نے تمام جیلوں میں مشتہر کیا ہوا تھا کہ کوئی بھی قیدی ان سے رابطہ کر سکتا ہے اور وہ قیدیوں کے مقدمے کے لیے اپنی طرف سے خرچہ کرتے تھے بلکہ قیدیوں کو بنیادی ضروریات کی اشیا بھی فراہم کیا کرتے تھے۔
خورشید خان تقریباً ایک سو کے لگ بھگ قیدیوں کے مقدمات کی پیروی یا ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔
پشاور ہائی کورٹ میں وکلا سے رابطے پر معلوم ہوا کہ ان دنوں اب شبیرحسین گگیانی عوامی مفاد میں بغیر کسی فیس کے مقدمات کی پیروی کرتے ہیں۔
شبیر حسین گگیانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت پشاور میں قتل اور دیگر جرائم کے 60 سے 65 ایسے قیدی ہیں جن کے مقدمات کی وہ پیروی کر رہے ہیں اور وہ نہ تو قیدیوں سے اس کی فیس لیتے ہیں اور نہ ہی ریاست سے بھی کوئی فیس لیتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دیگر اضلاع کے بھی 20 سے 25 مقدمات ہیں جن کی وہ پیروی کر رہے ہیں۔
شبیر حسین گگیانی نے بتایا کہ زیر حراست یا وہ افراد ہیں جنھیں فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں اور ان کے رشتہ دار بھی نہیں ہیں ان کی تعداد 100 کے قریب ہو گی جن کے مقدمات کی وہ پیروی کر رہے ہیں ۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت بڑی تعداد میں انٹرمنٹ سنٹرز یا حراستی مراکز سے صوبے کی مختلف جیلوں میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قیدی انتہائی مشکل وقت گزار رہے ہیں ۔
شبیر حسین گگیانی نے بتایا کہ انھوں نے تمام جیلوں میں خطوط بھی لکھے اور جوابی لفافوں کے ساتھ وکالت نامے بھیجے ہیں تاکہ اگر کوئی ان سے رابطہ کرنا چاہے جنھیں وکیل کی ضرورت ہے تو وہ بغیر کسی فیس ان کے مقدمات پیروی کریں گے۔