فاٹا انضمام: ’کوئی جرمانہ لے لے مگر مجھے آزاد کر دے‘

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا مکمل کرنے کے باوجود ایک قیدی کو رہائی نہیں مل سکی اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ قیدی سے کوئی جرمانہ وصول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

قیدی شاہ فیصل کو عمر قید اور چھ لاکھ جرمانے کی سزا قبائلی علاقے باڑہ میں ایف سی آر کے تحت سنائی گئی تھی۔

ہری پور جیل میں قید ضلع خیبر کے علاقے باڑہ سے تعلق رکھنے والا قیدی شاہ فیصل حکام کو جرمانہ دینا چاہتا ہے لیکن اس سے جرمانہ کوئی وصول نہیں کرنا چاہتا۔ جرمانہ وصول نہ کرنے کی ایک وجہ بظاہر قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام ہے۔

اس انضمام سے جہاں بہت سے فوائد سامنے آئے ہیں وہاں انفرادی طور پر کچھ لوگوں کے لیے مشکلات بھی پیدا ہوئی ہیں ۔ اگر انضمام کا فیصلہ چند ماہ تاخیر سے ہوجاتا تو ہوسکتا ہے شاہ فیصل سے جرمانے کی رقم وصول کر لی جاتی اور اب وہ آزاد فضاوں میں سانس لے رہا ہوتا ۔

یہ بھی پڑھیے

شاہ فیصل کی مدد کے لیے اب کچھ لوگ کوششیں کر رہے ہیں۔ ان میں ایک وکیل خورشید خان شامل ہیں ۔ اسی طرح ہری پور جیل میں موت کے پروانے کے منتظر اور منشیات کے جرم میں گرفتار دو قیدی بھی جیل شاہ فیصل کی اس طرح مدد کر رہے ہیں کہ ان کا رابطہ وکیل سے کرا دیا ہے۔ اس کے علاوہاں ایک دینی امدادی ادارہ انسانی ہمدردی کے تحت جرمانے کی رقم ادا کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ اب پشاور ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے ۔

قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد ایف سی آر اور قبائلی نظام اب ختم ہو چکا ہے جبکہ قیدی شاہ فیصل کو چودہ سال با مشقت قید اور کل چھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا ایف سی آر کے تحت اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت میں سنائی گئی تھی ۔

شاہ فیصل کو یہ سزا اس وقت سنائی گئی تھی جب اس کی عمر ساڑھے سولہ سال تک تھی ۔ اپنی زندگی کے اہم ترین سال شاہ فیصل نے ہری پور جیل میں گزار لیے ہیں۔اب اس کی عمر ستائیس سال تک ہے ۔

حیران کن بات یہ ہے کہ شاہ فیصل نے قید کی سزا مکمل کر لی ہے بلکہ چند ماہ اوپر بھی سزا کاٹ لی ہے لیکن اس سے جرمانے کی رقم وصول کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ وہ جیل حکام کو جرمانے کی رقم دینا چاہتا ہے لیکن جیل حکام یہ رقم وصول کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ ہری پور جیل کے سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ اگر عدالت اجازت دے تو وہ پھر جرمانے کی رقم وصول کر سکتے ہیں ۔

اس سلسلے میں شاہ فیصل کی جانب سے ایک رٹ پیٹیشن پشاور ہائی کورٹ میں جمع کر دی گئی ہے ۔ یہ رٹ پیٹیشن خورشید خان ایڈووکیٹ نے انسانی ہمدردی کے تحت شاہ فیصل کی جانب سے جمع کرا دی ہے ۔

خورشید خان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے سیکشن 199 کے تحت پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے کہ عدالت انھیں راستہ بتائے کہ یہ جرمانہ کہاں جمع کرایا جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد اب قبائلی علاقوں کا قانون ختم ہو گیا ہے اور اب وہاں پاکستان کے دیگر علاقوں میں رائج قانون نافذ ہو چکا ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ شاہ فیصل کو قتل کے ایک مقدمے میں اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نے سزا سنائی تھی جس میں قید کے علاوہ جرمانے کی سزا شامل تھی۔ انھوں نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ قیدی جرمانہ ادا کرنا چاہتا ہے لیکن یہاں جرمانہ لینے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ جیل حکام کہتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں ہے کہ وہ ایسے جرمانہ وصول کریں۔

شاہ فیصل کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ کم عمری میں جیل بھیج دیا گیا تھا اور اب ایک دینی امدادی ادارے نے ان کے لیے یہ جرمانے کی رقم دی ہے ۔ اس ادارے نے یہ رقم اپنی تنظیم کے جانب سے تحقیق کے بعد جاری کی ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمانے کی ادائگی میں تاخیر کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ ادارہ یہ رقم واپس کرنے کا مطالبہ کردے اس لیے ہری پور سے کچھ قیدی شاہ فیصل کی مدد کو سامنے آئے ہیں ۔

ان میں ایک قیدی کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور اب ڈیتھ وارنٹ یعنی موت کے پروانے کے انتظار میں ہے۔ یہ قیدی بھی کوئی سولہ سال اور آٹھ ماہ کا تھا جب قتل کے جرم میں گرفتار ہوا تھا۔ اس کے علاوہ منشیات کے جرم میں گرفتار ایک قیدی بھی تعاون کے لیے آگئے بڑھا اور شاہ فیصل کا رابطہ وکیل خورشید خان سے کرایا گیا جنھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست جمع کر ادی ہے ۔

شاہ فیصل کے والد قبائلی علاقے میں خاصہ دار تھے جو کچھ عرصہ پہلے فوت ہو گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق ان کی رہائی کے لیے کوششیں کرنے والا اپنا کوئی بھائی یا رشتہ دار نہیں ہے ۔