آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ایم کیو ایم کو سندھ میں وزارتیں دینے کی پیشکش
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کو وفاق سے اتحاد ختم کر کے حکومت گرانے پر سندھ میں وزارتیں دینے کی پیشکش کی ہے۔
کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں چار ترقیاتی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 'اس وقت وفاقی حکومت کی عوام دشمن پالیسی چل رہی ہے، ہمیں وفاق سے اپنا حصہ چھیننا پڑے گا۔'
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’وفاق کی گیس پالیسی پر مزاحمت کرتے ہیں، ہمارے صوبے کا حق مارا جا رہا ہے اور آپ وہاں سے گیس چھین رہے ہیں جہاں سے گیس پیدا ہو رہی ہے۔'
انھوں نے کہا کہ ‘وفاقی حکومت کو فوری طور پر اس پالیسی کو واپس لینا ہوگا جبکہ جو وزیر اس معاملے پر بیانات دے رہے ہیں ان سے فوری استعفیٰ لینا چاہیے۔‘
خطاب کے دوران انھوں نے وسیم اختر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے پرانے ساتھیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جو ظلم کراچی کے ساتھ ہو رہا ہے اسے روکا جاسکتا ہے، وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کریں اور عمران کی حکومت کو گرا دیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ’میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو ایم کے پاس ہیں ہم انھیں سندھ میں دینے کے لیے تیار ہیں بس شرط یہ ہے کہ عمران کو گھر بھیج دیں، اس صوبے کو اس کا حصہ دلوا دیں، ہم ساتھ مل کر اس صوبے کو ترقی دلوا سکتے ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ 'امید ہے آج نہیں تو کل ان کو یہ فیصلہ لینا پڑے گا، پاکستان کو بچانا پڑے گا اور نیا پاکستان ختم کرنا پڑے گا۔'
انھوں نے کہا کہ 'کراچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انھیں دھوکہ دیا ہے، ان کا ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے اور 2020 میں جب انتخابات ہوں گے تو یہ عوام عمران خان کے حوالے سے یو ٹرن ہی لیں گے۔'
ترقیاتی منصوبوں کو پارٹی کارکنوں کے نام منسوب کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود پورے صوبے میں کام کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں ترقی ہو کیونکہ یہاں پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگ آ کر بستے ہیں لیکن سندھ کو ضرورت کے مطابق وسائل نہیں دیے جاتے ہیں جس کے لیے ہمیں وفاق سے اپنا حصہ چھیننا پڑے گا۔‘
وفاقی حکومت کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگوں کو نکالنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بنا کسی سروے کے یہ حکومتی قدم ظلم و زیادتی ہے اور پیپلز پارٹی اس کی مذمت کرتی ہے اور سندھ حکومت سے یہ درخواست کرتا ہوں کے صوبے میں اس پروگرام سے مستفید ہونے والے ایسے افراد جنھیں نکال دیا گیا ہے، صوبائی وزارت قانون ان کے ساتھ مل کر اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرے۔‘
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سکھر میں سردی کا 25 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے لیکن اس موسم میں کچی آبادی میں رہنے والے لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا۔
’میری تمام عدالتی فورمز سے اپیل ہے کہ اس موسم اور اس وقت میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کو روکا جائے۔‘
انھوں نے میئر کراچی وسیم اختر سے بھی اپیل کی کہ وہ اس سردی میں اس کام کو روکیں۔
میئر کراچی وسیم اختر کا ردعمل
بلاول بھٹو زرداری کی پیشکش پر ردعمل دیتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما اور میئر کراچی وسیم اختر نے مقامی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بطور پارٹی لیڈر بلاول کی قدر کرتے ہیں مگر سندھ حکومت میں شمولیت کا فیصلہ پارٹی کرے گی، ایم کیو ایم نے کبھی وزارتوں پر سیاست نہیں کی۔‘
انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’کراچی کے معاملے میں پی ٹی آئی سے اتحاد سود مند ثابت نہیں ہوا‘ اور وہ حکمران جماعت کی کراچی میں کارکردگی سے مایوس ہیں۔
میئر کراچی اور رہنما ایم کیو ایم پاکستان وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے کسی کے ساتھ بھی بیٹھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پر عوام کا دباؤ بڑھ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا حکومت بنانے کے لیے ساتھ دیا لیکن ہمارے مسائل حل نہیں ہو رہے۔‘