حمید ہارون کا جامی کے الزامات کے بعد بیان: فلمساز کی جانب سے ریپ کے الزامات پر ڈان گروپ کے سربراہ کی تردید

،تصویر کا ذریعہBBC/@azadjami1
جامی کے نام سے معروف پاکستانی فلم ساز جمشید محمود کی جانب سے رواں برس اکتوبر میں ایک ’طاقتور شخصیت‘ کی جانب سے انھیں ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا اور ان الزامات کے سامنے آنے کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد اتوار کو جب جامی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انھیں مبینہ طور پر ریپ کرنے والی شخصیت پاکستانی ذرائع ابلاغ کا ایک بڑا نام اور ڈان میڈیا گروپ کے سربراہ حمید ہارون ہیں تو پاکستانی سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
جمشید محمود کی جانب سے تاحال حمید ہارون کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے تاہم حمید ہارون نے ایک بیان میں جامی کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی صفائی میں اور اپنے نام اور ساکھ کی بحالی کے لیے ایسے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں جنھوں نے ان پر یہ مذموم اور جھوٹے الزامات عائد کیے ہیں۔
جامی نے اپنی ٹویٹ میں حمید ہارون کے ادارے کے اخبار ڈان کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ’ہاں حمید ہارون نے مجھے ریپ کیا تھا۔ میں اب تیار ہوں، کیا آپ یہ چھاپنے کے لیے تیار ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
جامی کی اس ٹویٹ کے بعد پیر کو حمید ہارون کی جانب سے ایک مفصل بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’یہ کہانی جھوٹی اور دانستہ طور پر ایسے افراد کے ایما پر گھڑی گئی ہے جو مجھے خاموش کرنا چاہتے ہیں اور میرے ذریعے اس اخبار (ڈان) کو مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے جابرانہ بیانیے کی حمایت کرے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’مجھے معلوم ہے کہ کبھی کبھار اپنے معاشی اور سیاسی ایجنڈے کے لیے طاقت ور گروہوں کی جانب جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی الزامات لگائے جاتے ہیں جس کا مقصد ایک شخص کی ساکھ اور عزت ختم کرنا ہوتا ہے۔'
حمید ہارون کا کہنا تھا کہ ’یہ اتفاق نہیں کہ ایسی ٹویٹس اس وقت آئی ہیں جب ڈان کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔‘
حمید ہارون کا یہ بیان ان کے اخبار ڈان میں شائع کیا گیا ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ چونکہ جامی کی ابتدائی ٹویٹس میں ’میرا نام خاص طور پر نہیں لیا گیا تھا اس لیے مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ جامی رضا کس طرف اشارہ کر رہے ہیں مجھے تحمل سے کام لینا چاہیے جب تک خاص طور پر میرا نام نہیں لیا جاتا۔ 28 دسمبر کو جامی رضا نے میرا نام لیا اور اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ میں جواب دوں۔'

،تصویر کا ذریعہ@azadjami1
بیان میں ڈان گروپ کے چیف ایگزیکٹو افسر کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھیں نھیں یاد کہ وہ کبھی جامی رضا کے ساتھ تنہائی میں ملے ہوں۔
حمید ہارون کا کہنا ہے کہ وہ جامی سے 1990 کی دہائی کے اواخر یا 2000 کے آغاز میں ملے جب وہ ایک فری لانس فوٹوگرافر اور فلمساز تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ انھوں نے 2003-04 میں جامی کے ساتھ ایک تصویری مضمون کی تیاری کے سلسلے میں بھی کام کیا تھا اور انھیں یاد ہے کہ وہ جامی کے گھر ان کے والد کی وفات پر تعزیت کے لیے بھی گئے تھے تاہم ان کی جامی سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔
حمید ہارون کے مطابق ’مجھے نہیں یاد کہ میں کبھی جامی رضا کے ساتھ تنہائی میں ملا ہوں اور یہی میری ان سے ملاقاتوں کا خلاصہ ہے۔‘
جامی: ’مسئلہ جنسی ہراس کا ہے، ڈان کا نہیں‘
ڈان کے سربراہ حمید ہارون کے بیان کے رد عمل میں فلمساز جامی کا کہنا ہے کہ ’یہ جامی بمقابلہ ڈان نہیں‘ جبکہ انھوں نے وضاحت دی کہ ’یہ ایک ذاتی معاملہ ہے جو اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ میں کچھ برسوں سے متاثرین کی مدد کر رہا ہوں۔‘
ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انھوں نے لکھا ’ہم نے کبھی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام نہیں کیا، چاہے یہ ہماری بقا کا سوال ہو۔ ہم نے آئی ایس پی آر (پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ) کے لیے کوئی پراجیکٹ، گانا یا اشتہار نہیں بنایا۔‘
فلمساز جامی نے بتایا کہ انھیں ’بعض صحافیوں، ساتھی فنکاروں اور دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ ڈان کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لیا جائے لیکن ہم نے ہر مرتبہ ایسا کرنے سے انکار کیا کیونکہ ہم کسی بھی مقصد کے لیے غیر قانونی ذریعہ استعمال کرنا نہیں چاہتے تھے۔
'میں بیوقوف نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے اپنے خاندان، کام، زندگی اور سلامتی کو داؤ پر لگا دوں۔ میرے لیے میرے خاندان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ بلکہ ہم نے یہ جنگ می ٹو کی تحریک کے لیے شروع کی۔‘
انھوں نے ڈان کی انتظامیہ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ کبھی اس اخبار کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ’مسئلہ جنسی ہراس کا ہے، ڈان کا نہیں۔ میری طرف سے ڈان کے خلاف کچھ نہیں کیا جائے گا، یہ میرا وعدہ ہے اور اگر میں اس کی پاسداری نہیں کرتا تو مجھے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔‘
لیکن انھوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ’اگر وہ (ڈان) سینسر کرتے ہیں تو ہم بڑے پیمانے پر مظاہرے کریں گے۔ اگر میرے یا میرے خاندان کے خلاف کوئی غیر قانونی ذریعہ استعمال کیا جاتا ہے تو میں اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کروں گا۔‘
پاکستان میں مردوں کے ریپ کے حوالے سے قوانین موجود ہیں؟
جامی کی ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں حمید ہارون کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ سامنے آیا وہیں یہ سوال بھی پوچھا جانے لگا کہ پاکستان میں مردوں کے ریپ کے واقعات سے نمٹنے اور ان کے سد باب کے لیے کوئی قوانین موجود ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی) کی دفعات 375 اور 376 ریپ سے متعلق ہیں اور اگر مردوں سے جنسی فعل پر سزا کی بات کی جائے تو دفعہ 377 میں ’غیر فطری جرائم‘ میں مردوں کا تذکرہ کیا گیا ہے مگر اس میں ریپ کا ذکر نہیں۔
ریپ کی دفعات 375 اور 376 میں صرف خواتین کا ذکر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کیے گئے ہیں۔
مردوں کے لیے کوئی تحفظ نہیں؟
دفعہ 375 کے مطابق اگر ایک مرد کی جانب سے ایک عورت کے ساتھ جنسی عمل کے دوران اگر مندرجہ ذیل پانچ شرائط میں سے ایک بھی پوری ہو تو یہ ریپ کہلائے گا۔
- اس کی مرضی کے خلاف
- اس کی رضامندی کے بغیر
- رضامندی کے ساتھ مگر جب رضامندی نقصان یا موت کا خوف دلا کر حاصل کی گئی ہو
- رضامندی کے ساتھ جب مرد کو معلوم ہو کہ وہ اس سے شادی شدہ نہیں ہے اور رضامندی اس لیے دی گئی ہو کیونکہ لڑکی کو یقین ہو کہ مرد ایک اور شخص ہے جس سے اس کی شادی ہوچکی ہے یا جس کے بارے میں اسے خیال ہو کہ اس کی شادی ہوچکی ہے
- رضامندی کے ساتھ یا اس کے بغیر، اگر لڑکی 16 سال سے کم عمر کی ہو
اس کے بعد دفعہ 376 میں ریپ کی سزا واضح کی گئی ہے جو کہ موت یا کم سے کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال قید بمعہ جرمانہ ہے، جبکہ اجتماعی زیادتی کی صورت میں تمام ملوث افراد کو موت یا عمر قید کی سزا ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@azadjami1
مگر ماہرین سے بات کرنے پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جنسی جرائم کا نشانہ بننے والے مردوں کے لیے پاکستان کے قانون میں کچھ خاص تحفظ موجود نہیں ہے۔
قانون کی آنکھوں میں ’مرد ہی ریپ کر سکتا ہے‘
اس حوالے سے ماہرِ قانون اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے رکن اسد جمال نے بی بی سی اردو کے بلال کریم مغل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ریپ کے قوانین میں صنفی تفریق واضح طور پر موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر دفعہ 375 کا جائزہ لیا جائے تو اس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ مرد ہی ریپ کر سکتا ہے اور یہ عورت کا ہی کیا جا سکتا ہے اور قانون میں اس کی وضاحت موجود نہیں ہے کہ اگر مرد کسی دوسرے مرد سے زبردستی جنسی عمل کرے تو اس پر کیا قانون لاگو ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مرد کے ساتھ کیے گئے جنسی عمل پر دفعہ 377 کے تحت سزا ہوسکتی ہے لیکن اس میں بھی رضامندی کا عنصر شامل کیا گیا ہے اور ریپ اس قانون کے زمرے میں نہیں آتا۔ خواتین سے ریپ کا تعین کرنے والی دفعہ میں یہ نہایت واضح ہے کہ خواتین کی رضامندی شامل نہ ہو تو وہ ریپ ہے جبکہ دفعہ 377 میں ریپ نہیں ہے۔
’دفعہ 377 میں (جس جنسی عمل کا ذکر ہے اس میں)رضامندی کا عنصر شامل ہے جبکہ ریپ میں رضامندی نہیں ہوتی۔ اس دفعہ کے تحت اگر کسی مرد کا مرد کے ساتھ اس نوعیت کا تعلق ہے جو مرد اور عورت کا ہوتا ہے تو اسے غیر فطری قرار دے کر رضامندی کے باوجود قابلِ تعزیر قرار دیا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں قوانین صنفی طور پر غیر جانبدار ہوتے ہیں اور پاکستان میں بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت ہے۔

’قانون میں ترمیم کی نہایت سخت ضرورت ہے‘
اس حوالے سے ماہرِ قانون نگہت داد کی بھی یہی رائے ہے کہ پاکستانی قوانین میں مردوں کے خلاف جنسی جرائم کے خلاف قوانین میں کمی پائے جاتی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ریپ کے قوانین میں واضح طور پر ایک خلا موجود ہے جس کے تحت مردوں کے ریپ ہونے پر اتنا قانونی تحفظ اور اتنی سخت سزا موجود نہیں ہے جتنی کہ کسی لڑکی کا ریپ ہونے پر۔
انھوں نے کہا کہ کہ دفعہ 377 کے تحت مرد کے ساتھ جنسی عمل کو غیر فطری قرار دے کر کچھ حد تک کور کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی زبان اتنی واضح نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قانون میں ترمیم کی سخت ضرورت ہے کیونکہ آئین کے نزدیک جب مرد اور عورت کی تفریق نہیں ہے تو قوانین میں موجود تفریق کو بھی ختم ہونا چاہیے۔
بچوں کے ریپ سے متعلق ان کی رائے اسد جمال سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق 2016 میں ہونے والی ترمیم کے بعد جو 'کمسن بچوں' سے ریپ کی تعریف متعین کی گئی ہے اس میں کمسن لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔
بچوں سے جنسی زیادتی کے حوالے سے اسد جمال کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) میں 2016 میں ترمیم کے ذریعے بچوں سے جنسی زیادتی کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے لیکن ان کی رائے میں اس کا اطلاق بھی کمسن لڑکوں سے کیے گئے زبردستی جنسی عمل پر نہیں ہوتا کیونکہ ریپ کی اصل تعریف اب بھی دفعہ 375 میں ہے جس میں مرد کا ہی صنفی کردار متعین ہے۔
واضح رہے کہ ضابطہ فوجداری میں مذکورہ بالا ترمیم کے بعد کمسن بچوں اور ذہنی یا جسمانی معذوری کے شکار لوگوں سے ریپ پر بھی موت یا عمر قید کی سزا بمعہ جرمانہ متعین کی گئی تھی جبکہ سرکاری عہدیداروں بشمول پولیس، طبی اہلکار یا جیلر کی جانب سے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھا کر ریپ کرنے والوں پر بھی اس سزا کا اطلاق کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock
’جج بدفعلی کے مقدمات کو سننے سے کتراتے ہیں‘
اسد جمال کہتے ہیں کہ اس حوالے سے زیادہ مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ ریپ کی مروجہ تعریف پاکستان میں رائج نہیں ہے جس کے مطابق مرد مرد کا بھی ریپ کر سکتا ہے اور عورت کا بھی، یعنی صنفی کردار کا تعین موجود نہیں ہے۔
فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل نصیر ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اغلام بازی کے مقدمات میں ماتحت عدالتوں میں اس طرح کا سخت رویہ نظر نہیں آتا جس طرح ماضی میں نظر آتا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر اغلام بازی باہمی رضامندی سے کی گئی ہو اور میڈیکل رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہو کہ مدعی مقدمہ کے ساتھ بدفعلی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی اور وہ اس طرح کے کام کرنے کا عادی ہے تو پھر جج مدعی مقدمہ اور ملزم دونوں کو سزا سنائیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف زبردستی بدفعلی کی گئی ہو اور رپورٹ میں بھی اس بات کا ذکر کیا گیا ہو تو عدالت جرم ثابت ہونے پر زیادتی کرنے والے کو سخت سزا سناتی ہے جو 10 سال یا اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
نصیر ذوالفقار کے مطابق عمومی طور پر جج بدفعلی کے مقدمات کو سننے سے کتراتے ہیں۔












