مشرقی پاکستان میں جنگی جرائم کا الزام: بنگلہ دیش پاکستان سے معافی کا مطالبہ کیوں کرتا ہے؟

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

(یہ مضمون پہلی مرتبہ 19 دسمبر 2019 کو شائع کیا گیا تھا)

بنگلہ دیش کی جانب سے بارہا پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیشی عوام سے معافی مانگے۔

بنگلہ دیش الزام عائد کرتا ہے کہ پاکستانی فوج کے اہلکار سنہ 1971 کی جنگ میں اس وقت کے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے تھے۔

پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے تاہم پاکستان نے پہلی مرتبہ بنگلہ دیش سے معافی سنہ 1974 میں مانگی تھی۔

شملہ معاہدے کے بعد شروع ہونے والے مذاکرات میں سنہ 1974 کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا جبکہ بنگلہ دیش اور انڈیا نے پاکستان کے جنگی قیدی واپس بھیجنے کا آغاز کیا۔ پاکستان نے بھی جنگی قیدی اور اس وقت کے مغربی پاکستان میں پھنسے بنگالی شہریوں کی واپسی مکمل کی۔

تاہم اس وقت بنگلہ دیش نے اعلان کر رکھا تھا کہ وہ پاکستانی فوج کے بعض اعلی افسران سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے پر مقدمات کا آغاز کرے گا جس پر پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جواب میں پاکستان نے بھی تقریبا دو سو گرفتار افراد سے متعلق کہا تھا کہ وہ مشرقی پاکستان علیحدہ کرنے کی سازش اور اہم معلومات کے تبادلے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

یوں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت اور مفاہمت ایک دوسرے کی قید میں پھنسے ان شہریوں کی واپسی پر مرکوز ہو گئی۔

یہی وہ معاملہ تھا جس نے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ معافی کے مطالبے کو بھی مان لے جبکہ بنگلہ دیش نے مذکورہ 195 جنگی قیدیوں کے خلاف مقدمات نہ چلانے اور انھیں ملک واپس بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

دونوں ملکوں نے مستقبل میں تعاون یقینی بنانے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے۔ ان سہہ فریقی مذاکرات میں طے پائے گئے معاہدے پر پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈیا کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے مطابق پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بنگلہ دیش کی قوم سے درخواست کی کہ وہ انھیں معاف کریں، ماضی کو بھول جائیں اور آگے بڑھیں۔

جبکہ بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ نے اپنے وزیرِ اعظم کا پیغام سناتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بھی بنگلہ دیش سے اپیل کی ہے کہ وہ ماضی کو بھلائیں، معاف کریں اور آگے بڑھیں۔ انھوں نے کہا ’بنگلہ دیش کی قوم معاف کرنا خوب جانتی ہے۔‘

دوسری بار سابق صدر پرویز مشرف نے بنگلہ دیش کے دورے کے دوران جنگ کی یادگار کا دورہ کیا اور اس وقت کے حالات پر بنگلہ دیش کی عوام سے افسوس کا اظہار کیا۔

تو پھر ایسا کیوں ہے کہ بنگلہ دیش دوبارہ معافی کا مطالبہ دہراتا آ رہا ہے؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے بی بی سی نے پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی چند شخصیات سے بات کی ہے۔

ڈھاکہ میں بطور پاکستان کے ہائی کمشنر تعینات رہنے والے اشرف قریشی کہتے ہیں کہ وہ اپنی ڈھاکہ میں سروس کے دوران سنہ 1974 میں ہونے والے اس معاہدے کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 195 قیدیوں کی واپسی کے پسِ منظر میں ہونے والی اس بات چیت کے دوران اس معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ وزیراعظم نے بنگلہ دیش دورے کا وعدہ کیا ہے اور بنگلہ دیش کے لوگوں سے ماضی کو درگزر کرنے کی درخواست کی ہے۔

واضح رہے کہ یہ معاہدہ اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں طے پایا تھا۔

سابق سفیر اشرف قریشی کہتے ہیں کہ اس معاہدے پر بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ نے دستخط کیے اور لکھا کہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم نے بھی عوام کو پیغام دیا اور کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی عوام جانتی ہے کہ درگزر کیسے کرنا ہے اور کلیمینسی کے طور پر بنگلہ دیش 195 قیدیوں کو واپس بھیجے گا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے سینیئر تاریخ دان افسان چودھری کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ معاہدہ دراصل پاکستان اور انڈیا کے درمیان تھا کیونکہ وہ ان حالات سے باہر نکلنا چاہتے تھے اور بنگلہ دیش کو اس معاہدے میں شامل ہونا پڑا۔

وہ کہتے ہیں ’اس وقت کی نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں اس کو سمجھوتا اور ’عزت بچانے کا راستہ‘ قرار دیا گیا۔ یہ بنگلہ دیش کے لوگوں کے لیے اطمینان بخش نہیں ہے۔ پچاس سال گزرنے کے بعد بھی یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ میرا نہیں خیال کہ وہ معافی جو اس وقت مانگی گئی، اس کا اب کوئی فائدہ ہے۔ حالانکہ اس وقت بھی عوام نے اس پر سخت تنقید کی تھی کہ یہ واقعی معافی ہے یا نہیں۔‘

سابق سفیر اشرف قریشی کے مطابق دونوں ہی جانب سے حالات خراب ہوئے اور غلطیاں بھی ہوئیں، دونوں ہی جانب جنگ اور مظالم کے متاثرین موجود ہیں، اور یہ سوال بھی کیے جاتے ہیں کہ اس جنگ سے پہلے ہی کچھ پاکستانی فوجیوں کو قتل بھی کیا گیا، تو کیا بنگلہ دیش بھی معافی مانگے گا؟‘

وہ کہتے ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف نے بھی دورہ بنگلہ دیش کے دوران افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے بہن بھائیوں کی جانب سے بات کر رہے ہیں۔

لیکن افسان چودھری کے مطابق پرویز مشرف کے دورے کے دوران بھی بنگلہ دیش کی عوام کو زیادہ توقعات وابستہ تھیں۔

’میرے خیال میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ معافی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم معافی چاہتے ہیں، ہم سے یہ ہو گیا، اس کا مطلب زیادہ گہرا ہے۔ کیونکہ بہت لوگ مارے گئے تھے، کئی خاندان تباہ ہوئے تھے، اس لیے ایک جامع معافی کی ضرورت ہے۔ اسے آپ قانونی طور پر تو شاید معافی کہہ سکیں مگر لوگوں کے لیے یہ معافی نہیں ہے۔ اُس معاہدے میں ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ بنگلہ دیش کی عوام درگزر کریں، مگر یہاں تو ہم سمجھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو ہی ان حالات کے ذمہ دار تھے۔‘

وہ کہتے ہیں ’بنگلہ دیش یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ سنہ 1971 میں ہوا وہ سب ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے کہ یہ کس نے کیا۔‘

پاکستان اور بنگلہ دیش کی حکومتیں معافی مانگیں یا نہ مانگیں، ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے کئی متاثرین کئی تکلیف دہ دہائیاں اپنے اندر چھپائے بیٹھے ہیں جس کا کتھارسس اب ناگزیر ہے، ماہرین کے مطابق اس کا واحد اور بہترین ذریعہ نوجوانوں کو اس حوالے سے تعلیم دینا اور لوگوں میں رابطے قائم کرنے سے ہی ممکن ہو سکے گا۔