سندھ: ضلع دادو میں کمسن بچی مبینہ طور پر غیرت کے نام پر سنگسار

قتل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمبینہ طور پر سنگسار کیے جانے والی لڑکی کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان میں صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں ایک کمسن بچی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام سنگسار کر دیا گیا۔

مقامی پولیس نے لڑکی کا نمازِ جنازہ پڑھانے والے پیش امام مشتاق لغاری کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ واقعے کی تفتیش کے لیے بچی کے والدین کو بھی تھانے منتقل کیا گیا۔

بچی کے والد کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی کی موت حادثاتی طور پر پتھر لگنے سے ہوئی۔

یہ واقعہ واہی پاندھی تھانے کی حدود کھیر تھر کے پہاڑی علاقے میں سندھ اور بلوچستان کے سرحدی گاؤں شاھی مکان کے قریب پیش آیا ہے۔

واہی پاندھی تھانے نے سنگسار کیے جانے والی لڑکی کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کر لیا ہے جبکہ پولیس نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دادو کو قبر کشائی کی درخواست بھی کی ہے۔

ایس ایس پی دادو کی جانب سے سیشن جج کو لکھے گئے خط میں قبر کشائی کے لیے مجسٹریٹ تعینات اور ڈائریکٹر جنرل صحت کو پوسٹ مارٹم کے لیے بورڈ تشکیل کرنے کا حکم دینے کی گزارش کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نماز جنازہ پڑھانے والے پیش امام کی نشاندہی پر لڑکی کی قبر پر پہنچی۔

یہ بھی پڑھیے

ایف آئی آر کے مطابق 22 نومبر کو علی بخش رِند نے اپنے رشتہ داروں بشمول علی نواز اور دیگر چار نامعلوم افراد کے ہمراہ منصوبہ بندی کر کے اپنی نو برس کی بیٹی گل سما کو پتھر مار مار کر بے دردی سے قتل کر دیا۔

مزید کہا گیا ہے کہ لڑکی کا جنازہ مولوی مشتاق نے پڑھایا جبکہ کفن دفن کا سامان تاج محمد رستمانی سے خریدا گیا۔ ایف آئی آر میں ان تمام افراد کو بھی شریکِ جرم قرار دیا گیا ہے۔

قبر

،تصویر کا ذریعہAsif Jamali

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق پولیس نماز جنازہ پڑھانے والے پیش امام کی نشاندہی پر لڑکی کی قبر تک پہنچی

دوسری جانب لڑکی کے والد علی بخش کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی کی موت حادثاتی طور پر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق لڑکی کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ اس کی موت پہاڑی تودے کے نیچے دب کر واقع ہوئی۔

دوسری جانب مولوی مشتاق کا کہنا ہے کہ چند روز قبل رات آٹھ بجے ان کے پاس لڑکی کے رشتے دار آئے اور کفن دفن کا بندوبست کرنے کا کہا۔

’اس کے بعد میں ان کے ہمراہ روانہ ہوا، بازار سے کفن دفن کا سامان بھی خریدا۔‘

مولوی مشتاق کے مطابق وہ ساری رات انتظار کرتے رہے صبح آٹھ بجے جنازہ لایا گیا، جس پر انھوں نے پوچھا کہ لڑکی بالغ ہے یا نابالغ جس پر انھیں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والی لڑکی کی عمر آٹھ سے دس سال ہو گی۔ اس کے بعد انھوں نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور واپس آ گئے۔

ایس ایس پی دادو ڈاکٹر فرخ ضیا کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والدین کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ اصل صورتحال پوسٹ مارٹم کے بعد ہی سامنے آئے گی۔