آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ویمن آن ویلز پراجیکٹ کا جائزہ: ’میں نے آج تک کسی لڑکی کو پنک بائیک چلاتے نہیں دیکھا‘
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
خواتین کو سفر کے معاملے میں خودمختار بنانے کی غرض سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے شروع ہونے والے ’ویمن آن ویلز‘ کے منصوبے کے تحت موٹر سائیکل چلانا سیکھنے والی خواتین کا خیال ہے کہ مردوں کی سوچ میں تبدیلی لانا لڑکیوں کو موٹر سائیکل سکھانے سے زیادہ ضروری ہے۔
گذشتہ روز ’اپنی سواری خود مختاری‘ کے نظریے کے تحت پنجاب سے شروع ہونے والے اس پراجیکٹ کو صوبہ سندھ میں متعارف کروایا گیا ہے۔
مگر اس سکیم کے باوجود بھی پنجاب میں خواتین کی ایک قلیل تعداد ہی سڑکوں پر موٹرسائیکل چلاتی دکھائی دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ویمن آن ویلز پراجیکٹ کیا ہے؟
ویمن آن ویلز پراجیکٹ کے بانی سلمان صوفی کے مطابق یہ پراجیکٹ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 2016 میں شروع کیا گیا تھا اور جب اس کا آغاز ہوا تو اس میں صرف 40 لڑکیاں شریک تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق اس پروگرام کے آخر میں تقریباً پانچ ہزار لڑکیوں کو اس سکیم کے تحت ٹریننگ دی گئی جبکہ سٹی ٹریفک لاہور کے مطابق وہ 1500 لڑکیوں کو موٹرسائیکل چلانا سکھا چکے ہیں۔
سلمان صوفی نے بتایا کہ اس پراجیکٹ میں پنجاب کے شہروں لاہور، ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی اور سرگودھا کو شامل کیا گیا تھا اور یہاں لڑکیوں میں 700 بائیکس تقسیم کی گئی تھیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس سکیم میں خواتین کو مفت ٹریننگ اور سبسڈی پر موٹر سائیکل فراہم کی گئی تھیں اور ہم نے ریڈیو سٹیشنز اور کالجز کے ذریعے اس موٹر سائیکل سکیم کے بارے میں خواتین کو آگاہ کیا تھا۔‘
حکومت پنجاب کی جانب سے دیئے گئے اشتہارات میں خواتین کی رہنمائی کے لیے یہ بتایا گیا تھا کہ 18 سال سے 40 سال کی عمر کی خواتین اس سکیم میں حصہ لینے کے لیے اہل ہوں گی، جبکہ 30 ہزار سے زائد آمدنی والی خواتین پنک بائیک کے لیے نااہل قرار دی گئی تھیں۔
75 ہزار کی مالیت کی پنک بائیک پر حکومت کی جانب سے 25 ہزار روپے کی سبسڈی دی گئی تھی۔ جبکہ خواتین نے 30 ہزار ایک ساتھ جمع کروانے کے بعد 12 ماہ کی اقساط بنک آف پنجاب کو ادا کیں۔
خواتین کو پنک بائیکس کیوں دی گئی تھیں؟
سلمان صوفی کے مطابق اس مہم کا مقصد صرف اتنا تھا کہ ہم خواتین کو خودمختار بنا سکیں تاکہ وہ کہیں بھی جانے کے لیے آزادانہ طور پر سفر کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا ’پاکستان جیسے سے معاشرے میں میں 95 فیصد لڑکیاں کہیں آنے جانے کے لیے اپنے گھر والوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے لڑکیوں کو ٹریننگ دی اور انھیں خودمختار سواری دی اس لیے میرے خیال میں یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم پنجاب میں اس پراجیکٹ کو مزید آگے بڑھانا چاہتے تھے لیکن حکومت پنجاب نے اس پراجیکٹ کو ختم کر دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پراجیکٹ کے تحت ہم نے خواتین کو سڑکوں پر جنسی ہراس کے خلاف اور حفاظت کی ٹریننگ بھی دی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے اس پروگرام کے لیے سات کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی تھی۔
پنجاب میں ویمن آن ویلز پراجیکٹ کی کامیابی کا تناسب کیا ہے؟
محکمہ سٹی ٹریفک لاہور کے عرفان علی ویمن آن ویلز پراجیکٹ کے تحت خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی تربیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق شہر کی سڑکوں پر خواتین موٹرسائیکل سواروں کی کم تعداد کی وجہ یہ ہے کہ تقریباً 2 کروڑ کی آبادی والے اس شہر میں صرف 1500 لڑکیوں کو موٹر سائیکل چلانی سکھائی گئی اور یہ تعداد صرف آٹے میں نمک ہونے کے برابر ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم خواتین کو ہر قسم کی ٹریننگ دینے کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں تاکہ وہ موٹرسائیکل چلانے کے لیے سڑکوں پر آئیں۔ خواتین اگر کبھی غلطی کرتی ہیں تو ہم ان کا چالان نہیں کرتے بلکہ انھیں وارننگ دے کر جانے دیتے ہیں۔
محکمہ سٹی ٹریفک لاہور سے ہی تعلق رکھنے والی تربیت کار عروسہ بھی اس مہم کے نتائج سے مطمئن نہیں ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’سڑکوں پر ایسا نظر آیا کہ کچھ مرد حضرات پنک بائیک کو چلاتے دیکھائی دیئے ہیں اور میرے نزدیک یہ ایک بہت بڑی کوتاہی ہے۔‘
ویمن آن ویلز پراجیکٹ میں حصہ لینے والی نتاشا (جنھیں پنک بائیک ملی تھی) نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے آج تک کبھی کسی خاتون کو پنک بائیک چلاتے نہیں دیکھا ہے۔
نتاشا کا کہنا ہے ’میں نے دو مرتبہ لاہور میں پنک بائیک چلتی ہوئی دیکھی جس پر ایک بار لڑکے بیٹھے تھے اور ایک مرتبہ گھر کے قریب ایک انکل چلا رہے تھے۔‘
موٹرسائیکل چلانے میں خواتین کو درپیش مسائل
ویمن آن ویلز مہم کے تحت پنک بائیک حاصل کرنے والی نتاشا نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اس مہم میں حصہ اس لیے لیا تھا کیوں کہ وہ خودمختار ہونا چاہتی تھیں لیکن پنک بائیک ملنے کے باوجود بھی وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر خود مختار نہیں سمجھتیں۔
انھوں نے بتایا کہ بائیک ملنے کے بعد شروع شروع میں انھوں نے موٹرسائیکل چلائی لیکن پھر خاندانی مسائل کے باعث موٹرسائیکل چلانی بند کر دی۔
نتاشا کے مطابق ان کا بھائی معاشرتی رویوں کے خوف سے انھیں موٹرسائیکل چلانے کی اجازت نہیں دیتا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی موٹرسائیکل بہن کی طرف کھڑی کی ہوئی ہے جہاں وہ کبھی کبھی اسے چلاتی ہیں۔ سڑک پر موٹرسائیکل چلاتے ہوئے ایک دو ناخوشگوار واقعات کا ذکر کرتے ہوئے نتاشا نے بتایا ’لوگ بہت تنگ کرتے تھے اور کوشش کرتے ہیں کہ لڑکی کی توجہ سامنے سے ہٹ جائے تاکہ لڑکی یا رک جائے یا گر جائے۔‘
ایسے ہی ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’ایک بار میں باہر جا رہی تھی تو سامنے گاڑی تھی جس میں لڑکا تھا۔ اس نے شیشے سے دیکھ لیا کہ موٹرسایئکل پر لڑکی ہے تو وہ وہیں پر رک گیا نہ آگے جا رہا تھا اور نہ پیچھے ہو رہا تھا۔ میں نے سائیڈ سے موٹر سائیکل نکالی تو اس نے فوراً گاڑی چلا دی۔‘
موٹر سائیکل ٹرینر عروسہ نے بتایا کہ ٹریننگ کے وقت خواتین کی زبردست شرکت تھی اور اُنھیں ٹریننگ دی گئی تھی لیکن اب آکر وہ ردعمل نظر نہیں آرہا سڑک پر کیونکہ ’جو طلبہ میرے ساتھ رابطے میں ہیں وہ بتاتی ہیں کہ معاشرتی مسائل ہیں اور لوگ چھیڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی موٹر سائیکل آزادانہ طور پر نہیں چلا پا رہیں۔‘
مگر پروگرام کے بانی سلمان صوفی کا کہنا ہے وہ ویمن آن ویلز کی کامیابی اس بات میں سمجھتے ہیں کہ وہ خواتین کو ٹریننگ دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’معاشرتی مسائل کو ہم ناکامی تصور نہیں کرتے کیونکہ ہمارا معاشرہ کسی بھی غیر معمولی بات کو باآسانی قبول نہیں کرتا۔ اگر ہم کچھ لوگوں کو ہی یہ بات سمجھانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ لڑکی پیچھے بیٹھنے کے بجائے آگے بیٹھنے کے بھی قابل ہے تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری کامیابی کا پہلا قدم ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے خواتین کو موٹرسائیکل چلانے کے ساتھ ساتھ انھیں نوکری کی بھی ٹریننگ دی ہے۔ کچھ ایسی کمپنیاں ہیں جو ہمارے ساتھ مل کر خواتین موٹرسائیکل رائیڈرز کو نوکری فراہم کرنے میں مددگار ہیں۔‘
مسائل کا حل کیا ہے؟
پنک بائیک رائڈر نتاشا کہتی ہیں ’حکومت کو چاہیے کہ جب بھی اسکیم خواتین کے لیے بنائیں تو خواتین کی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ اُن کے والدین اور گھر والوں کو بھی لیکچر دیں۔ انھیں سمجھائیں کہ خواتین کو آگے بڑھنے دیں۔‘
’ایک سوسائٹی لیکچر ہونا چاہیے کہ خواتین کو خومختار بنائیں اور بتائیں کہ اُنھوں نے سوسائٹی سے کیسے ڈیل کرنا ہے اور اپنے آپ کو کیسے محفوظ رکھنا ہے۔ اسی صورت میں ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘
جبکہ عروسہ کا کہنا ہے کہ ’خاص طور پر مرد حضرات کی ٹریننگ ہونی چاہیے کہ وہ خواتین کو سڑک پر اپنے ساتھ برداشت کریں اور اِن کو آگے آنے دیں۔‘