آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
طالبات کے لیے بائیک ٹو سکول منصوبہ
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سے ایک بڑا مسئلہ سکول پہنچنے کے لیے میلوں فاصلہ طے کرنا ہے اور موثر ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ ان لڑکیوں کو تعلیم کے لیے پیدل ہی فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔
لڑکیوں کے سکول تک پہنچے کے سفر اور مشکل کو آسان بنانے کا حل بھی تلاش کرلیا گیا اور سکول آنے جانے والی ان طالبات کو بائیسکلز فراہم کی گئی ہیں۔
’بائیک ٹو سکول‘ یعنی بائیسکل پر سکول جائیں کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت دورداز کے علاقوں میں قائم سکول جانے والی طالبات کو مفت سائیکلیں دی جارہی ہیں۔
بائیک ٹو سکول نامی پراجیکٹ کو ایجوکیشن ڈویلپمنٹ فاﺅنڈنشن نامی تنظیم نے شروع کیا ہے اور اس کی ابتدا صوبہ پنجاب کے ضلعے پاکپتن کے دیہی علاقوں میں قائم مڈل اور ہائی سکولوں کی طالبات سے کی گئی ہے۔
ماہرین تعلیم کے مطابق دور دراز علاقوں میں لڑکیوں کو سکولوں تک پہچنے کے لیے روزانہ میلوں فاصلہ طے کرنا پڑتا جو آسان نہیں ہے اور اس وجہ سے اکثر لڑکیاں اپنی پڑھائی چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔
تنظیم کے چیئرمین ارشاد احمد مغل نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد طالبات کو ان کی اپنی سواری کے ذریعے سکول رسائی کو آسان بنانا ہے تاکہ وہ اپنی سواری کے ذریعے بغیر کسی کی مدد سکول آجا سکیں۔
ارشاد مغل نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت سکول کی عمارت تو بنادیتی ہے لیکن اس جانب کوئی دھیان نہیں دیا جاتا کہ طالبات میلوں کا فاصلہ طے کرکے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کس طرح جائیں گی۔
پراجیکٹ کے کوآرڈی نیٹر خالد فاروق نے بتایا کہ مڈل اور ہائی سکول کی طالبات کو مراحلہ وار بائیسکل فراہم کی جارہی ہے اور ایک سکول کو دس سے بیس سائیکلیں دی جاتی ہیں۔ خالد فاروق کے مطابق سکول کی انتظامیہ جن ضرورت مند طالبات کی فہرست فراہم کرتی ہے ان کے بارے میں تصدیق کے بعد طالبات کو بائیسکلز فراہم کردی جائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کوآرڈی نیٹر کے بقول جن طالبات کو سائکلیں دی گئیں ہیں ان کے گھر والوں کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا گیا کہ وہ بائیسکل کا غلط استعمال نہ کریں اور لڑکی کو ہائی سکول کی تعلیم مکمل کرنے دی جائے۔
خالد فاروق نے بتایا کہ طالبات کو بائیسکل دینے سے پہلے لڑکیوں کو بائیسکل چلانے کی تربیت دی گئی۔ لڑکیوں کو اس بات کا پابند بھی بنایا گیا کہ وہ گروپ کی شکل میں بائیسکلوں پر سکول جائیں تاکہ بائیسکل خراب ہونے کی صورت میں ان کی ساتھی طالبات ان کی مدد کر سکیں۔
سکول کی اساتذہ اور طالبات نے بھی اس پراجیکٹ کو سراہا اور اس پر خوشی کا اظہار کیا۔
مڈل سکول کی ہیڈمسٹریس نسیم اشرف کا کہنا ہے کہ پیدل فاصلہ طے کرکے سکول پہنچنے والی لڑکیاں تھکاوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں کیونکہ غربت کی وجہ سے ان لڑکیوں کو مناسب خوراک نہیں ملتی۔
ہیڈ مسٹریس نے بتایا کہ یہ طالبات نہ تو وقت پر سکول پہنچتی ہیں بلکہ تھکاوٹ کی وجہ سے سکول سے بھی غیر حاضر رہتی ہیں۔اس طرح ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور کئی لڑکیاں سکول چھوڑ دیتی ہیں۔
امیرہ ریاض نے بتایا کہ انھیں سکول لے جانے اور لانے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ والد کا انتقال ہوگیا اسی وجہ سے اس کے گھر والے مزید تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے لیکن وہ بائیسکل کی وجہ سے اپنی مدد آپ کے تحت سکول جاتی ہیں۔
تنظیم کے چیئرمین ارشاد نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں پراجیکٹ کا دائرہ کار بڑھا کر دیگر اضلاع تک لیجایا جائے گا تا ہم حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کے منصوبے شروع کریں تا کہ لڑکیاں تعلیم کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہو سکے۔