امریکہ کی سی پیک پر تنقید: پاکستان کو انتباہ یا تجارتی تعلقات بحال کرنے کی پیشکش

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ثقلین امام
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
امریکی محکمہ خارجہ کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایلِس ویلز کے چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک پر براہ راست تنقید سے اگرچہ کئی تجزیہ کاروں کو حیرانی نہیں ہوئی لیکن کچھ پاکستانی سفارت کار اسے امریکہ کی پاکستان سے تجارتی تعلقات بحال کرنے کی ایک بالواسطہ پیش کش قرار دے رہے ہیں۔
ایلس ویلز جو کہ امریکی محکمہ خارجہ میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے امور کی سربراہ ہیں، عموماً پاکستان سے امریکی روابط پر عدم اطمینان کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
ماضی میں انھوں نے پاکستان پر لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسے 'دہشت گرد' گروہوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سفارت کاری اور پاکستان۔امریکہ تعلقات پر نظر رکھنے والے چند معروف تجزیہ کاروں نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی تحقیقاتی ادارے ولسن سینٹر میں ایلس ویلز کی تقریر کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کی کوشش کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ نے امریکی دفتر خارجہ کی اہلکار کی تقریر کے جواب میں کہا کہ وہ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں جبکہ ایک نے کہا کہ وہ پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کا اشارہ دے رہی ہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے 60 ارب ڈالرز مالیت کے کئی پراجیکٹس پر مشتمل منصوبے سی پیک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایلِس ویلز نے کہا کہ ’سی پیک پاکستان کے نوجوانوں کو روزگار مہیا نہیں کرتا ہے، یہ پاکستانی کمپنیوں کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتا جو چینی کمپنیوں کو پاکستان ایک دہائی پہلے مہیا کرتا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں اتنا عدم توازن ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری نے جہاں سی پیک کی تجارتی افادیت پر سوالات اٹھائے وہیں انھوں نے امریکی نجی سرمایہ کاری کی قیادت والے ترقیاتی ماڈل کو بھی سراہا۔
’دنیا میں امریکہ کے ترقیاتی ماڈل کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں چینی عوام ہیں۔‘
ان کی اس تقریر پر پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جِنگ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے تاہم پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے نے کہا ہے کہ سی پیک کسی ملک کے خلاف نہیں ہے اور پاکستان چین اور امریکہ کی کشیدگی میں پارٹی نہیں بنے گا۔
پاکستان میں چینی سفیر نے کہا ہے کہ چین نے سیاسی مقاصد یا مخصوص حکومتوں سے بالاتر ہو کر ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے اور کبھی بھی ایسے وقت پر پاکستان سے ادائیگی کا تقاضا نہیں کرے گا جب ایسا کرنا پاکستان کے لیے مشکل ہو۔
چینی سفیر کا کہنا تھا کہ دوسری جانب یہ آئی ایم ایف ہے جس کی قرضوں کی ادائیگی کا سخت نظام ہوتا ہے۔
کیا امریکہ نے پاکستان کو انتباہ دیا ہے؟
بیجنگ میں مقیم انڈین صحافی سیبل داس گپتا کہتے ہیں کہ ایلس ویلز ایک لحاظ سے پاکستان کو سی پیک کا منصوبہ ختم کرنے کے لیے کہہ رہی ہیں۔
’لیکن اگر ان کے بیان کو بغور دیکھا جائے تو وہ پاکستان سے یہ کہہ رہی ہیں کہ پاکستان کو امریکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی کھولو۔‘
مسٹر داس گپتا کہتے ہیں کہ ایلس ویلز کی تقریر کے وقت میں ایک مبہم سا اشارہ یہ بھی ہے کہ اگر پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا چاہتا ہے تو فروری میں امریکہ شاید پاکستان کے حق میں ووٹ نہ دے۔
ایف اے ٹی ایف میں گرے لسٹ سے نکلنے اور بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے نہ کہ کارکردگی کی بنیاد پر۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اگرچہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ایک اچھا معاہدہ کر چکا ہے لیکن اسے جو 'بیل آؤٹ' پیکیج درکار ہے اس کے لیے امریکہ کی حمایت چاہیے۔
’ایلس ویلز کے بیان میں اشارہ ہے کہ امریکہ پاکستان کے کیس کی آئی ایم ایف میں حمایت نہیں کرے گا اگر پاکستان کا چین پر انحصار برقرار رہتا ہے۔‘
’ہمیں امریکہ کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے‘
پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اور امریکہ، انڈیا اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر ریاض کھوکھر کہتے ہیں کہ امریکہ کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ پاکستان اور چین کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ان کو یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ ان دونوں ملکوں کی دوستی کتنی گہری ہے۔‘
چین کے پراجکیٹس پر ایلِس ویلز کی تنقید کے جواب میں ریاض کھوکھر نے کہا کہ چین نے یہ منصوبے پاکستان پر مسلط نہیں کیے تھے۔
’پاکستان کی حکومتوں نے چین سے یہ پراجیکٹس خود مانگے تھے۔ اگر ان منصوبوں کے معاہدوں میں کسی قسم کی کوئی غلطی ہوئی ہے تو یہ ہماری جانب سے ہوئی۔ چین نے ہماری کمزوری کا کہیں فائدہ نہیں اٹھایا۔‘
ریاض کھوکھر نے مزید کہا کہ چین کی سرمایہ کاری پر بہت زیادہ منفی تنقید ہو رہی ہے۔ 'لیکن چین نے کبھی بھی کسی ملک کا اس طرح استحصال نہیں کیا جس طرح کا استحصال مغربی ممالک اپنی کالونیز میں کرتے رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک نے ڈیڑھ کھرب ڈالرز سے زیادہ رقم افغانستان میں جنگ لڑنے پر خرچ کی لیکن اس کے مقابلے میں افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے کیا کیا۔
’جتنی بربادی امریکہ نے افغانستان میں اور مشرق وسطیٰ میں کی ہے اس کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں کرسکتا ہے۔ انھوں نے افغانستان، عراق، شام اور لیبیا کو تباہ کر دیا۔ ہمیں امریکہ کی ایڈوائس کی ضرورت نہیں ہے۔‘
’چین کی سرمایہ کاری پختہ بنیادوں پر ہے‘
پاکستان کے ایک اور سابق سیکریٹری خارجہ نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے چین سے اپنی دوستی میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ تاہم امریکی نائب سیکریٹری ایلِس ویلز پاکستان کو یہ یاد دلانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ امریکہ بھی پاکستان کا دوست رہا ہے اور آئندہ بھی ہوسکتا ہے اور امریکہ نے جس طرح پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے اس کا نہ صرف اقتصادی فائدہ ہوا ہے بلکہ (امریکی) اقدار بھی متعارف ہوئی ہیں۔‘
سابق سفیر نجم الدین نے اگرچہ پیپسی کولا، کوکا کولا یا اوبر جیسی سرمایہ کاری کو غیر اہم قرار دیا لیکن ماضی میں دیگر شعبوں میں پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کی تعریف کی۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں چینی منصوبہ بندی کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کی صورت میں چین قرضوں کی ادائیگی کے شیڈول میں تبدیلی کرسکتا ہے۔ چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری پختہ بنیادوں پر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ایلس ویلز نے چینی منصوبوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کرپشن کا اشارہ دیا لیکن اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق سفیر نجم الدین شیخ نے کہا کہ ’دونوں ہی چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے، لیکن پاکستان کو اپنے مفاد میں دیکھنا ہو گا کہ وہ چین اور امریکہ کے درمیان توازن کیسے قائم کرے۔ دوسرا یہ کہ امریکہ چین جیسی سرمایہ کاری نہیں کرتا ہے، اور نہ کرنا چاہتا ہے، وہ تو نجی سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں مانگتا ہے۔ جب کہ چین پاکستان میں سرکاری سطح پر یا سرکاری ضمانت کے ساتھ اپنی نجی کمپنیوں کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔‘
نجم الدین کا کہنا تھا کہ امریکہ نے انڈیا کے ساتھ نہ صرف ایک کاروباری اتحاد کیا ہے بلکہ انڈیا کے ساتھ ایک سٹریٹیجک الائنس بنایا ہے تاکہ چین کے خلاف ایک محاذ بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیکن انڈیا میں یہ شعور پیدا ہو گیا ہے کہ ’کیوں نہ انڈیا بھی چین کی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھائے۔ انڈیا تو اب امریکہ کو ناراض کر کے روس سے میزائل بھی خرید رہا ہے۔‘
’امریکہ کے لیے پاکستان صرف افغانستان کی وجہ سے اہم ہے‘
امریکی محکمہ دفاع کے سابق مشاورت کار اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر احسان احراری کہتے ہیں کہ امریکہ نے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کو نظر انداز کیا۔ ٹرمپ کے زمانے سے خاص کر، بلکہ اوبامہ کے زمانے ہی سے پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی دراصل ایک ’نان پالیسی‘ ہے۔
’امریکہ صرف افغانستان کی وجہ سے پاکستان سے بات کرتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر احسان احراری نے امریکی نائب سیکریٹری ایلِس ویلز کی تقریر سے اس حد تک اتفاق کیا کہ چین کا ایک اپنے طرز کا امپیریلیزم ہے وہ پاکستان کو اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔ جبکہ پاکستان کا آہستہ آہستہ چین کی جانب سرکنا اس کی پرانی پالیسی ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب سے پاکستان کو یہ نظر آیا کہ اسے امریکہ سے کچھ نہیں ملے گا تو وہ چین کی جانب سرکتا چلا گیا۔‘
دفاعی امور کے ماہر احراری نے کہا کہ ’امریکہ کا اب پاکستان کے ساتھ کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں ہے۔ اب سے کچھ دن پہلے زلمے خلیل زاد کے ذریعے رابطہ بنا تھا لیکن اس ملاقات کے بعد اب کہیں کسی رابطے کی کوئی خبر ہی نہیں ہے۔ امریکہ کے پالیسی ساز اداروں میں اب پاکستان کے بارے میں کوئی پالیسی نظر ہی نہیں آرہی ہے۔‘
ڈاکٹر احسان احراری نے اس خیال کو بھی غلط کہا کہ اب امریکہ اور انڈیا کے درمیان بہت مضبوط تعلقات بن گئے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ میں انڈیا کی لابی بہت مضبوط ہے لیکن انڈیا اب امریکہ پر اعتبار نہیں کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اب الائنس والی بات نہیں ہے، پبلیسٹی بہت ہے۔ اب ان دونوں کے درمیان بائی دی وے والی بات رہ گئی ہے۔‘











