انس حقانی کے بدلے غیر ملکی پروفیسروں کی رہائی، امریکی صدر کا پاکستان کی سہولت کاری پر شکریہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شام پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا افغانستان میں طالبان سے دو غیرملکی مغویوں کی رہائی میں سہولت کاری کے لیے شکریہ ادا کیا ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق عمران خان اور صدر ٹرمپ کی بات چیت کے دوران دوطرفہ امور اور خطے کی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔
وزیر اعظم عمران خان مغربی پروفیسروں کی رہائی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل افغان حکومت کی جانب سے انس حقانی سمیت تین طالبان جنگجوؤں کی رہائی کے بعد طالبان نے بھی دو غیرملکی مغویوں کو رہا کر دیا تھا۔
طالبان ذرائع کے مطابق امریکن یونیورسٹی آف افغانستان کے اساتذہ کیون کنگ نامی امریکی شہری اور آسٹریلیا کے ٹموتھی ویکس کو تین برس قبل کابل سے اغوا کیا گیا تھا اور انھیں منگل کو رہائی ملی ہے۔
اس سے قبل معاہدے کے تحت رہا کیے جانے والے طالبان رہنما افغانستان سے قطر پہنچے گئے تھے۔

اس سے قبل اکتوبر میں بھی طالبان کے کئی سرکردہ کمانڈروں کی رہائی کے بدلے میں انڈیا سے تعلق رکھنے والے تین انجینیئروں کو رہا کیا گیا تھا۔ رہائی پانے والے طالبان میں حقانی گروپ کے ایک رکن کے علاوہ مزید 10 اہم کمانڈر شامل تھے۔
حقانی نیٹ ورک افغان طالبان کا حصہ ہے اور یہ گروہ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف وجود میں آیا۔ امریکہ کی جانب سے اور پاکستان میں اس گروہ پر دہشتگردی کے الزامات میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انس حقانی کون ہیں؟
بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے رہا کیے جانے والے طالبان کمانڈروں میں شامل انس حقانی کا شمار افغان طالبان کے نوجوان رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
وہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی المعروف 'خلیفہ صیب' کے چھوٹے بھائی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTahir Khan
جمعرات کی شام پاکستانی وزیراعظم اور امریکی صدر کی کال کے دوران دونوں رہنمائوں نے پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا اور اس مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان کے وزیراعظم ہاوس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے کال کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے امریکی صدر کے کردار پر بھی زور دیا ہے۔












