پاکستان کا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سربراہ اور ارکان سے محروم کیوں؟

لاپتہ افراد کے لواحقین
    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے رہائشی قاضی ارشد کے بیٹے کو ڈڈھیال سے جب جبری طور پر گمشدہ کیا گیا تو ان کے ایک خیرخواہ نے انھیں انسانی حقوق کے قومی ادارے ’نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس‘ (قومی کمیشن برائے انسانی حقوق) کا راستہ دکھایا۔

قاضی ارشد اسلام آباد پہنچے لیکن قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سابق چیئرمین جسٹس علی نواز چوہان نے انھیں بتایا کہ ان کے بیٹے کا مقدمہ چونکہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر سے منسلک ہے اس لیے وہ کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

لیکن اب یہ کمیشن پاکستان کے کسی شہری کی درخواست بھی نہیں لے سکتا کیونکہ یہاں نہ چیئرمین ہے نہ ہی کوئی رکن۔ دفتر کھلتا ضرور ہے لیکن نہ کوئی درخواست لی جاتی ہے اور نہ ہی اس کو سنا جا رہا ہے، اور یہ صورتحال چھ ماہ سے جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

قاضی ارشد نے مایوسی کے عالم میں گھر کی راہ لینے سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں نے دیکھا ہے کہ کئی مقدمات کمیشن نے نمٹائے ہیں، میرے مقدمے میں تو یہ فیصلہ نہیں دے سکتے لیکن حکومت اور عدالتوں کو پاکستان کے مختلف حصوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں بتا تو سکتے ہیں۔‘

قاضی ارشد کا معاملہ تو این سی ایچ آر کے دائرہ کار میں نہ ہونے کے باعث نہیں سنا جا سکا، لیکن کمیشن نے ایسے کئی ہائی پروفائل معاملات پر شنوائی اور اس کے نتیجے میں سفارشات دی ہیں جن پر عدالتی کارروائیاں بھی ہوتی رہی ہیں۔

دور دراز علاقوں سے لوگ اس کمیشن تک اپنی فائل لے کر آتے ضرور ہیں چاہے فیصلہ جو بھی ہو۔

واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق شکایات اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں جمع کروا سکتے ہیں۔

اوکاڑہ ملٹری فارمز

،تصویر کا ذریعہBBC URDU

،تصویر کا کیپشنپچھلے کئی برسوں میں فوج اور مزارعین کے درمیان جھگڑوں میں 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اوکاڑہ مزارعین کا معاملہ اور ’مسنگ‘ کمیشن چیئرمین

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی طرف سے سفارشات دینے کی ایک مثال اوکاڑہ مزارعین اور پاکستان کی فوج کے درمیان جاری تنازعے کی بھی ہو سکتی ہے۔

اوکاڑہ ملٹری فارمز کی 18000 ایکڑ زمین میں سے 5000 ایکڑ فوج کے ہاتھ میں ہے۔ جس پر مزارعین یعنی گندم کی کاشت کرنے والے کسان اپنا کاشت کیا ہوا حصہ فوج کو بٹائی کی صورت میں نہیں دینا چاہتے۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا ایسا معاملہ تھا جس پر نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس نے اب تک تین سے زائد نشستیں کروائیں ہیں جن میں اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے مزارعین اور پاکستانی فوج کے اوکاڑہ میں تعینات اہلکاروں کو آمنے سامنے بٹھا کر اپنا اپنا مؤقف بتانے کو کہا گیا۔

حالانکہ این سی ایچ آر کی رواں سال اوکاڑہ معاملہ پر کمیشن کی حتمی رپورٹ، جس میں مزارعین کو بٹائی یعنی گندم کی کاشت کا حصہ پاکستانی فوج کو دینے کی تجویز دینے سے مزارعین اور سماجی کارکن دونوں ناخوش ہوئے لیکن اب اسی طرز کے باقی معاملات بھی رکے ہوئے ہیں۔

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس مزدوروں، کسانوں، مبینہ طور پر جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کے لواحقین اور جبری طور پر مسلمان کی جانے والی بچیوں کے لواحقین کے لیے ایک ایسی جگہ ہے جہاں ان کو درپیش مسائل کا حل ہو یا نہ ہو لیکن پاکستانی فوج کے اہلکار، حکومتی ارکان یا عدلیہ سے منسلک سابق ججوں کے سامنے بیٹھ کر فریقین کو اپنی بات بتانے کا موقع ضرور ملتا ہے۔

اب اگر اسی ادارے کے چیئرمین کی نشست چھ ماہ کا عرصہ گزرے اور اخبارات میں دو مرتبہ اشتہارات چھپنے کے باوجود بھی خالی رہےتو اس سے پاکستان کی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق سنجیدگی کا کیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے؟

لاپتہ افراد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کمیشن میں تقرری کا طریقہ کار

اس کمیشن کو بنانے کی تجویز سنہ 2012 میں پیرس پرنسپل کے تحت دی گئی لیکن اس پر عملدرآمد ہوتے ہوئے اس کا قیام مئی 2015 میں ہوا۔ اس کمیشن کا دورانیہ چار سال کا ہوتا ہے۔ پاکستان میں این سی ایچ آر کے ارکان ایک ساتھ مقرر کیے جاتے ہیں۔ کمیشن کے سات ارکان ہوتے ہیں لیکن سابق فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں انضمام کے بعد اب ارکان کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

یہ کمیشن پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ملک کے آئین اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کام کرتا ہے۔ کمیشن پاکستان کی پارلیمان کو جوابدہ ہوتا ہے جہاں اس کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ بھی جمع کرائی جاتی ہے۔

حکومت کا کام اشتہارات دے کر چیئرمین کے عہدے کے لیے مختلف تجاویز اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ جس کے بعد اشتہارات کے شائع ہونے والی ہر پوسٹ کے لیے تین نام شارٹ لسٹ کر کے وزیرِ اعظم کو تجویز کیے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وزیرِاعظم ان ناموں کو قائد حزبِ اختلاف کو بھجوا دیتے ہیں جن کی رضامندی کے بعد یہ نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جاتے ہیں جہاں حکومت اور حزبِ اختلاف کی نمائندگی کرنے والے چار ارکان ان ناموں میں سے ایک کا انتخاب کرتے ہیں۔

اگر اتفاق نہ ہو سکے تو حزبِ اختلاف اپنی طرف سے تین مزید نام تجویز کرتی ہے۔ منتخب چیئرمین کی تقرری کے بارے میں اعلامیہ وزیرِ اعظم کی سفارش پر صدرِ پاکستان کرتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے منتخب کیے ہوئے چیئرمین کو آئین کی شِق دو اور چار کا تحفظ حاصل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں چیئرمین کو آسانی سے اپنے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

پیرس پرنپسل کے تحت یہ کمیشن خود مختار اور غیر جانبدار ہے جس کا کام پاکستان کی عدالتوں میں جاری انسانی حقوق کے مقدمات پر تحقیق، یا عدالتی ازخود نوٹس کے مقدمات پر نظرثانی کرنا، لواحقین کی طرف سے جمع کروائی گئی پٹیشن کی جانچ پڑتال اور اس کے حوالے سے اپنی سفارشات دینا شامل ہے۔

رواں سال اس کمیشن کے چیئرمین کی آسامی کو بھرنے کے لیے مارچ میں اشتہارات دیے گئے اور درخواست جمع کرانے کی تاریخ اپریل میں ختم ہو گئی۔

اس بارے میں وزارتِ انسانی حقوق کے ایک ترجمان نے بتایا ’بھرتیوں کے لیے تگ و دو جاری ہے اور ہو سکتا ہے کہ اگلے تین ہفتوں میں، یا اس سے پہلے، کمیشن کے ارکان کی تقرری ہو جائے۔‘

لیکن سماجی کارکنان کے مطابق اب تک ایسا ہونے کے آثار کم نظر آرہے ہیں۔

انسانی حقوق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مسئلہ کشمیر اور انسانی حقوق کا غیر فعال کمیشن

ہیومن رائٹس کمیشن فار پاکستان کے سکریٹری جنرل حارث خلیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایچ آر سی پی کی یہ دیرینہ خواہش رہی ہے کہ ملک میں نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس قائم کیا جائے۔ ان کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں یہ کمیشن قائم کیا گیا۔

’لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس کمیشن کی اہمیت کو نہیں سمجھ پا رہی ہے۔ اور سابق این سی ایچ آر چیرمین علی نواز چوہان اور ان کے ممبران کے جانے کے باوجود بھی ان کی جگہ پر کوئی نہیں آیا ہے۔‘

حارث خلیق نے این سی ایچ آر کی کارکردگی کے بارے میں کہا ’ان کی کارکردگی مثالی تو نہیں رہی۔ جیسے کے مزارعین کے معاملے میں کمیشن کا متنازع مؤقف اختیار کرنے سے ثابت ہوا۔ بہرحال ایک ارتقا پزیر جمہوریت میں ایک غیر جانبدار ادارے کا قائم کیا جانا ایک مثبت عمل ہے۔‘

انھوں نے کمیشن کے ماورائے عدالت قتل کے معاملات، جبری گمشدگیوں اور پاکستان کی اقلیتوں کے معاملات، خاص کر جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے کے بارے میں کاوشیں گنوائیں۔

لیکن حارث خلیق سمجھتے ہیں ’حکومت کا کمیشن کے ارکان کو نہ چُننے سے یہ بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری اور قانون کی عملداری اس وقت ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ ورنہ این سی ایچ آر کو اتنی دیر تک نہیں چھوڑا جاتا۔‘

این سی ایچ آر کے سابق رکن چوہدری شفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا جی ایس پی پلس کا معاملہ التوا میں پڑا ہوا ہے۔ یہ بات ہمارے لیے باعثِ شرمندگی ہے کہ ملک کا نیشنل کمیشن چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے غیر فعال ہے، اور ان چھ ماہ میں کیا کیا نہیں ہوا۔‘

انھوں نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق میں چیئرمین اور ارکان کی تقرریوں میں تاخیر کی وجہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت معاملہ حکومت اور حزبِ اختلاف کے ایک پیج پر نہ ہونے سے منسلک ہے، جس پر دونوں فریقین کو جلد از جلد اس معاملے کو سلجھانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘

چوہدری شفیق نے کہا کہ چیئرمین این سی ایچ آر کی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے ’حکومت کے کشمیر کے مؤقف پر بھی فرق پڑے گا۔ کیونکہ جب آپ دنیا میں بتائیں گے کہ (انڈیا کے زیر انتظام) کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ تو آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ کے اپنے ملک کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے والا کمیشن غیر فعال کیوں ہے؟‘