آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشل میڈیا: نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت ملنے کے بعد پاکستان میں صدارتی نظام کی بازگشت
گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت ملنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چند صارفین کی جانب سے ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔
چند سوشل میڈیا صارفین کا دعویٰ ہے کہ اگر پاکستان میں صدارتی نظام نافذ ہوتا تو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت ہرگز نہ ملتی۔
یہ بھی پڑھیے
محمد حاشر کہتے ہیں کہ جمہوریت نے ہمیں ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ ہم برطانوی دور کے حکمرانی اور انصاف کے پرانے نظام پر چل رہے ہیں۔ ہمیں ایسے منتخب عہدیداروں کی بجائے جو فیلڈ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین اور ٹیکنوکریٹس کی ضرورت ہے۔
انھوں نے تو ایک گراف بنا کر یہ دکھانے کی کوشش بھی کی ہے کہ کس کس صدر کے دورِ حکومت میں پاکستان کی معیشت میں کتنی بہتری آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک صارف تو صدارتی نظام کی حمایت میں سنہ 1942 میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانیِ پاکستان محمد علی جناح سے منصوب ایک فرمان بھی شئیر کر دیا اور کہا کہ ہمیں پاکستان میں اسی کے مطابق لیڈر شپ اور نظام چاہیے۔
میاں شعیب نامی ایک صارف کا کہنا ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام پر انھیں اعتماد نہیں ہے۔ ’سیاستدانوں اور عدالتوں میں موجود ان کے ایجنٹس سے چھٹکارے کے لیے میں صدارتی نظام رائج کرنے کی تائید کرتا ہوں۔‘
دوسری جانب چند صارفین اس ٹرینڈ کے خلاف بھی بات کر رہے ہیں۔
ریحان خان نامی صارف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جب فیصلہ کسی ایک گروپ کا من پسند ہو تو وہ عدالتوں کی تعریف کرتے نہںی تھکتے اور جب فیصلہ ذرا بھی ان کے خلاف آئے تو ان کو نظام سے چھٹکارا چاہیے۔