عدالت کا سابق وزیر اعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم، چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جا سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرونِ ملک جانے کی مشروط حکومتی اجازت کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے انھیں چار ہفتوں کے لیے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔
عدالت نے حکومتی وکلا کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم بھی دیا۔
یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنیچر کو سنایا اور کیس کی سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیے
صحافی عباد الحق کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے بیرونِ ملک علاج کرانے کی اجازت دیتے ہوئے وفاقی حکومت کے میمورنڈم کو انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کی حد تک معطل کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نواز شریف کے صحت یاب ہونے کے بعد ملک واپسی کے لیے سابق وزیر اعظم اور ان کے بھائی شہباز شریف کے الگ الگ بیان حلفی رات نو بجے کے قریب لاہور ہائی کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرائے گئے۔
عدالتی حکم پر رجسٹرار لاہور کے سامنے بیان حلفی پر دستخط کیے گئے اور اس مقصد کے لیے نواز شریف نے اپنی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں رجسٹرار ہائی کورٹ کے سامنے دستخط کیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
دو رکنی بنچ نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک مشروط اجازت دینے کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی۔
لاہور ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کے لیے تحریری حکم جاری کیا۔
دو رکنی بنچ نے فیصلے میں پانچ قانونی نکات ترتیب دیے جن پر آئندہ سماعت پر بحث ہو گی۔
بینچ نے یہ نکات اٹھائے کہ کیا کسی سزا یافتہ مجرم کا نام ای سی ایل میں شامل یا نکالا جاسکتا ہے؟
کیا وفاقی حکومت ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے قانون کے تحت کوئی شرائط عائد کر سکتی ہے؟
کیا وفاقی حکومت کسی شدید علیل سزا یافتہ شخص کے بارے میں انسانی بنیادوں پر شرائط والے احکامات جاری کر سکتی ہے؟
وفاقی حکومت نے جو شرائط عائد کی ہیں کیا اس سے ضمانت اور سزا معطلی کے احکامات کو تقویت ملے گی؟
اور حکومتی میمورنڈم میں عائد شرائط الگ الگ کیا جاسکتا ہے؟
سماعت میں کیا ہوا؟
لاہور ہائی کورٹ نے لگ بھگ چھ گھنٹے تک سماعت کی جس کے دوران چار مرتبہ وقفہ ہوا۔
دو رکنی بنچ نے قرار دیا کہ تمام دن کی سنجیدہ کوششوں کے باوجود فریقین میں اتفاق رائے نہ ہو سکا۔
لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے بیان حلفی کو عدالتی فیصلے کا حصہ بناتے اس میں شامل کیا۔
نواز شریف کا نام مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت جنوری سنہ 2020 کے تیسرے ہفتے میں ہو گی۔
بیان حلفی
نواز شریف نے عدالتی حکم پر رجسٹرار ہائی کورٹ کی موجودگی میں بیان حلفی پر دستخط کیے اور تحریری یقین دہانی کرائی کہ وہ چار ہفتوں یا پھر اپنے ڈاکٹر کے مکمل صحت مند قرار دینے پر ملک واپس آئیں گے اور اپنے بھائی شہباز شریف کی یقین دہانی پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہPML-N
شہباز شریف نے بھی اپنے بیان حلفی میں یقین دہانی کرائی کہ نواز شریف چار ہفتوں میں واپس آئیں گے یا جب ان کے ڈاکٹر انھیں صحت مند قرار دیں۔
شہباز شریف نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ نواز شریف کی سفارت خانے سے تصدیق شدہ میڈیکل رپورٹ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ بھجواتے رہیں گے اور اگر وفاقی حکومت کو مصدقہ اطلاع ملے کہ نواز شریف بیمار نہیں ہیں تو پاکستانی ہائی کمیشن کا نمائندہ ان کے معالج سے مل کر صحت کی تصدیق کر سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہPML-N
’عدلیہ کے شکر گزار ہیں‘
عدالتی فیصلے کے بعد شہباز شریف نے میڈیا کو بتایا کہ نوازشریف کو علاج کی اجازت مل گئی ہے، عدالت نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ ’قوم کی بیٹیوں، ماؤں کارکنوں اور میری والدہ کی دعائیں قبول ہو چکی ہیں، نوازشریف کے علاج میں جو رکاوٹیں حائل تھیں وہ اب دور ہو چکی ہیں۔ نوازشریف علاج کروا کر واپس آئیں گے۔
حکومتی ردعمل
وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کا جائزہ لے کر حکومت فیصلے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
بابر اعوان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ عدالتی فیصلہ ہے، اسے تسلیم کرتے ہیں۔ سینیٹر فیصل جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ فیصلہ چیلنج کرنے سے متعلق کابینہ میں مشاورت کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ عارضی بنیادوں پر ہے، عدالت نے جو پانچ سوالات کیے ہیں ان کا تفصیلی جائزہ ابھی لیا جانا باقی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور پھر کابینہ ہی فیصلہ کرے گی کہ اسے چیلنچ کرنا ہے یا نہیں۔
اس سے قبل عدالت نے اپنے تیار کردہ مسودے میں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے چار ہفتے کا وقت دینے کی تجویز دیتے ہوئے وفاقی حکومت اور شہباز شریف کے وکلا کو اپنا مسودہ دیا تھا۔
مسودے کے مطابق حکومتی نمائندہ سفارت خانے کے ذریعے نواز شریف سے رابطہ کر سکے گا۔ عدالت نے وفاقی حکومت اور شہباز شریک کے وکلا کو مجوزہ مسودہ فراہم کر دیا ہے۔
اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شہباز شریف سے تحریری یقین دہانی کا مسودہ طلب کیا تھا۔ جواب میں شہباز شریف کی جانب سے عدالت میں تحریری یقین دہانی کا مسودہ پیش کیا گیا کہ نواز شریف علاج کے بعد وطن واپس آئیں گے، تاہم حکومتی وکیل نے اس پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔
اس کے بعد عدالت نے فیصلہ کیا کہ وہ اس حوالے سے مسودہ خود تیار کر کے فریقین کے وکلا کو دے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ مل سکے گی جس پر ان کے وکیل اشتر اوصاف نے جواب دیا کہ برطانیہ میں ہفتہ وار رپورٹ دینے کا کوئی رواج نہیں ہے۔
سنیچر کو ہونے والی عدالتی کارروائی کا تفصیلی احوال
لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کی بیرون ملک جانے کی درخواست پر تقریباً چھ گھنٹے سماعت کی اور چار مرتبہ وکلا کو مشاورت کے لیے وقفہ کیا۔
شہباز شریف سماعت کے دوران مسلسل کمرہ عدالت میں موجود رہے۔ ان کے وکلا نے نشاندہی کی کہ اینڈیمنٹی بانڈز کی شرط غیر آئینی اور قانون کے منافی ہے۔ وفاقی حکومت کے وکیل اشتیاق اے خان نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور جواز پیش کیا کہ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو جرمانہ کون ادا کرے گا۔
لاہور ہائی کورٹ نے تفصیلی سماعت کے بعد چار نکات پر مشتمل مسودہ تیار کیا۔ جسے مسلم لیگ ن نے تو تسلیم کرلیا لیکن وفاقی حکومت کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ اس میں گارنٹی کی کوئی شق شامل نہیں کی گئی۔ عدالت نے اسی ڈرافٹ کے تحت نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔
دوران سماعت شہباز شریف کے وکلا کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ان کی صحت ایک ہفتے میں بھی ٹھیک ہو سکتی ہے اور زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شہباز شریف روسٹرم پر آئے تو عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف پاکستان واپس آئیں گے؟ جس پرشہباز شریف نے جواب دیا ’انشاءاللہ‘۔
عدالت نے شہباز شریف سے پوچھا کہ آپ کا انھیں ملک واپس لانے میں کیا کردار ہو گا؟ جس پر شہباز شریف نے بتایا کہ میں ان کے ساتھ بیرون ملک جا رہا ہوں اور وہ علاج کے بعد واپس آئیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ نواز شریف کی واپسی سے متعلق تحریری یقین دہانی دینے کو تیار ہیں۔
اس پر عدالت نے یقین دہانی کا مسودہ طلب کر لیا اور قرار دیا کہ عدالت مسودے کی تحریر دیکھ کر اس حوالے سے اپنا فیصلہ صادر کرے گی۔
شہباز شریف کی جانب سے عدالت میں تحریری یقین دہانی جمع کروا دی گئی جس میں لکھا گیا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے نواز شریف کی صحت یابی کا سرٹیفیکیٹ ملتے ہی وہ وطن واپس آ جائیں گے۔
نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے خلاف سنہ 2017 میں تین ریفرنس فائل کیے گئے اور اس وقت نواز شریف بیرون ملک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت نے انھیں ریفرنس میں پیش ہونے کا حکم دیا تو نواز شریف عدالتی حکم پر پیش ہوئے اور کبھی عدالت سے دانستہ طور پر دور نہیں رہے۔
امجد پرویز نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی اہلیہ کو بیماری کی حالت میں چھوڑ کر پاکستان آئے اور کیسز کا سامنا کیا۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی کو ایون فیلڈ کیس میں سزا ہوئی، دونوں واپس پاکستان آئے اور سزا بھگتی۔
اس سے قبل عدالت میں وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے یہ پیش کش کی کہ اگر انڈیمنٹی بانڈز وفاقی حکومت کے بجائے عدالت میں جمع کروا دیے جائیں تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
اس موقع پر عدالت نے استفسار کہ کیا نواز شریف ضمانت کے طور پر کچھ دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔
اس کے بعد درخواست گزار کے وکیل کو مشورہ کے لیے 15 منٹ کا وقت دیتے ہوئے سماعت مختصر وقفے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما بشمول شہباز شریف، پرویز رشید، امیر مقام، جاوید ہاشمی اور دیگر کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہAPP
حکومتی استدعا رد
اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے حکومتی استدعا کو رد کرتے ہوئے شہباز شریف کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو قابل سماعت قرار دیا تھا۔
یہ درخواست پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
شہباز شریف نے جمعرات کو لاہور میں پارٹی اجلاس کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں حکومت کی مشروط اجازت کو عدالت میں چیلینج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ان کی جانب سے دائرہ کردہ درخواست میں وفاقی حکومت وزارت داخلہ اور چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا تھا۔ اس درخواست میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے زرِ تلافی کا بانڈ جمع کروانے کے احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔













