ایف ڈبلیو او تنازع: ٹرک ڈرائیوروں کی ہلاکت کی ایف آئی آر درج، وزیر اعلی سندھ کا غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ٹرک ڈرائیوروں اور پاکستانی فوج کے زیر انتظام تعمیراتی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے درمیان تنازعے کے دوران تین افراد کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اس واقعے کے تنیجے میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ چند کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایک سینئر پولیس اہلکارنے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔
دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ سے منسلک محمد شیر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت سے مذاکرات کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ واقعہ کے بعد مشتعل مظاہرین نے کراچی سے حیدر آباد کو ملانے والی موٹروے ایم نائن کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے ایڈیشنل آئی جی کو اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ہدایات دی ہیں۔
سندھ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبہ کے انسپکٹر جنرل کلیم امام نے واقعہ کی تفتیش کا حکم دے دیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جو بھی واقعہ میں ملوث نکلا اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگئی تاہم ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
تنازع کا پس منظر
میڈیا سے بات کرتے ہوئے کراچی پولیس ضلع مشرقی کے ڈی آئی جی عامر فاروقی نے بتایا کہ ایف ڈبلیو او اور ٹرک ڈرائیوروں کے درمیان ٹرکوں پر سامان لادنے یعنی لوڈنگ کے حوالے سے تنازعہ چل رہا تھا۔
ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ ایف ڈبلیو او کے اہلکار اعلیٰ عدالت کی جانب سے ٹرکوں کے لوڈنگ کے وزن کے حوالے سے دیے گئے فیصلے کو نافذ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
ڈی آئی جی عامر فاروقی کے مطابق ٹرک ڈرائیوروں نے طیش میں آ کر ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایف ڈبلیو او کے حکام نے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی مگر ایسا ممکن نہ ہوا تو انھوں نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔

،تصویر کا ذریعہHadayatullah
تاہم فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے جن کی لاشوں کو ہسپتال پہنچا دیا گیا جبکہ چند افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت سعید ایوب، نیاز علی اور رسول خان کی حیثیت سے ہوئی ہے۔
ٹرک ڈرائیوروں کی جانب سے کیا موقف ہے؟
واقعہ میں ہلاک ہونے والے ٹرک ڈرائیور سعید ایوب کے بھائی علی زمان خود بھی ٹرک ڈرائیور ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزن کے تنازعے پر گذشتہ چار روز سے ایف ڈبلیو او اور موٹروے پولیس نے سامان سے لدے ٹرک اور بڑے ٹرالرز کو روک رکھا تھا جن پر پورے ملک کا مال لوڈ کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرکوں اور بڑے ٹرالرز کی طویل لائن لگنے کے سبب صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈرائیوروں نے ایف ڈبلیو او اور موٹروے پولیس سے مطالبہ کیا کہ جب ٹرکوں پر اتنا سامان لوڈ ہے تو ان کو جانے کی اجازت دی جائے مگر ایسا نہیں ہوا۔
علی زمان کے مطابق اجازت نہ ملنے پر ٹرک اور ٹرالر ڈرائیور احتجاجاً ایک ساتھ اپنی گاڑیاں لے کر موٹر وے کی جانب بڑھنا شروع ہوئے جس پر ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں نے براہ راست فائرنگ شروع کردی۔

،تصویر کا ذریعہFWO
انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف براہ راست فائرنگ کی بلکہ ایک ڈرائیور جو فائرنگ سے بچنے کے لیے ٹرک کے نیچے چھپ گیا تھا، اُس کو تاک کر نشانہ بنایا جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہو گیا۔
علی زمان کے مطابق ڈرائیوروں کو یہ توقع نہیں تھی کہ ایف ڈبلیو او لوگوں پر براہ راست فائرنگ کرے گی۔
’ہمارا خیال تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ گرفتار کر لیا جائے گا۔ اگر گرفتار بھی کر لیا جاتا تو ہم مالکان اور جن لوگوں کا مال تھا، ان کو کہہ سکتے تھے کہ پولیس ہمیں جانے نہیں دے رہی ہے۔ اس بات کا تو ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ لوگ براہ راست فائرنگ کردیں گے۔'
سوشل میڈیا پر رد عمل اور ٹرینڈ
واقعے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر یہ معاملہ زیر بحث بن گیا اور پاکستان کے ٹاپ ٹرینڈز میں سے فریقین کی جانب سے شروع کیے گئے ٹرینڈ سرفہرست آ گئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
شمالی وزیرستان سے قومی اسمبلی میں منتخب ہونے والے رکن محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں تینوں افراد کا تعلق ان کے حلقے سے ہے۔ انھوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کو سزا دی جائے۔










