آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان یونیورسٹی: خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بنا کر طالبات کو بلیک میل کرنے کے الزامات سے ایک لڑکی کا مستقبل داؤ پر لگ گیا
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
’جب پہلے روز اس حوالے سے خبریں سوشل میڈیا اور اس کے بعد ٹی وی چینلز پر آئیں تو مجھے لگا جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ میں بس دعائیں کرتی رہی کہ کہیں میرے والد یہ خبریں نہ سن لیں کیونکہ وہ اس کے بعد مجھے یونیورسٹی نہیں جانے دیں گے۔‘
یہ الفاظ مورینہ (فرضی نام) کے ہیں جو بلوچستان یونیورسٹی میں ایم اے کی طالبہ ہیں۔ ان کی ڈگری میں محض دو ماہ باقی رہ گئے ہیں اور اکثر طلبہ کی طرح ان کی پوری توجہ اپنے فائنل امتحانات پر مرکوز ہے۔
پاکستانی معاشرے میں، خاص طور پر متوسط یا زیرِ متوسط طبقے میں لڑکیوں کی تعلیم کو اکثر خاندانی ذمہ داریوں کے بعد ہی ترجیح ملتی ہے۔ اسی لیے تعلیم مکمل کرنے کے لیے طالبات کا اپنا شوق اور لگن ہی ان سماجی مسائل کے سامنے کھڑا ہو پاتا ہے۔
حال ہی میں مورینہ کی تعلیمی لگن کو بھی ایک کڑے امتحان کا سامنا ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان یونیورسٹی میں مبینہ طور پر خفیہ کیمروں کے ذریعے طالبات کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کی خبریں سامنے آنے کے بعد انھیں فکر لگ گئی کہ یہ اطلاعات سن کر ان کے والد انھیں یونیورسٹی جانے سے روک نہ دیں۔
مورینہ کے ساتھ خود تو کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا مگر وہ کہتی ہیں کہ وہ ایک غریب فیملی سے ہیں اور ان کے والد ایک معمولی نوکری کرتے ہیں۔ والد کے مالی حالات اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے کہ وہ سرکاری یونیورسٹی میں مورینہ کے اخراجات کو پورے کرسکیں لیکن اس کے باوجود وہ انھیں اعلیٰ تعلیم دلوا رہے ہیں۔
مگر جہاں خاندان کی عزت کو خطرہ لگ جائے تو تعلیم کو تو بھول ہی جائیں اور ایسا ہی کچھ مورینہ کے ساتھ بھی ہوا۔
پڑھنے کی لگن اور کاوشیں
مورینہ ایک طرف تو یہ دعا کرتی رہیں کہ ان کے والد کو ان خبروں کا پتہ نہ چلے۔ مگر وہ اپنی برسوں کی محنت کو قسمت کے داؤ پر چھوڑنے والی نہیں تھیں۔ اپنے والد کو ان معاملات سے بے خبر رکھنے کے لیے انھوں نے ایک ترکیب اختیار کی۔
مورینہ کا پلان بہت سادہ تھا۔ انھوں نے سوچا کہ جب ان کے والد کام سے فارغ ہو کر آئیں گے تو رات کا خبرنامہ ضرور سنیں گے۔ والد کو حالات سے بےخبر رکھنے کے لیے وہ اپنے گھر کی چھت پر چڑھیں اور کیبل کی تار ہی کاٹ دی۔
مگر مورینہ جیسی اور بھی بہت سی لڑکیاں ہیں جنھیں ان خبروں کے بعد یونیورسٹی کے ہاسٹلز سے واپس بلا لیا گیا۔
یونیورسٹی کے طالبات کے لیے مشکلات کا آغاز کب ہوا ؟
اگرچہ بلوچستان یونیورسٹی میں ہراسانی کے حوالے سے باتیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں لیکن یونیورسٹی کی طالبات کے لیے عملی طور پر مشکلات کا آغاز اس وقت ہوا جب ایف آئی اے نے اس سلسلے میں باقاعدہ تحقیقات شروع کر دیں۔
یونیورسٹی کی ایک سینیئر خاتون اہلکار نے بتایا کہ لڑکیوں کے واش رومز اور دیگر خفیہ مقامات پر کیمروں کی افواہوں اور اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی آمد کے بعد ہوسٹلز سے متعدد طالبات چلی گئیں۔
ادھر ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یونیورسٹی میں تحقیقات کا آغاز بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر کیا گیا اور اس کیس سے منسلک ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ اب تک ایف آئی اے نے یونیورسٹی کے متعدد اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی ہے۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے اس سلسلے میںتحقیقات کا حکم کیوں دیا؟
کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی میں بعض ملازمین کو آﺅٹ آف ٹرن ترقیاں دی گئی تھیں۔
یونیورسٹی کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان ملازمین میں یونیورسٹی کا ایک ایسا اہلکار بھی شامل تھا جو کہ پہلے پانچویں گریڈ سے کم کا معمولی سکیورٹی گارڈ تھا لیکن بعد میں انھیں قواعد کے برعکس گریڈ 15 میں ترقی دے دی گئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ اس ملازم کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ اسے یونیورسٹی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں تک بھی رسائی دی گئی تھی۔
یونیورسٹی کے ایک اور ملازم نے اس اہلکار کی ترقی کو کورٹ میں چیلنج کیا جس کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یونیورسٹی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا غلط استعمال ہو رہا ہے، جس پر عدالت نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
اہلکار نے بتایا کہ طالبات کو ان کیمروں کے ذریعے بلیک میل اور ہراساں کرنے کے حوالے سے بدنامی کے خوف سے کوئی بھی سامنے نہیں آ رہا تھا جس کے باعث ایک سرکاری اہلکار کی مدعیت میں اس حوالے سے مقدمہ درج کیا گیا۔
اہلکار کے مطابق پہلی کارروائی کے بعد ایف آئی اے نے بعض مواد عدالت میں اس درخواست کے ساتھ پیش کیا تھا کہ تحقیقات کو حتمی انجام تک پہنچانے تک ان کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ اس مواد کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ نے یہ کہا کہ ایف آئی اے نے جو مواد پیش کیا ہے اس میں ایسے کافی شواہد ہیں جن کی بنیاد پر ایف آئی اے تحقیقات کرسکتی ہے۔
احتجاج کا آغاز
بلوچستان یونیورسٹی ہمیشہ سے طلبا کی احتجاجی تحریکوں کا ایک بڑا مرکز رہا ہے لیکن گذشتہ ایک دہائی سے یونیورسٹی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے بعد وہاں احتجاج کا سلسلہ بند ہو گیا تھا۔
تاہم ہراسانی کے واقعات کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد یونیورسٹی میں احتجاج روز کا ایک معمول بن گیا ہے جس میں ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ وائس چانسلر کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی کے اندر احتجاج کے ساتھ ساتھ دیگر تعلیمی اداروں اور کوئٹہ پریس کلب کے باہر بھی طلبا تنظیموں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے حالیہ سیشن میں بھی اس معاملے کی بازگشت سنائی دی تھی جس پر اسمبلی کے 11 اراکین پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی ہے۔
یونیورسٹی حکام کا موقف
تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے خفیہ کیمروں کے ذریعے بلیک میل اور ہراساں کرنے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے گذشتہ چند سال کے دوران تعلیم کے میدان میں اہم مقام حاصل کیا ہے اور اس کا شمار ماضی کے مقابلے میں ملک کی معروف جامعات میں ہونے لگا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس یونیورسٹی پر لوگوں کا بہت بڑا اعتماد ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی میں بی ایس پروگرام کی چار ہزار نشستیں ہیں لیکن ان کے لیے 12 ہزار درخواستیں آئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان الزامات کے پیچھے بہت سارے عوامل کار فرما ہیں جن کا مقصد یونیورسٹی کو بدنام کرنا ہے۔
انھوں نے طالبات کو بلیک میل یا ہراساں کرنے سے متعلق کسی اہلکار کی گرفتاری کے دعوؤں اور یونیورسٹی سے خفیہ ویڈیو بنانے والے آلات کی برآمدگی کے دعووں کو بھی مسترد کیا۔
انھوں نے کہا ’یونیورسٹی کی طالبات ہماری بچیاں ہیں۔ اگر کسی نے انفرادی طور پر ان کے ساتھ بدسلوکی کی ہے تو ان کی نشاندہی کی جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو ہم نشانِ عبرت بنائیں گے لیکن یونیورسٹی کو بدنام کرنے سے گریز کیا جائے۔
تاہم طالبات کو ہراساں اور بلیک میلنگ سے متعلق الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے تک یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپنے عہدے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے تک یونیورسٹی کے معاملات کی نگرانی کے اختیارات پروفیسر ڈاکٹر محمد انور پنیزئی کو سپرد کیے گئے ہیں۔
الزامات کی حقیقت
ادھر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یونیورسٹی کی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حوالے سے جو الزامات لگ رہے ہیں ان میں کافی حد تک حقیقت ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ یونیورسٹی میں بعض ایسی جگہوں پر بھی کیمرے لگے تھے جہاں ان کو لگانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں بعض مخصوص مقامات پر لگے کیمروں سے بننے والی ویڈیوز سے طالبات کو بلیک میل کرنے کا الزام سامنے آیا ہے وہیں یونیورسٹی کے احاطے میں طلبا اور طالبات کی اکھٹے بھیٹے ویڈیوز بنا کر بھی ان کو بلیک میل کرنے کے الزامات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران یونیورسٹی کے بعض عہدوں پر جو تبدیلیاں ہوئی تھیں وہ ان الزامات کے بعد کی گئیں۔
حکومتی اور عوامی ردِعمل
گورنر بلوچستان اور یونیورسٹی کے چانسلر جسٹس (ریٹائرڈ) امان اللہ خان یاسین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں ہونے والے واقعات کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہے تاہم انھوں نے تمام طلبا اور اساتذہ کی تنظیموں پر زور دیا کہ مسئلہ وفاقی اداروں اور عدالت کے زیر غور ہے اس لیے تحقیقات کی تکمیل اور فیصلہ آنے تک ہرقسم کی بیان بازی سے گریز کیا جائے۔
ادھر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے یونیورسٹی میں طلبا و طالبات کو ہراساں کرنے سے متعلق خبروں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ’ایسے کام کرنے والے لوگ انسان کہلانے کے لائق نہیں۔‘
دوسری طرف بعض حلقوں کی جانب سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
حقوق انسانی کی کارکن جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اپنی غفلت پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے ’کمیشن بنا کر اس ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات ہونی چاہیے۔‘
بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات کے حوالے سے اس خبر پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
ٹوئٹر پر زبیر نامی اکاؤنٹ کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں کوئی بھی خاتون بلوچستان یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے نہیں آئے گی۔
وائس آف بلوچستان نامی تنظیم سے منسلک حمنہ ملک کا کہنا تھا کہ صوبے میں پہلے ہی خواتین کی شرح خواندگی کی کمی ہے۔ متاثرین کے لیے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ’خواتین کی تعلیم کے لیے ماحول کو محفوظ بنایا جائے۔‘
سوشل میڈیا صارف یاسمین کا کہنا تھا ’طالبات یونیورسٹی میں داخلہ پڑھنے کے لیے لیتی ہیں، اس لیے نہیں کہ انھیں ہراساں کیا جائے۔‘
مورینہ کی ترکیب ناکام اور موجودہ مشکلات
سرکاری تحقیقات، عدالتی کارروائی اور عوامی شور شرابا اپنی جگہ لیکن مورینہ کو پریشانی یہ تھی کہ ان کی ترکیب کتنی کامیاب ہو گی۔
ان کی کاوش صرف ایک روز ہی کارگر ثابت ہوئی۔ پہلے ان کے گھر والوں نے یہی سمجھا کہ کیبل خراب ہے لیکن جب محلے میں پتا لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ کیبل خراب نہیں۔ بالاآخر ان کے والد کو یہ معلوم ہو گیا کہ کیبل کو چھت سے کاٹا گیا ہے۔
کیبل کی بحالی کے بعد جب ان کے والد نے ٹی وی لگایا تو وہ خود بھی اس وقت کمرے میں موجود تھیں۔
وہ دعائیں کرتی رہیں کہ یونیورسٹی سے متعلق کوئی خبر ٹی وی پر نہ آئے لیکن خبر تو بلیٹن کی ہیڈ لائنز میں شامل تھی۔
خبر سنتے ہی ان کے والد نے ان کی والدہ کو غصے سے کہا: ’میں پہلے ہی کہتا تھا کہ مورینہ کو یونیورسٹی نہیں جانے دو۔‘
اور یوں ڈگری مکمل کرنے سے صرف دو ماہ قبل مورینہ کے یونیورسٹی جانے پر پابندی لگا دی گئی۔
اس وقت یہ کہنا تو مشکل ہے کہ کیا مورینہ اس چیلنج کا مقابلہ کر سکیں گی یا نہیں، مگر وہ بتاتی ہیں کہ اپنی والدہ کے ساتھ مل کر وہ آج کل یہی کوشش کرتی ہیں کہ جب ان کے والد گھر پر نہ ہوں تو وہ کس طرح یہ دو ماہ یونیورسٹی جا کر مطلوبہ حاضری کو یقینی بنائیں۔