خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کی صحت کے شعبے میں اصلاحات پر ڈاکٹروں اور حکومت میں تنازع جاری

ڈاکٹرز

،تصویر کا ذریعہMUSHTAQ YOUSAFZAI

،تصویر کا کیپشنگرینڈ ہیلتھ الائنس یا جی ایچ اے کا موقف ہے کہ حکومت کی طرف سے ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ مذکورہ قوانین کی اسمبلی سے منظوری سے قبل انھیں اعتماد میں لیا جائے گا لیکن ان سے اس ضمن میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں میں حکومت کی طرف سے متعارف کروائی گئی انتظامی اصلاحات اور پولیس کی جانب سے طبی عملے پر ہونے والے تشدد اور ڈاکٹروں کی گرفتاری کے خلاف پانچ دنوں سے جاری ہڑتال اور احتجاج روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹروں کی جانب سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے نجی کلینکس بھی بند کر دیے گئے ہیں جس سے صوبے بھر میں مریضوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تنازع کیسے پیدا ہوا؟

پشاور کے سب سے بڑے طبی اور تدریسی مراکز میں سے ایک لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں جمعے کو صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس کی مشترکہ تنظیم گرینڈ ہیلتھ الائنس کی طرف سے ہسپتالوں میں متعارف کروائے گئے انتظامی قوانین اور ریجنل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے قیام کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس یا جی ایچ اے کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ حکومت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ مذکورہ قوانین کی اسمبلی سے منظوری سے قبل انہیں اعتماد میں لیا جائے گا لیکن ان سے اس ضمن میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی لہٰذا وہ قوانین کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم اس دوران مقامی انتظامیہ کی طرف سے پولیس کی بھاری نفری بلائی گئی اور طبی عملے پر لاٹھی چارج کیا گیا جس سے کئی ڈاکٹرز اور سٹاف کے دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔

حکومت نے احتجاج کرنے والے جی ایچ اے کے 18 افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے انھیں گرفتار کرلیا۔ گرفتار ہونے والوں میں 13 ڈاکٹرز اور تنظیم کے دیگر عہدےدار شامل ہیں جنہیں اب پشاور سے مردان جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

اس احتجاج سے ایک دن قبل ڈپٹی کمشنر پشاور کی طرف سے تمام ہسپتالوں میں دفعہ 144 نافذ کر کے وہاں طبی مراکز کی حدود میں ہر قسم کے احتجاج کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔

ڈاکٹروں کا موقف کیا ہے؟

جی ایچ اے کے ایک رہنما ڈاکٹر موسیٰ کلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ چند دن پہلے حکومت کی طرف سے اچانک صوبائی اسمبلی سے ایک بل پاس کروایا گیا جس کے تحت صوبے بھر میں علاقائی اور ضلعی سطح پر ’ریجنل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیوں‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ان اتھارٹیوں کے قیام پر ڈاکٹروں اور طبی عملے کی طرف سے پہلے سے کچھ خدشات کا اظہار کیا گیا تھا تاہم حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ان سے مشاورت کی جائے گی، لیکن اس کے برعکس قوانین کی منظوری سے قبل ان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس سے حالات خراب ہوئے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ جب ان قوانین کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا تو نہ صرف طبی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ احتجاج کرنے والے 18 ڈاکٹروں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کرلیا گیا۔

ڈاکٹر موسیٰ کے مطابق ان اتھارٹیوں کے قیام سے ہسپتالوں میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ بڑھے گی جس کے تحت کوئی بھی شخص یا ادارہ ہسپتال میں سرمایہ کاری کرسکے گا۔ ’ان قوانین کا سب سے بڑا نقصان عوام کو ہوگا کیونکہ پہلے سرکاری ہسپتالوں میں علاج مفت ہوتا تھا لیکن اب انھیں پیسے دینے پڑیں گے۔‘

ہسپتال

،تصویر کا ذریعہMUSHTAQ YOUSAFZAI

،تصویر کا کیپشناس ایکٹ کے تحت حکومت کی طرف سے اضلاع اور علاقائی سطح پر ہیلتھ اتھارٹیز کے اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے گا

ریجنل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ایکٹ کیا ہے؟

تحریک انصاف کی سابق اور موجود صوبائی حکومتوں نے صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحاتی عمل کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت نے 2015 میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹوٹ یا ایم ٹی آئی کے نام سے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت سرکاری ہپستالوں میں بڑے بڑے انتظامی فیصلے کیے گئے۔

اب موجودہ صوبائی حکومت نے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسے اضلاع اور دیہاتی علاقوں تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں ریجنل اور ڈسٹرکٹ اتھارٹیز ایکٹ 2019 صوبائی اسمبلی سے منظور کروایا گیا۔

اس ایکٹ کے مطابق ان اتھارٹیوں کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے فنڈز فراہم کیے جائیں گے جبکہ یہ ادارے ایک پالیسی بورڈ کے ماتحت ہوں گے جس کی سربراہی صوبائی وزیر صحت کریں گے۔

اس قانون کے تحت ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے دیگر عملے کی تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار ان اتھارٹیوں کے بورڈ کو دیا جائے گا اور اس طرح انھیں اس سلسلے میں پورا انتظامی اختیار حاصل ہوگا۔

اس کے علاوہ اداروں کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ ضرورت کے مطابق ڈاکٹروں کا تبادلہ اسی ضلع میں کیا جائے جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔

پشاور، خیبر پختونخوا، ڈینگی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپشاور کے ایک ہسپتال میں ڈینگی کی حالیہ وبا سے متاثر ہونے والے افراد زیرِ علاج ہیں

مریضوں کی مشکلات

ڈاکٹروں کی تنظیموں کی طرف سے اصلاحاتی عمل کے خلاف گذشتہ تقریباً چار سالوں سے وقتاً فوقتاً احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران سب سے زیادہ مشکلات مریضوں کو پیش آتی رہی ہیں۔ گزذشتہ پانچ دنوں سے صوبے بھر میں ہسپتالوں کا رخ کرنے والے مریض در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ احتجاج مزید جاری رہتا اور نجی کلینکس بھی مزید چند دنوں تک بند رہتے ہیں تو اس سے ایک بحران کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں ڈینگی کا مرض بھی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے جس سے اس بیماری کے شکار افراد کے لیے خطرات میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

حکومت کیا کہتی ہے؟

صوبائی وزیر صحت ہشام انعام اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت ہر صورت میں ہسپتالوں میں اصلاحاتی عمل کو جاری رکھے گی اور اس ضمن میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ 2015 میں نافذ کیے جانے والے ایم ٹی آئی قانون کے نفاذ سے طبی مراکز کی حالت میں کافی حد تک بہتری آئی ہے اور ہسپتالوں کو خود مختاری ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریجنل اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز ایکٹ کے قیام کا فائدہ چار سال بعد ہوگا اور اس قانون کے نفاذ کا واحد مقصد طبی مراکز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔