حافظ سعید کو منجمد اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کی اجازت، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے یہ استثنیٰ کس بنیاد پر دیا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی دفترخارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو بنیادی ضروریات زندگی کے لیے ان کے ذاتی بینک اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کی اجازت دے دی ہے۔
دفترخارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حافظ سعید اور دیگر افراد کو دی گئی سہولت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کی پابندی عائد کرنے والی کمیٹی کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حافظ سعید اور دیگر افراد نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو استثنیٰ کی درخواست دی تھی جسے کمیٹی نے معمول کی کارروائی میں منظور کر لیا۔
ترجمان نے اپنے بیان میں مایوسی کا اظہار بھی کیا کہ انڈین میڈیا کا ایک خاص طبقہ اس معاملے پر غیر ضروری طور پر سیاست کر رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس کا مقصد اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو منفی رنگ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر 2008 میں انڈیا کے شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد جماعت الدعوۃ پر پابندیاں لگائی تھیں اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جبکہ پاکستان نے جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو رواں برس مارچ میں ہی کالعدم قرار دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماضی میں اس جماعت اور اس کے سربراہ حافظ سعید کے حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ ’ان کے خلاف پاکستان کی عدالتوں میں کوئی مقدمات نہیں یا ان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود نہیں ہیں۔‘
اثاثوں کو منجمد کرنے سے استثنیٰ کون کون حاصل کر سکتا ہے؟
منجمد اثاثہ جات کے استعمال کی اجازت سکیورٹی کونسل کی 2006 ،2002 اور 2017 کی قراردادوں کے تحت فراہم کی جاتی ہے اور یہ سکیورٹی کونسل کی کمیٹی گائیڈ لائنز کے سیکشن 11 کے تحت ہوتی ہے۔
وہ ممبر ممالک جہاں منجمد اثاثوں، دیگر اثاثہ جات یا معاشی ذرائع تک مناسب رسائی کی اجازت ہو وہ استثنی حاصل کر سکتے ہیں۔
کس قسم کے منجمد اثاثہ جات کے استعمال کی درخواست کی جا سکتی ہے؟
منجمد اثاثہ جات کی دو بنیادی اقسام ہیں۔
- بنیادی اخراجات کے لیے
- غیر معمولی اخراجات لیے
بنیادی اخراجات سے استثنیٰ
اگر کسی کے منجمد اثاثوں میں بنیادی اخراجات کے لیے استثنیٰ لینا ہو تو کمیٹی میں جمع کروائے جانے والے نوٹیفکیشن کو سکیورٹی کونسل کی کمیٹی میں غور کے لیے جمع کروانا ہوتا ہے اور اس میں کچھ معلومات کا شامل ہونا ضروری ہے۔
- وصول کنندہ کا نام اور پتہ
- وصول کنندہ کا کالعدم تنظیموں کی فہرست میں مستقل حوالہ نمبر
- وصول کنندہ کی بینک اکاؤنٹ اور بینک کے پتے کی معلومات
- ادائیگی کا مقصد اور توجیہہ کے اخراجات بنیادی خرچے کے لیے استثنی کے اندر ہی آتے ہیں۔
- بنیادی اخراجات میں خوراک، کرایہ یا قرض، ادویات اور طبی علاج معالجہ، انشورنس اور بلوں کی ادائیگی کے شامل ہے۔
- مناسب پروفیشنل فیس اور قانونی سروسز سے متعلق ادائیگیوں کی رقم کی واپسی۔
- فیس یا روٹین کے سروس چارجز یا منجمد اثاثہ جات یا دیگر معاشی اثاثے یا معاشی ذرائع۔
- قسط کی رقم
- قسطوں کی تعداد
غیر معمولی اخراجات کی اجازت
- اس میں بھی وصول کنندہ کا نام، اس کا پابندیوں کی فہرست میں حوالہ، بینک کا نام اکاونٹ نمبر دیا جاتا ہے۔
- رقم کی حصولی کا مقصد اور وجوہات، جو بھی ادائیگیاں کی جا رہی ہوں ان کی قیمت، نمبر، وہ مخصوص فنڈ جنھیں منجمد کیا جا رہا ہوتا ہے۔ بینک سے ٹرانسفر یا ڈائریکٹ ادائیگی کی تفصیلات وغیرہ بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
اس کے لیے درخواست کیسے دی جاتی ہے؟
اس سلسلے میں ممبر ممالک سکیورٹی کونسل کی متعلقہ کمیٹی کے سربراہ کو اپنی درخواست بھجواتے ہیں جبکہ اسے کمیٹی کے سیکریٹری کو بھی کاپی کیا جاتا ہے۔
فیصلہ کتنے دن میں ہوتا ہے؟
یہ کمیٹی اپنے سیکرٹریٹ کے ہمراہ ممبر ملک کے بنیادی اخراجات کی درخواست کو فوری طور پر وصول کرتی ہے۔
کمیٹی تین دن کے اندر اندر ممبر ملک کو اپنے فیصلے سے مطلع کر دیتی ہے۔









