جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس: درخواست کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا

فائز عیسیٰ

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

،تصویر کا کیپشنجسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس اس بنیاد پر بنایا گیا کہ اُنھوں نے اپنی بیرون ملک جائیدادوں کا ذکر انکم ٹیکس کے گوشواروں میں نہیں کیا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے اس مرتبہ عدالت عظمیٰ کے کورٹ روم نمبر چار کا انتخاب کیا گیا تھا کیونکہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین ہیں اور ان ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی چل رہی تھی اس لیے اُنھوں نے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ایک 7 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا جو سنیارٹی کے اعتبار سے اس وقت چوتھے نمبر پر ہیں۔

کورٹ روم نمبر چار چیف جسٹس کے کورٹ روم نمبر ون کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے اور یہ کمرہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی بھر چکا تھا۔

اس کمرے میں ان وکلا کی تعداد خاصی زیادہ تھی اور بالخصوص ان وکلا کی جو 2007 میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت دیگر ججز کی بحالی کے لیے تحریک میں پیش پیش تھے۔ اس کے علاوہ وکلا کی پنڈی بریگیڈ جو ماضی میں مار کٹائی میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتے بھی نظر آئے وہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ان درخواستوں کی سماعت کے لیے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جب سات رکنی بینچ عدالت میں آیا اور سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے سربراہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کی تعریف کی اور اُنھیں خوش آمدید کہا جبکہ جواب میں منیر اے ملک نے بھی بینچ کے سربراہ کی تعریف کی اور جسٹس عمر عطا بندیال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نئے عدالتی سال کی تقریب میں ان کی کمی شدت سے محسوس کی گئی۔

کچھ دیر تو معاملہ ایسے ہی چلتا رہا اور پھر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل نے بینچ میں شامل دو ججز کی شمولیت پر اعتراض اُٹھایا اور اس کے ساتھ سپریم کورٹ کے کچھ فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔

منیر اے ملک نے پہلے تو ان ججز کے نام نہیں لیے جن پر ان کے موکل نے اعتراض اُٹھایا تھا اور کہا کہ درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تو قابل اور اہل ججز پر مشتمل فل کورٹ بنانے کی درخواست کی تھی۔

دیگر درخواست گزاروں نے بھی درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ ان دو ججز کو ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

ابھی تک بھی ان دو ججز کے نام تو نہیں لیے گئے لیکن ان دونوں ججز کو معلوم تھا کہ یہ بات ان کے بارے میں ہی کی جا رہی ہے۔ جسٹس سردار طارق مسعود تو مطمئن دکھائی دے رہے تھے جبکہ جسٹس اعجاز الا احسن کی باڈی لینگوِج سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ کچھ پریشان ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار سے کہا کہ جن ججز کا وہ ذکر کر رہے ہیں ان کے چیف جسٹس بننے کا معاملہ تین چار سال کے بعد آئے گا تو ابھی سے ہی اس معاملے میں ان ججز پر تعصب کا الزام درست نہیں ہے۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ان دو ججز نے درخواست گزاروں کا موقف سن لیا ہے اور یہ فیصلہ اُنھوں نے خود ہی کرنا ہے کہ وہ اس بینچ کا حصہ ہوں گے یا نہیں۔ تاہم عدالتی فیصلوں کی روشنی میں کسی کو بھی زبردستی بینچ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کی طرف سے یہ آبزرویشن بھی دی گئی کہ اگر عدالت عظمیٰ کے جن دو ججز پر اعتراض اُٹھایا جا رہا ہے تو یہ بھی یاد رکھیں کہ درخواست گزار (فائز عیسیٰ) خود بھی سپریم کورٹ کے جج ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

،تصویر کا کیپشنجسٹس اعجاز الاحسن نے جسٹس فائز عیسیٰ کی طرف سے اعتراض کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا اس کی کوئی توجیہ نہیں بنتی

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے آغاز میں ہی اعتراضات اٹھانے سے لوگوں کی نظر میں عدلیہ کا وقار مجروح ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز پر تعصب کا الزام عائد کرنا ملک میں افواہوں کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک جو پاکستان کے چیف لا افسر یعنی اٹارنی جنرل کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے ہیں، نے بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہ ’مائی لارڈز بہت اچھے جج ہیں مگر وہ اس بینچ کا حصہ نہیں بن سکتے‘۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے تئیں بہت کوشش کی کہ منیر اے ملک اپنی درخواست کے حق میں دلائل شروع کریں لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل اس بات پر بضد تھے کہ پہلے ان ججز کو بینچ سے اُٹھایا جائے۔

اس بحث کے دوران 11 بج گئے۔ چائے کا وقفہ ہوا اور اس وقت تک کسی بھی جج نے بینچ سے الگ ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ خود بینچ سے اُٹھ کر گئے۔

عمومی طور پر چائے کا یہ وقفہ آدھے گھنٹے کا ہوتا ہے اور ساڑھے 11 بجے عدالتی کارروائی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے لیکن سوچ بچار کے لیے اس بینچ نے مزید آدھا گھنٹہ لیا اور ٹھیک دن 12 بجے بینچ کے سربراہ نے آ کر بتایا کہ اُنھوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو چیف جسٹس کو بھجوا دیا جائے جو دوبارہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیں گے۔

مزید پڑھیے

جسٹس سردار طارق مسعود نے صفائی دی کہ وہ پہلے سے ہی ذہن بنا چکے تھے کہ وہ اس بینچ میں نہیں بیٹھیں گے جبکہ اس کے برعکس جسٹس اعجاز الاحسن باڈی لینگوِج سے کچھ پرشان لگ رہے تھے اور اُنھوں نے کہا کہ وہ کسی درخواست گزار کے دباؤ پر اس بینچ سے الگ نہیں ہو رہے۔ اُنھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے اپنے ہی ساتھی جج نے ان پر اعتراض اُٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اعتراض کی توجیہہ نہیں بنتی۔

درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے یہ درخواستیں مسترد کر دیں اور سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کوئی کارروائی کی تو اس کا فائدہ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن کو ہو گا۔

سردار طارق مسعود ریٹائرمنٹ سے پہلے چیف جسٹس بن سکتے ہیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کی بطور چیف جسٹس چھ ماہ کی مدت کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ کی طرف سے مقدمات کی سماعت کے لیے بنائے گئے بینچ میں جسٹس اعجاز الااحسن بھی تھے جس کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسز سے متعلق متعدد درخواستوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

اس کے بعد وکلا تنظیم پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا تھا کہ ایسے ججوں کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے جو سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بھی ہیں یا جنھیں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی سے فائدہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان بار کونسل کی درخواست میں فل کورٹ بنانے کی استدعا کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan

،تصویر کا کیپشنجسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ اگر ذاتی مفاد پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں رکاوٹ بننے لگے تو انھیں خود اس بینچ سے الگ ہونا چاہیے

صدارتی ریفرنس روکنے کا اعلان

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نئے عدالتی سال کے موقع پر اپنے خطاب میں ان ججز کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری کارروائی روکنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اس صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک اعلیٰ عدالتوں کے ان دو ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی نہیں ہو گی۔

اس صدارتی ریفرنس کے خلاف چھ سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہیں اور درخواست گزاروں میں پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ سینیئر وکیل عابد حسن منٹو بھی شامل ہیں۔

عابد حسن منٹو نے اپنی درخواست میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی ہے کہ پہلے ان زیرِ التوا ریفرنسز پر فیصلہ دیا جائے جو کہ عرصہ دراز سے سپریم جوڈیشل کونسل میں پڑے ہوئے ہیں اور پھر اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنسز پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جو کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، کے مطابق اب صرف نو ریفرنسز سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرِ التوا ہیں جبکہ مختلف ججز کے خلاف 100 کے قریب درخواستوں کو نمٹا دیا گیا ہے تاہم اُنھوں نے ان ججز کے نام نہیں بتائے جن کے خلاف درخواستیں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کی گئی تھیں۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے اس ضمن میں چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی جس میں سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرِ سماعت درخواستوں کی تفصیلات مانگی گئی تھیں تاہم اس کونسل کے سیکرٹری کی طرف سے ابھی تک معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔