پاکستان کا انڈیا کے وزیر اعظم مودی کے لیے فضائی حدود کھولنے سے انکار

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال اور انڈیا کے رویے کو سامنے رکھتے ہوئے انڈیا کے وزیر اعظم نریند مودی کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے مطابق انڈیا سے درخواست آئی تھی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے جرمنی کے دورے کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ درخواست میں 20 تاریخ کو جانے اور 28 تاریخ کو واپس آنے کا کہا گیا تھا۔

پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال اور انڈیا کے رویے کو سامنے رکھتے ہوئے انڈیا کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ انھوں نے انڈین ہائی کمشنر کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین صدر کو بھی انکار

تقریباً دو ہفتے قبل پاکستان نے انڈیا کے صدر کو بھی فضائی حدود استمعال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

نامہ نگار طاہر عمران کے مطابق اس وقت وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ انڈیا کے صدر کے طیارے کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان سے انڈیا کے صدر کے ہوائی سفر کے حوالے سے اجازت مانگی تھی۔

واضح رہے کہ انڈیا کے صدر رام ناتھ کووند کو 8 ستمبر کو دلی سے آئس لینڈ جانا تھا۔ اس سفر کے لیے ان کے طیارے کو پاکستان کی فضائی حدود کے اوپر سے گزرنا تھا۔

غلام سرور خان نے متنبہ کیا تھا کہ انڈیا جانے والی ہر پرواز پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی ہے اور ہم یہ فلائٹس بند کر سکتے ہیں۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’انڈیا اپنی ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا ہے۔ اس چیز کو سامنے رکھتے ہوئے ابھی ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے۔‘

’ان حالات میں جہاں وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے، (کشمیر میں) کرفیو نہیں اٹھا رہے، لوگوں کو بنیادی سہولیات نہیں دے رہے، ہم انڈین صدر کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

غلام سرور خان نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم انڈین ایئرلائنز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بند کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کے ایک اہلکار نے، جو ان معاملات سے باخبر ہیں، نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ حکومت سفارتی سطح پر حکمت عملی کو موقع دینا چاہتی ہے مگر اس میں ناکامی کی صورت میں یہ عین ممکن ہے کہ پاکستانی فضائی حدود انڈین ایئرلائنز کے لیے بند کر دی جائے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی سے قبل انڈین وزیراعظم کو خصوصی طور پر فضائی حدود استعمال کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھولیں تھیں مگر وزیر اعظم نریندر مودی نے اس پیشکش کو قبول نہ کرتے ہوئے اپنے سفر کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کی تھی۔

تاہم 12 اگست کو ایک پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ انڈیا کی ایئرلائنز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اعلیٰ ترین سطح پر غور و خوض کیا گیا ہے اور یہ 'زیرِ غور کئی آپشنز میں سے ایک ہے۔'

جولائی میں پاکستان نے ساڑھے چار ماہ کی بندش کے بعد اپنی فضائی حدود تمام کمرشل پروازوں کے لیے کھولی تھی۔ ان مہینوں میں پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رہی تاہم بعد میں اسے جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا۔