آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دفترِ خارجہ: انڈیا کے لیے فضائی حدود کی بندش کا فیصلہ نہیں ہوا، کرتار پور راہداری پر انڈیا کے ساتھ میٹنگ جمعے کو ہوگی
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انڈیا کی ایئرلائنز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اعلیٰ ترین سطح پر غور و خوض کیا گیا ہے اور یہ ’زیرِ غور کئی آپشنز میں سے ایک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہم اس آپشن کا استعمال اپنی مرضی کے وقت پر کر سکتے ہیں مگر اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان نے ساڑھے چار ماہ کی بندش کے بعد اپنی فضائی حدود گذشتہ ماہ ہی تمام کمرشل پروازوں کے لیے کھولی ہے۔
اس دوران کچھ عرصے کے لیے تو پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رہی تاہم بعد میں اسے جزوی طور پر کھول دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’کرتارپور راہداری پر کام جاری رہے گا‘
ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے منصوبے اور وزیرِ اعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق کرتار پور راہداری کی تکمیل اور افتتاح کے لیے پرعزم ہے۔
انھوں نے بتایا کہ انڈیا نے پاکستان کی تجویز سے اتفاق کیا ہے اور کرتار پور راہداری منصوبے پر کل یعنی 30 اگست کو تکنیکی کمیٹی کی میٹنگ انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر زیرو پوائنٹ کے مقام پر ہو رہی ہے۔
انھوں نے ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بین الاقوامی برادری اور مسلم ممالک کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ردِ عمل کو ’نیم دلانہ‘ تصور نہیں کرتے کیونکہ 50 سال کے بعد یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیرِ بحث آیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پر سیرِ حاصل بحث ہوئی ہے اور یہ مدعا ابھی بند نہیں ہوا ہے، بلکہ اس پر مزید پیشرفت بھی متوقع ہے۔
پاکستان کے چند حلقوں میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کی افواہوں سے متعلق ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان کے اسرائیل کے حوالے سے پالیسی نہایت واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
اپنی بریفنگ میں ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ کی ویب سائٹ پر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے متعلق ایک خصوصی سیکشن شروع کیا گیا ہے جس میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس کے ’یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات‘ عالمی ردِ عمل، میڈیا رپورٹس، ٹوئیٹس، وزیرِ خارجہ کی جانب سے اہم بین الاقوامی تنظیموں کو لکھے گئے خطوط موجود ہوں گے۔
یاد رہے کہ چند دن قبل پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک مرتبہ پھر انڈیا کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کا اشارہ دیا تھا۔
منگل کی شام ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود تک انڈین رسائی بند کرنے کے علاوہ انڈیا کی افغانستان سے تجارت کے لیے پاکستانی زمین کے استعمال پر مکمل پابندی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ 'وزیراعظم، انڈیا کے لیے فضائی حدود مکمل طور پر بند کرنے پر غور کر رہے ہیں اور کابینہ کے اجلاس میں انڈیا کی افغانستان سے تجارت کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے پر بھی بات ہوئی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'ان فیصلوں کے لیے قانونی معاملات زیرِغور ہیں'
فضائی حدود کی گذشتہ بندش سے ایئرلائنز کتنی متاثر ہوئیں؟
فروری میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈیا کے نیم فوجی دستے پر خودکش حملے، بالاکوٹ میں انڈین طیاروں کی بمباری اور پھر پاکستان کی جانب سے انڈین جنگی طیارہ گرائے جانے کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی کے باعث پاکستان کی فضائی حدود تمام کمرشل اور نجی پروازوں کے لیے بند کر دی گئی تھی۔
اس کے کچھ عرصے بعد ملک کی دیگر فضائی حدود تو بحال کر دی گئی تاہم انڈین سرحد کے ساتھ یعنی مشرقی فضائی حدود ایئر ٹریفک کے لیے بند تھی۔
سول ایویشن کی جانب سے فضائی حدود کو کمرشل پروازوں کے لیے جزوی طور پر کھولتے ہوئے بین الاقوامی پروازوں کو پاکستان آمدورفت کے لیے مشرقی سرحد سے بچ کر مغربی سرحد کے ساتھ ایک راستہ دیا تھا جس میں وہ اڑ سکتے تھے۔
اس پابندی سے سب سے زیادہ متاثر یورپ سے جنوب مشرقی ایشیا کی جانب آنے والی وہ بین الاقوامی پروازیں ہوئی تھیں جو انڈین فضائی حدود استعمال کرتی ہیں۔
اس کے نتیجے میں جہاں فضائی کمپنیوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں وہیں پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھا اور کئی پروازیں جو نان سٹاپ تھیں اب انھیں ایندھن کے لیے رکنا پڑتا جس کے مزید اخراجات تھے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان انڈیا کو ہوا تھا کیونکہ مسافت بڑھ جانے کے باعث ایک طرف فضائی کمپنیوں کے اخراجات بڑھ گیے تو دوسری جانب انھیں سفری اخراجات بھی برداشت کرنا پڑے تھے۔
اس بندش کے باعث جہاں انڈین ہوائی کمپینوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا وہی پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو بھی فضائی حدود کے باعث بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑے تھے۔