’ثاقب نثار کے خلاف شکایت ختم کرنے کی وجہ بتائی جائے‘

پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

،تصویر کا کیپشنمیاں ثاقب نثار سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سیکریٹری قانون بھی رہے ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ویمن ایکشن فورم اور سول سوسائٹی کے چند ارکان نے سپریم کورٹ میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف دائر کی جانے والی شکایت کو ختم کرنے کے حوالے سے ایک درخواست دائر کی ہے۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ان وجوہات کے بارے میں آگاہ کرے جس کی بنیاد پر میاں ثاقب نثار کے خلاف دائر کی جانے والے شکایت کو ختم کیا گیا تھا۔

یہ شکایت سول سوسائٹی کی جانب سے گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اس شکایت میں میاں ثاقب نثار پر اقلیتی برادری کی ہندو اور دیگر خواتین کے بارے میں ’نامناسب گفتگو کرنے‘ کے علاوہ وکلا کے ساتھ ’امتیازی سلوک‘، بھاشا ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں عطیات اکٹھے کرنے اور سیاسی معاملات میں ’مداخلت‘ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے رواں برس مارچ میں میاں ثاقب نثار کے خلاف شکایت کو ختم کر دیا تھا۔

جن افراد کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے اس میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد، سابق سینیٹر افراسیاب خٹک، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر، اے این پی کی سابق رہنما بشریٰ گوہر اور صحافی ضیا الدین شامل ہیں۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اُنھیں اس ضمن میں نہ تو سابق چیف جسٹس کے خلاف شکایت سے متعلق ہونے والی کارروائی کے لیے کوئی نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی انھیں ان وجوہات کے بارے میں آگاہ کیا گیا جس کی بنیاد پر میاں ثاقب نثار کے خلاف شکایت کو مسترد کیا گیا۔

جسٹس شوکت صدیقی

،تصویر کا ذریعہIHC

،تصویر کا کیپشنجسٹس شوکت صدیقی کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی

واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل نے بھی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے اب تک اعلیٰ عدلیہ کے جتنے ججوں کے خلاف شکایتوں پر سماعت ہوئی ہے اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے مطابق، جو سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ بھی ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا شکایات کی تعداد 27 ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے قواعد کے مطابق کونسل کی کارروائی ان کیمرہ ہوتی ہے اس لیے لوگوں کو اس میں نہیں بلایا جاتا۔